امریکی ایوان نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی قرارداد منظور کرلی
- جمعرات 19 / دسمبر / 2019
- 5160
امریکی ایوان نمائندگان میں باضابطہ طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی کا آغاز ہوگیا اور ان کے خلاف 2 قراردادیں منظور کرلی گئیں۔ اس طرح وہ امریکی تاریخ کے تیسرے چیف ایگزیکٹو بن گئے جو مواخذے کا سامنا کر رہے ہیں۔
پارٹی لائن پر منقسم ایوان نمائندگان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کا تاریخی قدم اٹھایا ہےاور ان پرسنگین جرائم اور نامناسب رویے کا الزام لگایا ہے۔ مواخذے کی کارروائی کے دوران ایوان نمائندگان نے امریکی صدر کو ہٹانے کے لیے 2 قراردادوں میں اختیارات کے غلط استعمال اور کانگریس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے معاملے پر ووٹنگ کی۔ جس کے بعد یہ معاملہ ٹرائل کے لیے سینیٹ میں بھیجا جائے گا جہاں آئندہ ماہ ٹرائل شروع ہونے کا امکان ہے۔
صدر ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے یوکرائن پر سیاسی حریف کی تحقیقات کے لیے دباؤ ڈالا اور امریکی سیکیورٹی امداد روک دی۔ ان دو قرار دادوں پر ووٹنگ میں ری پبلیکن نمائیندوں نے صدر ٹرمپ کی حمایت کی۔ مواخذے کی کارروائی کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ ان امریکی صدور میں شامل ہوگئے ہیں جن پر سنگین جرائم اور نامناسب رویے کے لیے ایوان کی جانب سے مواخذہ کیا گیا تھا۔
1868 میں امریکی صدر انڈریو جوہنسن اور 1998 میں صدر بل کلنٹسن 2 ایسے امریکی صدور تھے جنہیں مواخذے کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ 1974 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن نے مواخذے کی کارروائی سے پہلے ہی استعفیٰ دے دیا تھا۔ دونوں سابق امریکی صدور کو سینیٹ کی جانب سے بری کردیا گیا تھا جبکہ اس بات کا بھی بہت کم امکان ہے کہ ریپبلکن کی اکثریت میں موجود سینیٹ ٹرمپ کو ان کے عہدے سے ہٹائے گی۔
ایوان نمائندگان سے مواخذے کے بعد امریکی سینیٹ میں جنوری سے ٹرائل کا امکان ہے، جہاں مواخذے کے لیے 2 تہائی اکثریت ہونا ضروری ہے۔ ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کے مواخذے کے لیے ڈیموکریٹس کے پاس اکثریت تھی لیکن ایوان بالا (سینیٹ) میں امریکی صدر کی جماعت ریبپلکن کو اکثریت حاصل ہے۔
جس وقت امریکی ایوان نمائندگان میں امریکی صدر کے خلاف مواخذے کی قراردادوں پر ووٹنگ ہورہی تھی اس دوران ڈونلڈ ٹرمپ ریاست مشی گن میں ایک ریلی سے خطاب کررہے تھے۔ ٹرمپ نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’نینسی پیلوسی کے ڈیموکریٹس نے خود پر شرمندگی کا دائمی داغ لگوالیا ہے۔ یہ توہین ہے‘۔
ریلی کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹس پر برہمی کا اظہار کیا، ان کی کوششوں کو ’ غیر قانونی ‘ قرار دیا اور ڈیموکریٹس پارٹی پر ووٹرز کے خلاف ’ شدید نفرت‘ کا مظاہرہ کرنے کا الزام لگایا۔
ریلی سے قبل امریکی صدر نے متعدد ٹوئٹ بھی کیے تھے جن میں انہوں نے کہا کہ ’ انتہائی بائیں بازو کی جماعت کی جانب سے ایسے سنگین جھوٹ، یہ امریکا پر حملہ ہے اور ری پبلکن پارٹی پر حملہ ہے‘۔