مشرف کی سزا پر فوج کا رد عمل غیر ضروری ہے
- تحریر اطہر مسعود وانی
- جمعہ 20 / دسمبر / 2019
- 7790
پرویز مشرف کیس کا فیصلہ آنے کے بعد عدلیہ کے ججز کے خلاف پر اسرار طورپر کردار کشی کی بھرپور مہم نظر آ رہی ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے ریٹائر ہونے سے ایک دن پہلے اپنے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس میں کہا ہے کہ ’میرے اور عدلیہ کے خلاف گھناؤنی مہم شروع کر دی گئی ہے‘۔مشرف کو آئینی پابندی کی خلاف ورزی پر ٖغداری پر پھانسی کی سزا سنانے والی خصوصی عدالت کے ایک جج، پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف خفیہ عناصر کی طرف سے دہشت گردوں کو بڑی تعداد میں چھوڑنے کے الزامات کی بھر پور تشہیری مہم بھی جاری ہے۔
فوج کی طر ف سے پہلے پھانسی کی سزا پر سخت تنقید کی گئی اورتفصیلی فیصلہ آنے پر مزید تنقید سامنے آئی۔ابتدائی فیصلے کے بعد فوج کے ترجمان کا فوج کی طرف سے فیصلے پر غم و غصے کے اظہار کے بعد تفصیلی فیصلہ آنے پر فوج کے ترجمان نے پریس کانفرنس میں بھر پور طور پر ملک و عوام کو سیاسی رہنمائی عطا کی۔فوجی ترجمان نے اپنی پریس کانفرنس میں ملک دشمن قوتوں کے پاکستان کے خلاف عزائم،انڈیا کی طرف سے پاکستان کے خلاف جارحانہ تیاریوں کی صورتحال اورملک میں سیاسی کشمکش کے امور کو یوں ایک دوسرے میں پرو دیا کہ دونوں موضوعات ایک دوسرے میں گڈ مڈ ہو کر رہ گئے۔میجر جنرل آصف غفور کی یہ بات حیران کن ہے کہ ’فوج اور حکومت پچھلے چند سال سے مل کر ملک کو اس طرف لے جانا چاہتی ہے جہاں ہر قسم کے خطرات ناکام ہوجائیں اور ملک اس طرف جائے جہاں ہم جانا چاہتے ہیں‘۔
مشرف کو پھانسی اور پھانسی سے پہلے مر جانے کی صورت اسلام آباد میں پارلیمنٹ کی عمارت کے سامنے ڈی چوک پر لاش کو لٹکانے کی سزا کو کوئی غیرشرعی،کوئی غیر اخلاقی،کوئی وحشیانہ قرار دے رہا ہے جس میں سرکاری علما بھی شامل ہیں۔مشرف کے ایک سویلین حامی نے تو خانہ جنگی کی اصطلاح میں یہ بھی کہہ دیا کہ اس سے ملک میں خون کی ندیاں بہہ جائیں گی۔سنجیدہ حلقوں مشرف کو پھانسی اور پھانسی سے پہلے مر جانے پر اس کی لاش کو ڈی چوک میں لٹکانے کے فیصلے کو اس نظر سے دیکھ رہے ہیں کہ آئین کو کاغذ کے ٹکڑے سمجھنے والا مائینڈ سیٹ آئندہ اس طرح کے اقدام سے باز رہے اور عبرت حاصل کرے۔
ملک میں فوجی حاکمیت سے مستفید ہونے والے چند سویلین حلقوں کی طرف سے مشرف کو پھانسی یا اس کی لاش اسلام آباد میں لٹکانے کی سزا پر شرم دلانے کی بات بھی کہی جا رہی ہے۔ جنرل مشرف مکتبہ فکر نے ہی باقی ماندہ پاکستان کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔وہی سوچ،وہی اپروچ جس وجہ سے مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا۔ خود کو مقدس،برتر،ناقابل مواخذہ، غیر جوابدہ قرار دینے والے سرکاری ملازم کی آئین شکنی پر باقیوں کے لئے باعث عبرت سزا پر شرم دلانے کی بات دانستگی یا نا دانستگی میں پاکستان کے خلا ف سوچ رکھنے والوں کی حمایت میں جاتی ہے۔
موجودہ کشمکش سے ملک میں طبقاتی تقسیم،طبقاتی بالادستی کے نقصانات اور سنگین تر خطرات کی صورتحال بھی کھل کر سامنے آچکی ہے۔فوج کی عزت اور وقار کی ذمہ داری عوام اور ملک کی ہوتی ہے لیکن جب فوج خود اپنی عزت اور وقار کے پیمانے اور حدود کا تعین کرتے ہوئے خود ہی اس کی حفاظت کا بیڑا اٹھا لے تو یہ ایک تکلیف دہ صورتحال کی عکاسی ہوتی ہے۔ ملک کی فوج کا محافظ اس ملک کا عوامی کی بالادستی پر مبنی نظام ہوتا ہے لیکن جب فوج خود ملکی حاکمیت کو دسترس میں لے کر خود ڈرائیونگ سیٹ پہ آجائے تو اپنی فوج کی حفاظت عوام کے دائرہ اختیار سے باہر ہو جاتی ہے۔
فوجی افسران سیاست کریں گے پھر تنقید تو ہوگی۔ سیاست تو کرتے ہیں لیکن تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔فوجی افسران کی طرف سے سخت سیاسی بیانات کے بعد یہ تصور کرنا کہ اس پر تنقید نہیں ہو گی، درست اور جائز نہیں ہے۔ سیاست اور تنقید لازم و ملزوم ہیں۔افواج پاکستان ملک کی مشینری کا ایک حصہ ہے،کل نہیں بلکہ جز ہے۔ ملک کا کام اس جز کو چلانا ہے، اس جز کا کام ملک کو چلانا یا اس کی سمت کا تعین کرنا نہیں۔ملکی پالیسیوں کی طرح غدار اور محب الوطن قرار دینے کا اختیار بھی فوج کا کام نہیں ہے۔فوج ہمارا طاقتور بازو ہے، اس طاقتور بازو کو ملک کا دماغ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ قانون قدرت ہے کہ جو شاخ جھکنا نہیں جانتی،وہ ٹوٹ جاتی ہے۔