احسن اقبال 13 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے
- منگل 24 / دسمبر / 2019
- 4220
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نارووال اسپورٹس سٹی منصوبے میں مبینہ بدعنوانیوں کے معاملے میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کو 13 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا ہے۔
احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی عدالت میں نارووال اسپورٹس کمپلیکس کیس کی سماعت ہوئی، جہاں گزشتہ روز گرفتار کیے گئے احسن اقبال کو پیش کیا گیا۔ اس موقع پر مریم اورنگزیب، راجا ظفر الحق و دیگر لیگی قیادت بھی احتساب عدالت پہنچی تھی۔
نیب نے احسن اقبال کے 14 روز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی اور کہا کہ ملزم سے مزید تفتیش کے لیے ریمانڈ چاہئے۔ نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ملزم سے دستاویزات کی برآمدگی کے لیے بھی ریمانڈ درکار ہے۔ عدالت میں احسن اقبال کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل طارق محمود جہانگیری نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی۔
وکیل نے کہا کہ ان کے موکل احسن اقبال نے منصوبے کے لیے کوئی رقم منظور نہیں کی۔ اگر نیب کے پاس احسن اقبال کے خلاف کوئی ایک بھی دستاویز ہے تو 90 دن کا ریمانڈ دے دیں۔ طارق جہانگیری نے کہا کہ احسن اقبال پر رشوت لینے کا کوئی الزام نہیں۔ یہ کوئی قتل کا کیس ہے جو نیب نے ریمانڈ لینا ہے۔ اس کیس میں نیب نے کیا برآمد کرنا ہے جو ریمانڈ مانگ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام دستاویزات وفاقی حکومت کے پاس موجود ہیں، جسمانی ریمانڈ منطور نہ کیا جائے۔
احسن اقبال نے عدالت میں انہوں نے کہا کہ ان کی کردارکشی اور شہرت کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈھائی ارب روپے کا منصوبہ تھا جو 2009 میں شروع ہوا، اس وقت وہ اپوزیشن میں تھے لیکن 2013 میں انتخابات کے دوران اس کھنڈر کو مکمل کرنے کا عوام سے وعدہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ فنڈنگ کی رقم پی ایس ڈی پی سے ملتی ہے اس میں سارے وزیر شامل ہوتے ہیں۔
عدالت نے احسن اقبال کے جسمانی ریمانڈ کے معاملے پر فیصلہ محفوظ کیا جسے کچھ دیر بعد سناتے ہوئے عدالت نے 6 جنوری تک ان کو ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔
قبل ازیں احتساب عدالت آمد کے موقع پر میڈیا سے غیررسمی گفتگو میں احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اگر مجھے اس لیے گرفتار کیا گیا کہ میں نے نارووال کے عوام سے کیا گیا وعدہ پوا کیا اور نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ وفادار ہوں تو مجھے یہ سزا قبول ہے۔