وائٹ ہاؤ س ملتان: جب ضیاء الحق نے بھٹو صاحب کے تسمے باندھے

نوابزادہ ریاض حسین قریشی کی میّت سابق وزیرِاعلیٰ اور سابق گورنر نواب صادق حسین قریشی کے بنائے ہوئے وائٹ ہاؤ س میں رکھی ہوئی تھی۔ مخدوم شاہ محمود قریشی اپنے ماموں زاد بھائی کی موت کا پُرسہ وصول کر رہے تھے تو مَیں نے اُن سے کہا مخدوم صاحب نواب صادق حسین قریشی کے انتقال کے بعد اُن کے بیٹے نوابزادہ ریاض حسین قریشی نے اس گھر کو ویسے ہی محفوظ کر رکھا تھا جس طرح اُن کے والد نے رکھا تھا۔

یہی وہ تاریخی گھر ہے جہاں پر ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹم بم بنانے کا فیصلہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے پہلی ملاقات کرنے کے بعد کیا تھا۔ میری یہ بات سنتے ہی انہوں نے نہ صرف تائید کی بلکہ نوابزادہ ریاض حسین قریشی کے سوئم کی مجلس میں بھی اس بات کا ذکر کیا کہ ملتان کا یہ وائٹ ہاؤ س تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ ملتان کے اس وائٹ ہاؤ س نے نومبر کے مہینے میں دو صدمے دیکھے، پہلے نوابزادہ عاشق حسین قریشی کا اچانک انتقال اور اس کے دس دن بعد نوابزادہ ریاض حسین قریشی کی موت۔

نوابزادہ عاشق حسین قریشی نے اپنے لیے سیاست کی بجائے خدمتِ خلق اور کرکٹ کا میدان چنا۔ عمران خان نے جب تحریکِ انصاف نہیں بنائی تھی تو نواب عاشق حسین تب بھی اُن کے دست و بازو تھے۔ اور جب شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر ہوئی تو اس کی فنڈ ریزنگ میں ہمیشہ عاشق حسین قریشی آگے آگے ہوتے تھے۔ جبکہ ریاض حسین قریشی نے اپنے لیے سیاست کا میدان چنا لیکن کامیابی نہ حاصل کر سکے۔ ان کی پہچان ان کے والد گرامی ہی رہے اور پھر وہ وائٹ ہاؤس کے ہی مکین کے طور پر فخر کرتے رہے۔

بھلے وقتوں میں ملتان کے دو وائٹ ہاؤس ہوتے تھے۔ پہلا طارق روڈ پر نامور قانون دان میاں احسن قریشی کا، دوسرا پنجاب کے سابق گورنر و وزیراعلیٰ نواب صادق حسین قریشی کا پرانا شجاع آباد روڈ پر کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ ہوتا تھا۔ طارق روڈ والے وائٹ ہاؤ س پر اب ڈاکٹر بلال احسن قریشی رہائش پذیر ہیں جو ماہرِ امراضِ قلب کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے اس وائٹ ہاؤ س کو ریڈ برکس لگا کر تبدیل کر دیا ہے جبکہ نواب صادق حسین قریشی والا وائٹ ہاؤس ہر وقت پت جھڑ کی زد میں رہتا ہے۔ وسیع و عریض رقبے پر مشتمل یہ وائٹ ہاؤس اپنے اندر بہت سے پھلوں اور پھولوں کے درخت اور پودے رکھتا ہے۔ وائٹ ہاؤ س کے باہر سے اگرچہ بارش اور دھوپ کی وجہ سے اس کی خوبصورتی کم ہو چکی ہے لیکن گھر کے اندر داخل ہوتے ہی رہنے والوں کا ذوق دکھائی دیتا ہے۔ وہی سلیقہ، صفائی، ترتیب اور تہذیب جس کو نواب صادق حسین قریشی اور ان کی اہلیہ نے یہ گھر بناتے ہوئے اپنایا تھا۔

کچھ عرصہ قبل ایک ٹی وی پروگرام کی تیاری کے سلسلے میں جب مَیں وہاں گیا تو وہاں پر نواب صادق حسین قریشی کے بیٹے نواب ریاض حسین قریشی نے اپنے ایک قدیمی ملازم کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ وائٹ ہاؤ س کے متعلق ہمیں معلومات دے گا۔ نواب صادق حسین قریشی کا وہ ملازم ان تمام فیصلوں کا عینی شاہد تھا جو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ملتان کے وائٹ ہاؤس میں بیٹھ کر کیے۔ یہ تمام واقعات 1976 کے ہیں جب ملتان میں جنرل ضیاءالحق کورکمانڈر تھے۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو انتخابات کی تیاری کے سلسلے میں ملتان آئے ہوئے تھے اور ان کے تمام اجلاس وائٹ ہاؤس میں منعقد ہو رہے تھے۔ صادق حسین قریشی ان دنوں بھٹو کے معتمدِ خاص تھے۔ ہر مشورے میں ان کے قریب ہوتے تھے۔

ایک طرف غلام مصطفی کھر تو دوسری طرف نواب صادق حسین قریشی۔ ملتان کے ہر بڑے خانوادے کے متحرک سیاست دان وائٹ ہاؤس کے مختلف لانز میں بکھرے ہوئے تھے۔ اور وہ ذوالفقار علی بھٹو کے اس اشارے کے منتظر تھے کہ وقت کا بادشاہ ان کو طلب کرے۔ انتظار کرنے والوں میں ایک طرف سیاست دان تھے تو دوسری طرف جنرل ضیاء بھی موجود تھے۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو کو اپنی وفاداری کا یقین دلانے کے لیے گھنٹوں سے موجود تھے۔ بھٹو صاحب آنے والے انتخابات کی تیاری بھی کر رہے تھے اور اس میں حصہ لینے والوں کی فہرستوں کے متعلق مشاورت بھی۔
وائٹ ہاؤس میں نواب صادق حسین قریشی نے ایک کمرہ ذوالفقار علی بھٹو کے لیے مختص کیا ہوا تھا جہاں وہ اجلاس کرتے کرتے اچانک اٹھ کر چلے جاتے اور آرام کرتے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بھی ایٹم بم بنانے کا مینڈیٹ اسی وائٹ ہاؤس کے اس کمرے میں ون ٹو ون ملاقات میں دیا گیا جہاں کوئی تیسرا شخص موجود نہ تھا۔ البتہ میزبان نواب صادق حسین قریشی کو علم تھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو کیا ذمہ داری سونپی جا رہی ہے۔
ملتان کے اس وائٹ ہاؤس کے مختلف حصوں میں آج بھی ذوالفقار علی بھٹو، نصرت بھٹو، شہنشاہِ ایران، معمر قذافی اور دیگر عالمی لیڈروں کی تصاویر کے فریم آویزاں ہیں۔ میرا خیال تھا کہ نواب صادق حسین قریشی جنہوں نے بھٹو کی پھانسی کے بعد جنرل ضیاء کی حمایت کا اعلان کیا تھا انہوں نے اپنے وائٹ ہاؤس سے جنرل ضیاء کو خوش کرنے کے لیے وہ تصاویر اتار دی ہوں گی لیکن میرے لیے وہ بات بڑی حیران کن ثابت ہوئی کہ پورے وائٹ ہاؤس میں آج بھی کوئی ایک تصویر بھی جنرل ضیاءکی نہیں لگی تھی البتہ ذوالفقار علی بھٹو کی بےشمار تصاویر وہاں پر آویزاں ہیں جن کی باقاعدہ آج بھی حفاظت کی جاتی ہے اور ان تصاویر میں ایک پینٹنگ نامور مصور صادقین کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ’بسم اﷲ الرحمن الرحیم‘ بھی لگی ہوئی ہے جس سے نواب صادق حسین قریشی کے ذوق کا پتہ چلتا ہے۔
مجھے یاد آ رہا ہے کچھ عرصہ قبل صادق حسین قریشی کے بیٹے نواب ریاض حسین قریشی نے فون کیا کہ بہانہ تو کھانا کھانے کا ہے اگر آپ کچھ وقت وائٹ ہاؤس میں گزاریں تو ہمیں خوشی ہو گی۔ نواب ریاض حسین قریشی سے ہمارا تعارف برادرم قسور سعید مرزا نے کرایا تھا۔ مقررہ وقت پر پہنچا تو مجھ سے پہلے سید عرفان نقوی بھی قسور سعید مرزا کی باتیں سن کر قہقہے لگا رہے تھے۔ قسور سعید مرزا کا شمار پیپلز پارٹی کے ان سابقہ رہنماؤں میں ہوتا ہے جو ذوالفقار علی بھٹو کی محبت کے اسیر ہوئے۔ بینظیر بھٹو کے ساتھ جدوجہدِ جمہوریت میں جیل کاٹی اور سردار فاروق لغاری کے ساتھ وفاداری نبھاتے ہوئے پیپلز پارٹی کو خیرباد کہہ گئے۔ آج کل وہ پیپلز پارٹی کے شدید ناقد ہیں لیکن ان کے بیشمار دوستوں کی تعداد اب بھی پیپلز پارٹی میں موجود ہے لیکن وہ بھولے سے بھی اس پارٹی کے لیے کلمہ خیر نہیں کہتے جس پارٹی نے ان کو پہچان دی، عزت دی، احترام دیا۔
بات کہاں سے کہاں نکل گئی مَیں آپ کو یہ بتانا چاہ رہا تھا کہ اس کھانے میں مَیں نے نواب صادق حسین قریشی کے بیٹے نواب ریاض حسین قریشی سے اس واقعے کے متعلق پوچھا جس کا تذکرہ حیدر جاوید سیّد نے اپنے مضمون میں کیا۔ انہوں نے لکھا کہ بھٹو صاحب نے وائٹ ہاؤس ملتان میں بہاولپور اور ڈی جی خان کے اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلا رکھا تھا۔ جنرل ضیاالحق ان دنوں ملتان کے کورکمانڈر تھے۔ وہ بھی بھٹو صاحب سے ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچ گئے۔ وہاں پہنچنے پر انہیں معلوم ہوا کہ وزیراعظم اندر اجلاس میں مصروف ہیں۔ انہوں نے صادق قریشی کے ملازمین سے کہا کہ وہ یہیں لان میں وزیراعظم کے اجلاس سے فارغ ہونے کا انتظار کر لیتے ہیں۔

لان میں ٹہلتے ٹہلتے جنرل ضیا نے سگریٹ سلگا لیا۔ ابھی دو چار کش ہی لگا پائے تھے کہ وزیراعظم کمرہ اجلاس سے نکل کر باہر آ گئے۔ جنرل ضیا نے بھٹو کو لان کی طرف بڑھتے دیکھا تو سلگا ہوا سگریٹ اپنے کوٹ کی جیب میں ڈال کر بجھا لیا۔ دوسری طرف بھٹو لان میں چند قدم چلے تو انہیں احساس ہوا کہ ان کے ایک بوٹ کا تسمہ کھلا ہوا ہے۔ وہ ایک دم پلٹے اور پاس پڑی ہوئی کرسی پر اپنا پاؤں رکھ کر تسمہ باندھنا ہی چاہتے تھے کہ دو ہاتھ آگے بڑھے اور تسمہ باندھ دیا۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے سر اٹھا کر دیکھا تو سامنے ضیاالحق کھڑے تھے۔ مسٹر ضیا یہ آپ نے کیا کیا؟ سر آپ ہمارے محبوب قائد اور عالمِ اسلام کے دبنگ رہنما ہیں۔ ضرورت پڑنے پر مَیں آپ کے لیے جان بھی دے سکتا ہوں۔ یہ کہتے ہوئے ضیاالحق نے دونوں ہاتھ سینے پر ادب سے رکھ کر سر جھکا لیا۔ اس سارے قصے کا دلچسپ پہلو یہ تھا کہ کسی ستم ظریف فوٹوگرافر نے ضیاءالحق کی دونوں اداؤ ں کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لیا۔

5 جولائی 1977 کو مارشل لا نافذ ہوا اور 6 جولائی کو صبح سویرے فوج اور پولیس کی بھاری نفری نے صادق حسین قریشی کے وائٹ ہاؤس پر دھاوا بول دیا۔ انہیں ان دو تصاویر کی تلاش تھی جو نواب صاحب کو کسی فوٹوگرافر نے تحفے میں دی تھی۔ مالکوں کے نوکر مالکوں سے سیانے ہوتے ہیں۔ نواب صاحب کے ایک ملازم نے جب فورسز کو گھر کا گھیراؤ کرتے دیکھا تو اس نے دونوں تصویریں کسی جگہ چھپا دیں۔ گھنٹہ بھر گھر کی تلاشی ہوئی۔ تصاویر نہ ملنا تھیں نہ ملیں۔ بالآخر سرکاری لشکر ناکام و نامراد واپس چلا گیا۔

مَیں نے اس تمام واقعے کی نواب ریاض حسین قریشی سے تصدیق چاہی، نواب صاحب بھی تو نواب صادق قریشی کے بیٹے تھے مسکرا دیے، چپ رہے۔ شاید وہ کسی کا پردہ رکھنا چاہتے تھے۔ اور اس کے بعد انہوں نے ہمارے سامنے اپنے باغوں سے آیا ہوا چونسہ آم کاٹ کر رکھا کہنے لگے آپ آم کھائیں پیڑ مت گنیں۔ آموں کے موسم میں صرف آم کھایا کریں کہ یہ تحفہ سال بعد ہی نصیب والوں کو ملتا ہے۔
( بشکریہ : روزنامہ ایکسپریس )