امریکہ نے پاکستانی فوجیوں کا تربیتی پروگرام بحال کردیا

  • جمعہ 20 / دسمبر / 2019
  • 8210

امریکی حکومت نے اپنے فوجی تربیتی اور تعلیمی پروگرام میں پاکستان فوج کے افسران کی شمولیت کی بحال کردی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انٹر نیشنل ملٹری ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ پروگرام (آئی ایم ای ٹی) میں پاکستانی فوج کے افسران کی شمولیت پر گزشتہ برس اگست میں پابندی عائد کی تھی۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے ایک ای میل میں کہا ہے کہ پاکستان کے لیے امریکی فوجی تربیتی پروگرام میں شمولیت کی بحالی کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعاون کا فروغ اور مشترکہ ترجیحات کو موقع فراہم کرنا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ہم ٹھوس اقدامات کے ذریعے ایسی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں جس سے خطے کی سیکیورٹی اور استحکام کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔ امریکی فوجی تربیتی پروگرام میں پاکستان کی شمولیت کی بحالی کا فیصلہ ایسے موقع پر سامنے آیا ہے کہ جب رواں سال امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کے درمیان دو ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔

ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ پاکستان نے فوجی پروگرام میں شرکت کے لیے افسران کا انتخاب کرنا شروع کر دیا ہے جنہیں امریکہ روانہ کیا جائے گا۔ پاکستان کے لیے فوجی تربیتی پروگرام میں شرکت کی بحالی کانگریس کی منظوری سے مشروط ہے۔ امریکی سینیٹ اور ایوان نمائندگان کی متعلقہ کمیٹیوں کے ری پبلکن اور ڈیموکریٹک ارکان نے فوری طور پر امریکی حکومت کے اس فیصلے پر بیان نہیں دیا ہے۔

آئی ایم ای ٹی پروگرام کے تحت امریکہ کے فوجی تعلیمی اداروں، آرمی وار کالج اور نیوی وار کالج میں غیر ملکی فوجی افسران تربیت حاصل کرتے ہیں۔ سینیٹ کی منظوری کے بعد پاکستانی فوج کے افسران امریکہ میں فوجی تربیتی پروگرام کا حصہ بن سکیں گے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگست 2018 میں پاکستان کی سیکیورٹی امداد روکنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد پاکستان فوج کے افسران پر مشتمل دستہ امریکی فوجی تربیتی پروگرام میں شرکت نہیں کر سکا تھا۔

غیر ملکی فوجی دستوں کی امریکہ کے فوجی تربیتی اداروں میں شرکت امریکی فوج کی روایت ہے۔ پاکستان کے فوجی دستے اس سے قبل بھی یہاں تربیت حاصل کرتے رہے ہیں۔