کوالالمپور کانفرنس: کیا پاکستان دور رہ کر فائدے میں رہے گا؟

وزیر اعظم عمران خان نے آخری لمحات میں   سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے دباؤ کی وجہ سے  کوالالمپور سربراہی کانفرنس میں شرکت سے معذوری ظاہر کی۔ یہ طرز عمل سفارتی طور سے پاکستان کو ناقابل اعتبار بنانے اور اس کی غیر جانبداری  کو داغدار  کرنے کا سبب بنا ہے۔

اس میں بھی کوئی شبہ نہیں ہے کہ اس وقت ملائشیا کے  دارالحکومت کوالالمپور میں  جو مسلمان سربراہان  جمع ہیں ، وہ کسی نہ کسی طور سے  مشرق وسطیٰ میں سعودی تسلط اور حکمت عملی کے خلاف ہیں۔ ان میں سے ایران اور ترکی تو براہ راست مشرق وسطیٰ میں امریکی مداخلت کو سعودی پالیسی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔  پاکستان  اگرچہ ایران کا ہمسایہ ملک ہے لیکن اس کے سعودی عرب کے ساتھ بھی دیرینہ  مراسم ہیں۔   ہر  مشکل گھڑی میں سعودی عرب نے  پاکستان کی مالی معاونت کی ہے۔

گزشتہ برس عمران خان نے اقتدار سنبھالا تو ادائیگیوں کے  عدم توازن کی وجہ سے قومی خزانہ خالی تھا اور پاکستان کو فوری طور سے  امداد کی ضرورت تھی۔ اس وقت  سعودی عرب نے  ہی پاکستان کی مدد کی تھی۔ پاکستانی وزیر اعظم کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی مداخلت کی وجہ سے   کوالالمپور  سربراہی کانفرنس میں شرکت سے معذرت کرنا پڑی ۔ اس  طرح پاکستان کی طرف سے صرف ملائشیا، ترکی اور ایران کو ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے ملکوں کو  یہ پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی  نہ خود مختارانہ ہے اور نہ ہی اسے وسیع تر قومی مفاد کے تناظر میں سوچ سمجھ کر تیار کیا جاتا ہے۔ بلکہ    اعلیٰ ترین سطح پر کئے گئے سفارتی فیصلے  کوبھی بیرونی دباؤ  سے تبدیل کر وائے  جاسکتے ہیں۔

عمران خان  کوالالمپور کانفرنس میں شرکت کے لئے پوری طرح تیار تھے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران  ملائشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد اور ترکی کے صدر طیب اردوان کے ساتھ مل کر اس کانفرنس کے خد و خال پر بات کی تھی۔ اسی موقع پر  تینوں رہنماؤں نے مسلمانوں کا ایک علیحدہ نیوز چینل شروع کرنے کا بھی اعلان کیا تھا تاکہ دنیا میں مسلمانوں کے خلاف پائے جانے والے تعصبات کے بارے میں  متبادل تصویر سامنے لائی جاسکے اور دنیا کو عالمی مسائل پر مسلمانوں کے نقطہ نظر سے آگاہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس منصوبہ کا ایک مقصد مسلمانوں کے خلاف تعصبات اور مغرب میں  بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنا بھی تھا۔ جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران عمران خان نے مسلمانوں کے مسائل اور اسلامو فوبیا کے سوال پر اسی گرمجوشی  سے بات کی تھی جس طرح ترکی کے صدر اردوان کرتے ہیں۔   قرین قیاس ہے کہ  نیویارک میں ان تینوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں کوالالمپور کانفرنس کا خاکہ تیار ہؤا۔

مہاتیر محمد نے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لئے ابتدائی تیاریاں کیں اور کوالالمپور میں اس کا انعقاد کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس دوران سعودی عرب کو گمان ہؤا کہ  یہ کانفرنس  مشرق وسطیٰ میں اس کی حکمت عملی اور بالادستی کو چیلنج کرنے کے لئے  منعقد ہورہی ہے۔ ایران کے ساتھ سعودی کشیدگی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں  ہے لیکن ترکی کے ساتھ بھی معاملات کافی عرصہ سے سرد مہری کا شکار ہیں۔ اس کی اہم وجہ تو  گزشتہ برس کے دوران استنبول  کے  سعودی قونصل خانے میں سعودی  باغی صحافی جمال خشوگی کا قتل تھا لیکن قطر کے ساتھ ترکی کے تعلقات اور ایران کی طرف صدر اردوان کا جھکاؤ بھی سعودی عرب کے لئے قابل قبول نہیں  ہے۔ اس لئے جب ملائشیا کے وزیر اعظم نے  صدر اردوان کے ساتھ مل کر کوالالمپور کانفرنس کا اعلان کیا تو سعودی عرب نے اسے  اپنے مفاد کے خلاف  سمجھتے  ہوئے اسے ناکام بنانے کی حکمت عملی  پر  کام شروع کردیا۔

پاکستانی وزیر اعظم  نے کوالالمپور کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ وزارت خارجہ کی بریفنگ یا مشورہ کے بغیر کیاتھا ورنہ انہیں ان معاملات کی سفارتی نزاکتوں کے بارے میں پیش از وقت آگاہ کیا جاسکتا۔ تاکہ وہ کوئی واضح   وعدہ کرنے کی بجائے سارے آپشن  کھلے رکھتے۔   البتہ ایک  بار اعلان ہونے کے بعد اس سے انحراف نے پاکستان کی سفارتی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ عمران خان کا خیال تھا کہ وہ  سعودی عرب کے  ولی عہد کو  اپنے مؤقف پر راضی کرلیں گے۔ اس مقصد کے لئے پہلے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ریاض بھیجا گیا لیکن سعودی حکام نے انہیں مایوس لوٹا دیا۔ اس کے بعد عمران خان خود ایم بی ایس سے ملنے  گئے ۔ اس موقع پر بھی ان کا خیال تھا کہ وہ سعودی ولی عہد کو اس بات پر راضی کرلیں گے کہ  عمران خان کی کوالالمپور کانفرنس میں شرکت کسی طرح سعودی مفاد کے خلاف نہیں تھی۔ پاکستان بہر حال سعودی مفادات کا خیال رکھے گا۔  لیکن وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوئے اور انہیں  سفارتی ناکامی کے بعد ملائشیا کے وزیر اعظم کو اپنی مجبوری سے آگاہ کرنا پڑا۔ عمران خان یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ سعودی رویہ  کسی ایک لیڈر کی کوالالمپور کانفرنس میں شرکت یا عدم  شرکت  کے متعلق نہیں تھا بلکہ وہ اصولی طور پر  اپنی قیادت و سیادت کے بغیر کسی اجتماع کو مسلمانوں کے مفاد کے خلاف سمجھتا ہے۔ اور جس اجتماع میں ایران اور قطر شریک ہوں ، وہ براہ راست سعودی انا کے لئے ناقابل قبول ہوجاتا ہے۔

مہاتیر محمد نے  سعودی شاہ سلمان کو  بھی اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تھی اور براہ راست فون پر یقین دلوایا تھا کہ   یہ اجلاس سعودی سرپرستی میں کام کرنے والی اسلامی تعاون تنظیم  کا متبادل تلاش کرنے کی کوشش نہیں  ہے۔ شاہ سلمان نے  نہ صرف دعوت  قبول کرنے سے گریز کیا بلکہ  کوالالمپور کانفرنس کو ناکام بنانے کے لئے کوششیں تیز کردی گئیں۔ پہلے انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو کو کانفرنس میں شریک ہونے سے روکا گیا پھر عمران   خان کو واضح پیغام دیا گیا کہ اگر وہ  اس کانفرنس میں گئے تو  یہ اقدام سعودی عرب کو ناراض کرنے کے مترادف ہوگا۔ اس کے ساتھ  ہی کانفرنس شروع ہونے سے چند گھنٹے پہلے اسلامی تعاون کانفرنس کے جنرل سیکرٹری  اوسامین نے بیان دیا کہ ’اسلامی تعاون کانفرنس کو کمزور کرنے کی کوئی کوشش دراصل اسلام اور مسلمانوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہوگی‘۔ حالانکہ یہ حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں  ہے کہ  او آئی سی ایک مردہ تنظیم ہے جو سعودی عرب اور اس کے حلیف عرب ملکوں کے مفاد کی ہی بات کرتی ہے۔

سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کئی مجبوریوں میں  بندھا ہؤا ہے۔  سب سے بڑی مجبوری وہاں کام کرنے والے پندرہ سے بیس لاکھ  پاکستانی کارکن ہیں جو ملک کو قیمتی زر مبادلہ فراہم کرتے ہیں۔ سعودی قیادت کو ناراض کرنے سے ان کارکنوں کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے یا ان کی تعداد میں اچانک قابل ذکر کمی بھی دیکھنے میں آسکتی ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات چونکہ اکثر پالیسی معاملات میں ایک دوسرے کے معاون ہوتے ہیں اور دونوں ملکوں کے ولی عہد ایک دوسرے کے قریب بھی سمجھے جاتے ہیں ، اس لئے  اس بات  کا قومی امکان ہے کہ اگر سعودی عرب نے پاکستان کے خلاف ناراضی کا اظہار کیا تو متحدہ عرب امارات بھی پیچھے نہیں رہے گا۔ وہاں بھی کثیر تعداد میں تارکین وطن روزگار کماتے ہیں۔

پاکستان یوں تو سعودی عرب اور ایران کے درمیان مصالحت  کروانے اور ثالث بننے کا دعویدار رہا ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف   یہ کوشش کرچکے تھے اور اب عمران خان  نے جنرل قمر جاوید باجوہ کے  ساتھ مل کر اس مشن  کو  پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں  بھی کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی۔  ایران اور سعودی عرب کی چپقلش یمن جنگ اور شام  کے تنازعہ سے ہوتی ہوئی عراق میں ہونے والے عوامی مظاہروں تک پہنچ چکی ہے۔ عام طور سے سمجھا جارہا ہے کہ ان مظاہروں کی سرپرستی  میں سعودی ایجنسیاں خاص طور سے سرگرم رہی ہیں۔  یمن میں حوثی  قبائل کو دبانے کے لئے شروع کی گئی جنگ   کسی نتیجہ تک نہیں پہنچی اور وہاں سامنے آنے والے انسانی المیہ کی وجہ سے سعودی عرب کو  عالمی فورمز پر ناپسندیدہ صورت حال کا سامنا ہے۔  اسی طرح قطر کا بائیکاٹ  کرکے  بھی سعودی عرب کوئی خاص کامیابی حاصل  نہیں کرسکا۔ البتہ سعودی عرب کی پالیسیوں کی وجہ سے   قطر، ایران اور ترکی نے مل کر مشرق وسطیٰ میں کاؤنٹر ویٹ بننے کی کوشش کی ہے۔

کوالالمپور کانفرنس کے آغاز پر  مہاتیر محمد اور صدر اردوان نے مسلمانوں کے  حالات تبدیل کرنے کے حوالے سے  تقریریں ضرور کی ہیں  لیکن  یہ اجلاس کوئی خاص سیاسی یا معاشی فیصلے کرنے یا دنیا میں مسلمانوں کو درپیش مسائل  کے حوالے سے کردار ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے گا۔ البتہ سعودی مخالفت  کی وجہ  سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ مسائل اور مشکلات کے باوجود  دنیا کے مسلمان ممالک مل بیٹھنے اور باہمی اختلافات بھلانے پر آمادہ نہیں ہیں۔  پاکستان کو خاص طور سے یوں بھی مشکل صورت حال کا سامنا ہو گا کہ کشمیر کے سوال پر ترکی اور ملائشیا ہی ایسے دو ملک تھے جنہوں نے کھل کر بھارت کے مقابلے میں پاکستان کا ساتھ دیاتھا لیکن اب پاکستانی وزیر اعظم نے عین وقت پر سعودی  کشتی میں سوار ہونے کو ترجیح دی۔  اسلام آباد کی مجبوری سمجھے بغیر یہ ممالک اب پاکستان  کو ناقابل اعتبار سمجھنے کے علاوہ  اس کی غیر جانبداری   پر بھی   شبہ کریں گے ۔

کوالالمپور کانفرنس کا  ’بائیکاٹ ‘ کرکے پاکستان ایک ایسے فورم پر شرکت سے محروم  ہؤا ہے جہاں وہ کشمیر کے مسئلہ پر بھرپور طریقے سے آواز اٹھا سکتا تھا۔ اس کے علاوہ بھارت میں نئے شہریت  قانون کے ذریعے جس طرح مسلمانوں کو تعصب کا نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس پر بھی پاکستانی مؤقف پیش کیا جاسکتا تھا۔ اس سفارتی ہزیمت  کے بعد حکومت کو اپنی خارجہ پالیسی  کے حوالے سے ٹھوس حکمت عملی تیا رکرنا ہوگی تاکہ  اختلاف کی ہنڈیا چوراہے کے بیچ پھوڑنے کی بجائے    مناسب مواصلت سے معاملات   درپردہ طے کر  لئے جائیں ۔

اسلامی دنیا کی واحدایٹمی طاقت  ہونے کا دعویدار  ملک   جب ایک ملک کے دباؤ پر اپنے وزیر اعظم کا دورہ منسوخ کردے تو اس سے اس کی شہرت، مفاد اور ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ اس کے پاکستانی کے قومی مفادات اور اہداف پر دیرپا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔