مسئلہ کشمیر پر اختلاف: بھارتی وزیر خارجہ کی امریکی کانگرس ارکان سے ملاقات نہیں ہوسکی
- جمعہ 20 / دسمبر / 2019
- 5390
بھارت کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے امریکی کی جانب سے مسئلہ کشمیر میں بھارتی اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنانے ا پر امریکی کانگریس کے سینئر اراکین سے ملاقات منسوخ کردی ہے۔
بھارت نے مطالبہ کیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات اور پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے والی کانگریس کی خاتون رکن کو ملاقات میں شریک افراد کی فہرست سے نکال دیا جائے۔ بھارت کو اس وقت سُبکی کا سامنا کرنا پڑا جب امریکا نے یہ مطالبہ مسترد کردیا جس پر بھارت نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ردعمل کے طور پر امریکی ایوان نمائندگان کے اراکین سے ملاقات منسوخ کردی۔
واشنگٹن کے دورے کے دوران بھارتی وزیر خارجہ کو ایوان کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین کے نمائندے ایلیٹ ایل اینجل، کمیٹی میں شامل اہم ریپبلیکن رکن مائیکل میک کول اور دیگر سے ملاقات کرنا تھی۔ حال ہی میں امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹ کی خاتون رکن کانگریس پرامیلا جایاپال اور ریپبلکنز کے رکن اسٹیو واٹکنز نے ایک قرارداد میں مطالبہ کیا تھا کہ بھارت، مقبوضہ کشمیر میں مواصلات پر عائد پابندیاں ختم کرے اور جلد از جلد وادی کا محاصرہ کرکے تمام شہریوں کو مذہبی آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق دے۔
اقوام متحدہ نے مقبوضہ کشمیر میں لائن کنٹرول پر نئی دہلی کی جانب سے میزائل نصب کرنے کے بعد عوامی اور فوجی قیادت نے عالمی برادری کو بھارت کے جارحانہ اور اشتعال انگیز عزائم سے خبردار کیا ہے۔
اس حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہم نے حال ہی میں اقوام متحدہ کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ وادی میں لائن آف کنٹرول پر میزائل لانچر نصب کرنے کے اقدام کے حوالے سے خط لکھ کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ بھارت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر حملہ کر سکتا ہے۔