عدلیہ کے خلاف گھناؤنی مہم شروع کی گئی ہے: چیف جسٹس

  • جمعہ 20 / دسمبر / 2019
  • 6940

چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے اپنی سبکدوشی سے قبل خطاب میں کہا ہے کہ عدلیہ کے خلاف گھناؤنی مہم شروع کی گئی ہے لیکن سچ ہمیشہ غالب ہوتا ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی جانب سے یہ ریمارکس سپریم کورٹ میں فل کورٹ ریفرنس سے خطاب میں دیے۔  فل کورٹ ریفرنس ان کی ریٹائرمنٹ کے سلسلے میں منعقد کیا گیا تھا۔ یہ ریمارکس خصوصی عدالت کے سنگین غداری کیس میں تفصیلی فیصلے کے ایک روز بعد سامنے میں آئے جس میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ پاکستان کے 26ویں چیف جسٹس کے عہدے سے آج سبکدوش ہوجائیں گے۔ جس جسٹس گلزار احمد کل (ہفتہ) چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

عدالت عظمیٰ کے کمرہ نمبر ایک میں چیف جسٹس کے اعزاز میں منعقدہ فل کورٹ ریفرنس میں سپریم کورٹ کے ججز، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کے صدر شریک ہوئے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چھٹی پر ہونے کے باعث اس فل کورٹ ریفرنس میں شریک نہ ہوسکے۔ اٹارنی جنرل انور منصور خان بھی بیرون ملک ہونے باعث اس ریفرنس میں شریک نہیں ہوئے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے ان کی نمائندگی کی۔

فل کورٹ ریفرنس سے خطاب میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ انہوں نے بطور جج ہمیشہ اپنے حلف کی پاسداری کی۔ قانونی تقاضوں کے مطابق بغیر خوف اور جانبداری فیصلے کیے۔ میں نے ہمیشہ وہی کیا جسے میں درست سمجھتا تھا اور اسے کرنے کے قابل تھا۔ میرے لیے یہ اہم نہیں کہ دوسروں کا ردعمل یا نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔

ریفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے کام پر 100 فیصد توجہ دی  اور اپنے قلم کے ذریعے بات کی۔ کبھی بھی فیصلے کو غیرموزوں طور پر موخر نہیں کیا اور اپنی زندگی کے بہترین برسوں کو عوامی خدمت میں وقف کرنے کے بعد آج میرا ضمیر مطمئن ہے۔  انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے عہدے کے حلف کی پاسداری اور قانون کے مطابق بلاخوف یا حمایت کے انصاف فراہم کرنے کی کوشش کی۔

چیف جسٹس نے فہمیدہ ریاض کی لکھی گئی نظم ’فیض کہتے ہیں‘ کا تذکرہ بھی کیا اور یہ شعر پڑھتے ہوئے کہ ’کچھ لوگ تمہیں سمجھائیں گے وہ تم کو خوف دلائیں گے‘ کہا کہ میرے نزدیک ایک جج کو بے خوف و خطر ہونا چاہیے۔ فل کورٹ ریفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ میں اپنی قانونی رائے کی درستی کا کوئی دعویٰ نہیں کرتا لیکن صرف امید کرتا ہوں کہ تاریخ مجھے اچھے لفظوں میں یاد رکھے گی اور میری کی گئی مخلصانہ کوششوں کو سراہے گی۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے عدلیہ میں اصلاحات لانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی فہرست بتائی جس میں ای کورٹس کا قیام، آن لائن سپریم کورٹ ڈیٹابیس، سپریم کورٹ ویب سائٹ کی تشکیل نو سمیت موبائل ایپلیکیشن کا آغاز شامل ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ زیر التوا فوجداری مقدمات کا بیک لاگ ختم کیا گیا اور التوا مانگنے کی کوشش کی موثر طریقے سے حوصلہ شکنی کی گئی۔

اس موقع پر نامزد چیف جسٹس گلزار احمد نے اپنے پیش رو کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس کو بطور جج بہترین کارکردگی کا حامل اور غیرمعمولی ذہانت، بے مثال دیانتداری اور زبردست علمی شخصیت قرار دیا۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ قانون کی بالادستی، آئین کا تحفظ اور عدلیہ کی آزادی یہ سب سے اہم کام ہیں جس کا عدالت سے مستقل واسطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عدالت ماضی میں بھی ان چیلنجز کا مقابلہ کرچکی ہے اور مستقبل میں بھی پورے وقار اور سنجیدگی کے ساتھ ان چیلنجز کو حل کرے گی۔

نامزد چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ریاست کو شہری اور معاشرتی ڈھانچے کی تعمیر اور فراہمی کرنی چاہیے۔ انہوں نے ریاست پر انسانی دوست سوچ  کو اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کے تمام محکموں میں بدعنوانی اور بےقاعدگیوں کے خاتمے کی ضرورت ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر الرحمٰن نے کہا کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ اپنی آبزرویشن اور فیصلوں کے حوالے سے شاعرانہ جج تصور ہوتے ہیں۔ انہوں نے بطور جج 55 ہزار مقدمات کا فیصلہ کیا، جس میں 10 ہزار سے زائد فوجداری مقدامت بھی شامل تھے۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جھوٹی ضمانت، جھوٹی گواہی، جعلی دستاویزات اور جعلی ثبوتوں کے حوالے سے اہم فیصلے کیے۔ تاہم بدقسمتی سے خصوصی عدالت کے حالیہ فیصلے میں جسٹس کھوسہ کے وضع کردہ قانونی اصولوں کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔

عامر الرحمٰن کا کہنا تھا کہ خصوصی عدالت کے جسٹس وقار احمد سیٹھ کا فیصلہ تعصب اور انتقام کا اظہار ہے۔ جسٹس وقار کی جانب سے سزا پر عملدرآمد کا طریقہ غیر قانونی، غیر انسانی، وحشیانہ اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ یہ فیصلہ کرمنل جسٹس سسٹم کی روایات سے بھی متصادم ہے۔ ان کا کنڈکٹ اعلیٰ عدلیہ کے جج کے کنڈکٹ کے منافی ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ بوجھل دل سے کہتا ہوں کہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے صحافیوں سے گفتگو میں خصوصی عدالت کے فیصلے کی ایسے وقت میں حمایت کی جب تفصیلی فیصلہ آنا باقی تھا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کی تعریف کے حوالے سے چیف جسٹس کھوسہ کی سربراہی میں بینچ کا فیصلہ مستقبل میں رہنمائی کرے گا۔ ممتاز قادری کیس میں چیف جسٹس آصف کھوسہ نے ریاست کی رٹ اور عدلیہ کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے آزادانہ فیصلہ دیا۔

عامر رحمٰن نے مزید کہا کہ عدالت کے وقاراور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی ایک عمدہ مثال چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا آسیہ بی بی کیس کا فیصلہ بھی ہے۔ اس فیصلے سے قومی خدمت، قائداعظم کے رہنما اصولوں پرعملدرآمد کے علاوہ مذہبی عناصر کو بھی رواداری کا سبق دیا گیا۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے مقدمے میں اہم آبرویشنز دی گئیں۔

تاہم ایڈیشنل اٹارنی جرنل نے کہا کہ ایڈیشنل ججز کے ایک ایسے ہی کیس میں ایڈہاک ججز کو توسیع دی گئی۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ اعلی آئینی دفاتر کے حقوق اور ذمہ داریوں سے متعلق مقدمات میں غیر ضروری جلدبازی کی بجائے صبر سے سنا جائے۔ اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ایسا تاثر ملتا ہے کہ عدلیہ، پارلیمنٹ اور مقننہ کی حدبندی کرنے والی لائن دھندلا چکی ہے۔

فل کورٹ ریفرنس سے خطاب میں پاکستان بار کونسل کے نائب چیئرمین امجد شاہ نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ آئین کی بالادستی اور قانون کی عملداری کا غماز ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بار کونسل جنرل (ر) پرویز مشرف کو سزا دینے کے فیصلے کو سراہتی ہے۔ اس فیصلے سے آئندہ کسی طالع آزما کو آئین شکنی اور جمہوری حکومت  گرانے کی جراؑت نہیں ہوگی۔ نائب چیئرمین پی بی سی نے کہا کہ جسٹس وقار اور ان کے ساتھی رکن جج کو ہمیشہ عزت و تکریم سے یاد رکھا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کے خلاف فیصلے پر حکومتی حلقوں کا ردعمل توہین آمیز ہے۔ یہ ردعمل  فراہمی انصاف کے نظام میں دخل اندازی کے مترادف ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ جسٹس وقار سیٹھ کے بارے میں کی گئی بات پر نوٹس لینا چاہیے۔ سپریم کورٹ اس فیصلے کا قانونی جائزہ لینے کا اختیار رکھتی ہے۔

پاکستان بار کونسل کے نائب چیئرمین کا کہنا تھا کہ وکلا جسٹس وقاراحمد سیٹھ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی بھرپور مخالفت کریں گے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی بات کرتے ہوئے امجد شاہ نے کہا کہ  انہوں نے 18 جنوری 2019 کو 26ویں چیف جسٹس آف پاکستان کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا۔ انہوں نے اپنے تقریباً ساڑھے 21 سال کے سفر میں اب تک تقریباً 57 ہزار کے قریب کیسز کا فیصلہ دیا۔ آصف سعید کھوسہ چیف جسٹس پاکستان بنے تو انہوں نے ازخود نوٹس کا استعمال کم کرنے کا اعلان کیا اور وہ اس پر کاربند رہے۔

واضح رہے کہ 2017 میں پاناما پیپرز جیسا تاریخی فیصلہ دینے والے بینچ میں جسٹس آصف سعید کھوسہ بھی شامل تھے، اس فیصلے کے نیتجے میں نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔