پاکستان پر دباؤ: ترک صدر کا الزام سعودی عرب کی تردید
- ہفتہ 21 / دسمبر / 2019
- 6180
پاکستان میں سعودی سفارت خانے نے کوالالمپور سمٹ میں شرکت نہ کرنے پر پاکستان کو مجبور کرنے اور دھمکانے کی خبروں کی تردید کی ہے۔ گزشتہ روز ترک میڈیا نے خبر دی تھی کہ صدر اردوان نے سعودی عرب پر الزام لگایا تھا کہ کوالالمپور کانفرنس کے حوالے سے اس نے پاکستان پر دباؤ ڈالا تھا۔
سعودی سفارت خانے نے کچھ میڈیا چینلز کی جانب سے نشر کی گئی خبر کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب نے پاکستان کو کوالامپور سمٹ میں شرکت نہ کرنے پر مجبور کیا تھا اور اس حوالے سے دھمکی بھی دی تھی۔
اس حوالے سے پاکستان میں سعودی عرب کے سفارت خانے سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات ایسے نہیں جہاں دھمکیوں کی زبان استعمال کی جائے۔ دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات دیرینہ اور اسٹریٹیجک ہیں جو اعتماد، افہام و تفہیم اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان بیشتر علاقائی اور بین الاقوامی مسائل خاص طور پر امت مسلمہ کے معاملات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ سفارت خانہ یہ وضاحت بھی کرتا ہے کہ سعودی عرب ہمیشہ برادرانہ تعلقات کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور ہم ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ ایک کامیاب اور مستحکم ملک بننے کے لیے پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں۔
گزشتہ روز ترک اخبار صباح نے رپورٹ کیا تھا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا تھا کہ سعودی عرب نے پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ کوالالمپور سربراہی اجلاس میں شرکت کی صورت میں اسٹیٹ بینک میں رکھی ہوئی رقم واپس نکال لی جائے گی۔
رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ یہ کسی بھی ملک کے لیے پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مخصوص معاملات پر دباؤ ڈالا ہو۔
ترک صدر کے حوالے سے رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی حکومت نے دھمکی دی تھی کہ 40 لاکھ پاکستانی ورکرز کو واپس بھیج دیا جائے گا اور ان کی جگہ بنگلہ دیش کے شہریوں کو ویزے دیے جائیں گے۔ صدر اردوان نے ترک میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو معاشی دشواریوں کے باعث سعودی عرب کی خواہشات پر عمل کرنا پڑا۔
دوسری جانب دفتر خارجہ کی جانب سے ترک صدر کے بیان پر براہ راست کوئی جواب نہیں دیا گیا تاہم کوالالمپور سمٹ میں شرکت نہ کرنے سے متعلق دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ مسلم امہ کی ممکنہ تقسیم روکنے کے لیے کئی اہم مسلم ممالک کے خدشات دور کرنے کے لیے وقت اور کوششوں کی ضرورت ہے، اس لیے پاکستان نے کانفرنس میں شرکت نہیں کی۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان مسلم امہ کے اتحاد اور یکجہتی کے لیے کوششیں جاری رکھے گا، جو مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے۔