کالم کلوچ
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 23 / دسمبر / 2019
- 12890
صحافت ہمیشہ سے لڑائی کا ہتھیار رہی ہے ۔ پاکستان کی آزادی کی تحریک میں صحافت کا کردار جنگجویانہ تھا ۔ صحافت نے جہالت ، لاعلمی ، نا خواندگی اور بے خبری کے خلاف معرکوں میں جھنڈے گاڑنے میں کبھی کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی لیکن فی زمانہ یہ ہتھیار سیاسی خانہ جنگی کے لیے مخصوص ہو کر رہ گیا ہے۔
جس میں ایک مسلمان معاشرے کے لوگ گروہوں میں بٹ کر ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں او ر زبان و بیان کے اوچھے ہتھکنڈوں سے ایک دوسرے پر رکیک حملے کر رہے ہیں اور اپنے اس مشن کے لیے ففتھ جنریشن وار کی اصطلاح کی جُگالی کر رہے ہیں۔ ہماری کمزوری یہ ہے کہ مغرب سے جب بھی کوئی نیا فلسفیانہ فیشن آئے یا فکری نظریات اور تصورات درآ مد ہوں تو ہم فوراً اپنی مقامی اور قومی زبان کی رسی چھوڑ کر انگریزی کے شہتیر سے لٹک جاتے ہیں اور انگریزی میں کائیں کائیں کرنے لگتے ہیں ۔ اگر اِن گروہی سلطانوں سے پوچھا جائے کہ اے ہمارے پیارے افلاطونو ! تم نے پچھلے بہتر برس میں کون سا سیاسی اور نظریاتی کشمیر فتح کیا ہے ؟ کون سی ایسی ترقی پسند تحریک کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے جو ہمارے معاشرے کو امن ، ترقی اور خوش حالی سے دو چار کر سکی ہے؟ سوائے اس کے کہ چند مستعار نظریات کی بنیاد پر ہم فرشتوں کے اساتذہ بنے رہے ہیں ۔
اور بھلا ہو پرنٹ میڈیا کا جس نے ماضی میں ان نظریاتی چیونٹیوں کو ہاتھی بنا کر پیش کیا اور ان کا ایسا پرچہ لگایا کہ وہ خوش فہمیوں کی بد ہضمی میں مبتلا ہو کر پھول کر کُپُا ہو گئے ؟ مگر کیا انہوں نے مدینے جیسی ریاست قائم کر دی ؟ ملک کی مزدور بستیوں میں کوئی لینن جیسا انقلاب لے آئے یا ترقی پسند تحریک کی برکت سے ملک کا معاشرتی بیانیہ بدل کر تہذیب و ثقافت کی تازہ تر فصلیں اُگادیں ؟ نہیں ، ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ اس ساری فکری بیگار کا حاصل وہی ڈھاک کے تین پات ہی رہے ۔ پاکستان جہاں 1947 میں تھا وہاں سے بھٹک کر جغرافیے میں کم اور آبادی کی تاریخ میں زیادہ ہو گیا ہے بلکہ ترقی کی شاہراہ سے پھسل کر ماضی کے ویرانوں میں جا گرا ہے ۔
چلیے خاک ڈالیے اس ساری معکوس ترقی کی کہانی پربلکہ پنجابی میں اس سونے پرمٹّی پاؤ کا سہاگہ ڈالیےاور یہ بتائیے کہ آپ نے صحافت میں گالم گلوچ کو بگاڑ کر کالم کلوچ کیوں بنا دیا ہے۔ تم نے تو تو میں میں کے جس بیانیے کو میڈیا میں رواج دیا ہے اُس کا حاصل کیا ہے ؟ ایسا لگتا ہے کہ جمہوری خانوادوں کے بیلوں کی باہمی لڑائی میں عوام نام کے مینڈک ہی سات دہائیوں سے کُچلے اور مسلے جا رہے ہیں ۔ اور یہ جو تم پرویز مشرف کی سزا کے معاملے میں ابو سفیان کی بیوی ہندہ کے حضرت حمزہ ؓ کا کلیجہ چبانے کی سُنت کو زندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہو ، کیا تم وہی ہو نا جو میلاد اور سلام کی محفلوں درود پڑھتے ہوئے گاتے ہو:
سلام اُس ﷺ پرکہ جس نے گالیاں سُن کر دعائیں دیں
مگر تمہارا کالم کلوچ اُس طرزِ فکر سے گریز ، بغاوت اور رحمت اللعالمینی کے شرف کی نفی پر مبنی ہے اور تمہارا قیام اُن بستیوں میں ہے جہاں کی مساجد میں درود و سلام تو دھیمے سروں میں پڑھا جاتا ہے لیکن گالم گلوچ تمہارے گلی کوچوں ، تمہارے گھروں کے آنگنوں ، تمہاری چوپالوں ، پولیس کے تھانوں اور تعلیمی اداروں تک میں چلنے والا وہ سکہ ہے جو پین کی سری بن کر تمہاری مذہبی روایت کے رُخسار پر تھپڑ کی طرح جڑا ہے ۔ میں نہیں جانتا کہ ہم اتنے سنگ دل ، بے رحم ، بد گو ، دشنام طراز اور بہتان تراش کیوں ہیں؟
کچھ ایسے دانشور بھی ہیں جو آلیور کرامویل کی لاش کو قبر سے نکال کر پھانسی دینے کی روایت میں پناہ گزین ہو کر جنرل مشرف کی لاش کو پھانسی دینے کی بات تو کر رہے ہیں مگر وہ باقی تین فوجی آمروں کی لاشوں سے بھی یہی سلوک روا رکھنے کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟ ایوب خان اور یحیٰ خان بھی تو آئین شکن تھے بلکہ جنرل ضیا جس نے بھٹو کو پھانسی پر لٹکایا اس سلوک کا زیادہ حق دار ہے اور ان تینوں فوجی آمروں کی پشت پناہی پاکستانی عدلیہ نے کی تھی تو کیوں نہ اُن تمام ججوں کی لاشوں کو بھی نکال کر لٹکایا جائے جنہوں نے ان آمروں کی آئین شکنی کو قانونی تحفظ دیا تھا ؟
لیکن نہیں ، ہمارے یہاں جس انتقامی سیاست نے پر پرزے نکالے ہیں اُس کی روایت یہی ہے کہ ہم طاقت ور کی مدح سرائی کر کے اپنے قلمی مفادات کو تحفظ دیتے ہیں ۔ ہم وہ بے انصاف لوگ ہیں جن کو جمہوریت کے نام پر مراعات یافتہ طبقوں کے حقوق کی تو بڑی فکر ہے مگر اپنے اُن غریب دینی بھائیوں کو جو اپنی اولادوں کو سکول بھیجنے کی استطاعت نہیں رکھتے ، اپنی خصوصی توجہ کا مرکز کبھی نہیں بناتے ۔ ہم ہر روز چھوٹے بچوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد موت کے گھاٹ اُتارنے والوں کا تماشہ دیکھتے ہیں مگر ہمارے لیے مریم نواز کا ای سی ایل سے نکالے جانے کا معاملہ پہلی ترجیح ہوتا ہے ۔
آخر یہ مدینے کی ریاست کے قافلے میں شریک مسلمان جب اتنی کثرت سے بچوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنا کر قتل کرتے ہیں تو ہمیں یہ خیال کیوں نہیں آتا کہ یہ بھی بلاس فیمی کا معاملہ ہے ۔ قرآن کے اُس حکم سے سرتابی ہے جس میں ایک انسان کے قتل کو جمعیتِ انسانی کا قتل قرار دیا گیا ہے اور کلام اللہ کی بے حُرمتی کی گئی ہے ۔ کہیں ہم لوگ ابوسفیان کی بیوی ہندہ کے دین پر تو نہیں ؟ مرا گمان ہے کہ ایسا ہی ہےکیونکہ ہم غریب اور کمزور آدمی کو تو بے حسی کے پتھر مار کر ہلاک کرتے ہیں اور خود انسانی اقدار کے لافانی تخت پر بیٹھ کر فرماں روائی کی اداکاری کرتے ہیں ۔ جعل ساز کہیں کے !
پاکستانی جج ہوں ، جرنیل ہوں ، سیاست دان ہوں یا دانشور سب ایک ہی تھیلی کے چٹّے بٹّے ہیں اور ہم اپنے کیے کے ردِ عمل میں کبھی مبتلا نہیں ہوتے ۔ اور جب سب کے سب ایک ہی کشتی کے سوار ہوں تو تبدیلی کہاں سے آٗے گی؟
اور جب تک حالات بدستور جوں کے توں رہے تو سیاست سے گالم گلوچ اور صحافت سے کالم کلوچ کا خاتمہ نہیں ہو سکے گا ۔
رہے نام اللہ کا !