جسٹس گلزار احمد نے چیف جسٹس پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھالیا
- ہفتہ 21 / دسمبر / 2019
- 4560
سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر ترین جج جسٹس گلزار احمد نے پاکستان کے 27ویں چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھالیا ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی، جہاں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس گلزار احمد سے چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کا حلف لیا۔
ایوان صدر میں ہونے والی تقریب حلف برداری میں صدر مملکت کے علاوہ وزیر اعظم عمران خان، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وفاقی وزرا، صوبائی گورنرز سمیت سپریم کورٹ کے موجودہ اور سابق ججز، سینئر وکلا اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب کے شروع میں قومی ترانے کی دھن بجائے گئی جس کے بعد تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اس کے بعد صدر مملکت نے جسٹس گلزار سے چیف جسٹس پاکستان کی حیثیت سے حلف لیا۔
ملک کے 26ویں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی گزشتہ روز سبکدوشی کے بعد جسٹس گلزار احمد 27ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے فرائض انجام دیں گے۔ چیف جسٹس گلزار احمد 2سال سے زائد عرصے تک اس عہدے پر فائز رہیں گے اور فروری 2022 میں سبکدوش ہوجائیں گے۔
جسٹس گلزار احمد سپریم کورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق وہ 2 فروری 1957 کو کراچی میں معروف وکیل نور محمد کے گھر میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کراچی میں گلستان اسکول سے حاصل کی اور نیشنل کالج سے بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ایس ایم لا کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری مکمل کی۔
اس کے بعد وہ 18 جنوری 1986 میں ایڈووکیٹ کی حیثیت سے رجسٹرڈ ہوئے اور پھر 4 اپریل 1988 کو ہائیکورٹ کے ایڈووکیٹ کی حیثیت سے ان کا اندراج ہوا، جس کے بعد 15 ستمبر 2001 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایڈووکیٹ بنے۔
جسٹس گلزار احمد 1999 سے 2000 کے دوران سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اعزازی سیکریٹری کے عہدے کے لیے بھی منتخب ہوئے۔ 2002 میں سندھ ہائی کورٹ کے جج بننے سے قبل وہ کراچی کے 5 سرفہرست وکلا میں شامل رہے اور اپنے کیرئیر میں سول، لیبر، بینکنگ، کمپنی قوانین اور کارپوریٹ سے متعلق کیسز میں وکالت کی۔
جسٹس گلزار احمد 27 اگست 2002 کو سندھ ہائی کورٹ کے جج منتخب ہوئے جبکہ 16 نومبر 2011 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کی حیثیت سے ترقی حاصل کی۔