فیصلے کے الفاظ انسانیت، تہذیب اور مذہب سے بالاتر ہیں: میجر جنرل آصف غفور
- جمعرات 19 / دسمبر / 2019
- 5570
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ خصوصی عدالت کی جانب سے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کے آج سامنے آنے والے تفصیلی فیصلے نے فوج کے خدشات کو درست ثابت کردیا ہے۔
میجر جنرل آصف غفور نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا تفصیلی فیصلہ کسی بھی تہذیب و اقدار سے بالاتر ہے۔ چند لوگ آپس میں لڑوانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان ایک منظم ادارہ ہے۔ ہم ملکی سلامتی کو قائم رکھنے اور اس کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے حلف بردار ہیں۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ ہم آج ہائبرڈ وار کا سامنا کررہے ہیں تو ہمیں اس بدلتی ہوئی جنگ کا بھرپور احساس ہے اس میں دشمن، اس کے سہولت کار، آلہ کار کا کیا طریقہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی وزیراعظم عمران خان سے تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔
خصوصی عدالت نے آج (بروز جمعرات) سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جس میں 2 ججز نے سابق صدر کو غداری کا مرتکب قرار دیتے ہوئے موت کی سزا دی ہے۔ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار سیٹھ، لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نذر اکبر پر مشتمل بینچ نے اس کیس کا فیصلہ 2 ایک کی اکثریت سے سنایا تھا۔
آج اس کیس کا 167 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا، جس میں جسٹس نذر اکبر کا 44 صفحات کا اختلافی نوٹ بھی شامل ہے۔ عدالت کا تفصیلی فیصلہ جسٹس وقار سیٹھ نے تحریر کیا ہے اور ان کے ساتھ جسٹس شاہد کریم نے معاونت کی۔ تاہم جسٹس شاہد کریم نے سزا سے اتفاق کیا لیکن انہوں نے فیصلے میں شامل پیراگراف 66 سے اختلاف کیا، جس میں مشرف کے سزا سے پہلے وفات پانے کی صورت میں 'ڈی چوک پر گھسیٹ کر لانے اور 3 دن تک لٹکانے' کا ذکر کیا گیا ہے۔
گزشتہ روز عدالتی فیصلے پر بھی پاک فوج کا بھی سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔ آئی ایس پی آر کے میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹوئٹ پیغام میں کہا تھا کہ 'پرویز مشرف آرمی چیف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور صدر مملکت رہے اور 40 سال سے زیادہ پاکستان کی خدمت کی۔ جنرل (ر) پرویز مشرف نے ملک کے دفاع کے لیے جنگیں لڑی ہیں اور وہ کسی صورت میں بھی غدار نہیں ہو سکتے۔'
خیال رہے کہ سابق فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف نے 3 نومبر، 2007 کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے 1973 کے آئین کو معطل کردیا تھا جس کی وجہ سے چیف جسٹس آف پاکستان سمیت اعلیٰ عدالت کے 61 ججز فارغ ہوگئے تھے۔
بعد ازاں 2013 میں جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف وفاقی حکومت کی جانب سے وزارتِ داخلہ کے ذریعے سنگین غداری کیس کی درخواست دائر کی گئی تھی، جسے خصوصی عدالت نے 13 دسمبر 2013 کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے سابق صدر کو اسی سال 24 دسمبر کو طلب کیا تھا۔
اس کیس میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے نومبر 2013 میں ایڈووکیٹ اکرم شیخ کو استغاثہ ٹیم کا سربراہ مقرر کیا تھا۔
ابتدائی طور پر جنرل (ر) پرویز مشرف کی قانونی ٹیم نے ایڈووکیٹ اکرم شیخ کی بطور چیف پراسیکیوٹر تعیناتی چیلنج کی گئی تھی لیکن غداری کیس کے لیے مختص خصوصی عدالت کے ساتھ ساتھ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس چیلنج کو مسترد کردیا تھا۔