بھارت میں شہریت قانون کے خلاف احتجاج میں تین افراد ہلاک، موبائل انٹرنیٹ سروس معطل

  • جمعہ 20 / دسمبر / 2019
  • 8450

بھارت میں شہریت کے نئے متنازع قانون کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعرات کو تین مظاہرین کی ہلاکت کے ردعمل میں جمعہ کو مزید مظاہروں کی کال دی گئی ہے۔ اس حوالے سے سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے والے ہزاروں افراد پہلے ہی پولیس کی حراست میں ہیں۔ جمعہ کو دہلی میں جامعہ مسجد سے جنتر منتر تک ریلی نکالنے کی کال دی گئی ہے اور حکام نے احتجاج کے خدشے کے پیشِ نظر شہر میں چلنے والی میٹرو ٹرین کے متعدد سٹیشن بند کر دیے ہیں۔ حکومت نے ملک کے بیشتر شہروں خصوصاً دارالحکومت نئی دہلی میں احتجاج اور مظاہرے کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور اس پابندی کا نفاذ کرناٹک اور اترپردیش کی ریاستوں میں بھی کیا گیا ہے۔

دہلی کے مظاہروں سے متاثرہ علاقوں کے قریب و جوار میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔ نئے متنازع شہریت کے قانون کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے غیر مسلم مہاجرین کو انڈیا کی شہریت دی جائے گی مگر مسلمانوں کو نہیں۔ ان قوانین کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون انڈیا کی سیکولر شبیہ کو نقصان پہنچائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ شہریت کے لیے مذہب کو بنیاد بنانا درست نہیں تاہم وزیراعظم نریندر مودی نے ان خدشات کو بےبنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ حزبِ اختلاف اس قانون کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلا رہی ہے۔

جمعرات کو ہونے والی ہلاکتوں میں سے دو ریاست کرناٹک کے شہر بنگلور جبکہ ایک اترپردیش کے شہر لکھنؤ میں ہوئی۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق بنگلور میں دو افراد پولیس کی فائرنگ سے مارے گئے۔ پولیس کمشنر پی ایس ہارشا نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ جمعہ کو شہر میں صورتحال قابو میں ہے، شہر میں کرفیو نافذ ہے اور تعلیمی ادارے بند ہیں۔

احتجاج کے دوران تیسری ہلاکت لکھنؤ شہر میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے نتیجے میں ہوئی۔ اس احتجاج کے دوران مظاہرین نے متعدد بسیں بھی نذرِ آتش کیں۔  انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں احتجاج کے بعد انٹرنیٹ سروس 45 گھنٹوں کے لیے معطل کی گئی  اور ریاست کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا ہے کہ پرتشدد واقعات میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

مظاہروں اور احتجاج پر عائد پابندی کی خلاف ورزی پر حراست میں لیے گئے ان افراد میں جنوبی شہر بنگلور کے ممتاز مؤرخ اور حکومت کے نقاد رام چندر گوہا اور دہلی سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکن یوگیندرا یادیو بھی شامل ہیں۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے رام چندر گوہا کی گرفتاری کی کی مذمت کرتے ہوئے ٹویٹ کیا ہے کہ ’حکومت طلبا سے خوفزدہ ہے، حکومت انڈیا کے معروف مؤرخ کے گاندھی جی کا پوسٹر ہاتھ میں اٹھائے میڈیا سے بات کرنے پر خوفزدہ ہے۔ میں رام گوہا کو حراست میں لیے جانے کی مذمت کرتی ہوں۔ ہم تمام گرفتار کیے گئے افراد کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔‘

سیاسی جماعت سوارج سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکن یوگیندر یادیو نے پولیس حراست کے دوران ٹویٹ کرتے ہوئے عوام کو احتجاج جاری رکھنے اور دہلی کے علاقے جنتر منتر پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے ٹویٹ میں کہا کہ ’وہ لوگ جو گرفتاری سے بچ گئے ہیں وہ جنتر منتر پہنچیں اور احتجاج جاری رکھیں۔ میں حراست سے آزاد ہوتے ہی سیدھا جنتر منتر آؤں گا۔‘ شہریت ترمیمی ایکٹ کے نام سے اس نئے قانون نے انڈیا میں عوامی رائے کو واضح طور پر تقسیم کیا ہے۔

(رپورٹ: بی بی سی اردو)