پرویز مشرف نے ٹرائل سے فرار کی کوشش کی: خصوصی عدالت کا تفصیلی فیصلہ

  • جمعرات 19 / دسمبر / 2019
  • 4370

پاکستان کے سابق صدر اور آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو خصوصی عدالت کی طرف سے سزائے موت پر تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

تفصیلی فیصلے میں عدالت کا کہنا ہے کہ جمع کرائے گئے دستاویزات سے واضح ہے کہ ملزم نے جرم کیا۔ تمام الزامات کسی شک و شبہے کے بغیر ثابت ہوتے ہیں لہذا ملزم کو ہر الزام پر علیحدہ علیحدہ سزائے موت دی جاتی ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ ہائی ٹریزن ایکٹ 1973 کے تحت پرویز مشرف کو پھانسی کی سزا سنائی جاتی ہے ۔ بینچ کے سربراہ جسٹس وقار احمد سیٹھ کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کی پھانسی کی سزا پر ہر صورت عمل درآمد کرایا جائے۔ پرویز مشرف کے انتقال کی صورت میں لاش گھسیٹ کر ڈٰی چوک پر لائی جائے اور دن تک ڈی چوک پر لٹکائی جائے۔ جسٹس شاہد کریم نے لاش ڈی چوک پرلٹکانے کے حکم سے اختلاف کیا جبکہ جسٹس نذراکبر نے فیصلہ سے اختلاف کرتے ہوئے پرویز مشرف کو بری کیا ہے۔

دو ججز کے مشترکہ فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ جمع کرائی گئی دستاویزات سے واضح ہے کہ ملزم نے جرم کیا۔ ملزم پر تمام الزامات کسی شک و شبہ کے بغیر ثابت ہوتے ہیں۔ ملزم کو ہر الزام پر علیحدہ علیحدہ سزائے موت دی جاتی ہے۔ عدالت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مشرف کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔  فیصلہ میں کہا گیا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے۔ سزائے موت کا فیصلہ ملزم کو مفرور قرار دینے کے بعد ان کی غیر حاضری میں سنایا گیا۔ عدالتی فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف کو مفرور کرانے میں ملوث افراد کو قانون میں دائرے میں لایا جائے۔ ان کے کریمنل اقدام کی تفتیش کی جائے۔

فیصلہ میں کہا گیا کہ آئین، عوام اور ریاست کے درمیان ایک معاہدہ ہے۔ استغاثہ کے شواہد کے مطابق ملزم مثالی سزا کا مستحق ہے۔ غداری کیس 2013 میں شروع ہوکر چھ سال بعد ختم ہوا۔ پرویز مشرف کو ان کے حق سے بھی زیادہ شفاف ٹرائل کا موقع دیا گیا۔ پرویز مشرف کو فیئر ٹرائل کا بھرپور موقع دیا گیا۔ مقدمہ 2019 تک فیصلے کا منتظر رہا۔  اس کیس کے حقائق دستاویزی ہیں۔ مجرم کے فرار میں ملوث افراد کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے۔

جسٹس نذراکبر نے44 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف عومل اس کیس میں شامل تھے جن میں پرویز مشرف کی طرف سے ایمرجنسی نافذ کرنے کے وقت ان کے ساتھ موجود دیگر افراد کو اس کیس میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ ججز بحالی کیسی ہوئی۔ کس کا ٹیلی فون اعتزاز احسن کو آیا۔ ججز بحالی کا اعلان ہونے کے بعد بھی پانچ دن بعد انہیں بحال کیا گیا۔ ایسے بہت سے سوالات کیس میں موجود ہیں۔

اس فیصلہ کے بعد سابق صدر پرویزمشرف کے لیے ایک اور مشکل بھی پیدا ہوئی ہے کیونکہ خصوصی عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ پرویز مشرف کو اپیل کرنے سے پہلے گرفتاری دینا ہو گی۔ عدالتی حکم کے بعد سرنڈر کیے بغیر مشرف اپیل نہیں کر سکتے۔ عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ اس کیس سے متعلق ریکارڈ رجسٹرار کی تحویل میں رکھا جائے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ سنگین غداری کا ٹرائل ان لوگوں کے لیے آئین کی ضرورت ہے جو کسی بھی وجہ سے آئین کو کمزور کریں یا اسے کمزور کرنے کی کوشش کریں۔ لہٰذا یہ عدالت استغاثہ کی جانب سے ملزم کے خلاف پیش کیے گئے ناقابل تردید، ناقابل تلافی اور ناقابل اعتراض ثبوتوں کو دیکھنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی کہ واقعی ملزم نے جرم کیا ہے اور وہ مثالی سزا کا مستحق ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ مقدمے کا سامنا کرنے والے ملزم کے عمل اور برتاؤ سے یہ واضح ہے کہ اس مقدمے کے شروع سے ہی ملزم نے اس میں تاخیر، پیچھے ہٹنے اور حقیقت میں اس سے بچنے کے لیے مستقل کوشش اور ضد کی۔ ساتھ ہی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ ان کی درخواست رہی کہ وہ صحت کی خرابی یا سیکیورٹی کے خطرات کی وجہ سے مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے عدالت تک نہیں پہنچ سکتے۔

تفصیلی فیصلے کےمطابق اگر ایک لمحے کے لیے یہ تصور کیا جائے کہ کور کمانڈرز سمیت اعلیٰ فوجی کمانڈ اس میں ملوث نہیں تو پھر کیوں وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 1973 کے آئین کا دفاع اور تحفظ کرنے میں ناکام رہے۔ اور ایک وردی پوش شخص کو آئین شکنی سے نہ روکا۔ اس وقت کی کورکمانڈرز کمیٹی ساتھ تمام دیگر وردی والے افسران، جنہوں نے انہیں ہر وقت تحفظ فراہم کیا وہ ملزم کے عمل اور قدم میں مکمل اور برابر کے شریک ہیں۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ مفرور/مجرم کو پکڑنے کے لیے اپنی بھرپور کوشش کریں اور اسے یقینی بنائیں کہ انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے اور اگر وہ وفات پاجاتے ہیں تو ان کی لاش کو گھسیٹ کر اسلام آباد میں ڈی چوک پر لایا جائے اور 3 دن کے لیے لٹکایا جائے'۔

17 دسمبر کو دیے گئے مختصر عدالتی فیصلے پر سابق صدر کا ردعمل سامنے آیا تھا اور انہوں نے کہا تھا کہ ان کے خلاف کچھ لوگوں کی ذاتی عداوت کی وجہ سے کیس بنایا اور سنا گیا جس میں فرد واحد کو ٹارگٹ کیا گیا۔ عدالت کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے پرویز مشرف نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ 'خصوصی عدالت نے میرے خلاف آرٹیکل 6 کا جو فیصلہ سنایا وہ میں نے ٹی وی پر پہلی بار سنا۔ یہ ایسا فیصلہ ہے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی کہ مدعا علیہ اور نہ اس کے وکیل کو اپنے دفاع میں بات کرنے کی اجازت نہیں ملی۔'

عدالتی فیصلے پر پاک فوج کا بھی سخت ردعمل سامنے آیا تھا اور کہا گیا تھا کہ عدالتی فیصلے پر افواج پاکستان میں شدید غم و غصہ اور اضطراب ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ  کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ 'پرویز مشرف آرمی چیف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور صدر مملکت رہے اور 40 سال سے زیادہ پاکستان کی خدمت کی۔ جنرل (ر) پرویز مشرف نے ملک کے دفاع کے لیے جنگیں لڑی ہیں اور وہ کسی صورت میں بھی غدار نہیں ہو سکتے۔'