بی جے پی جھارکھنڈ انتخابات ہار گئی

  • منگل 24 / دسمبر / 2019
  • 4680

انڈیا کی مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتوں نے ریاست جھارکنڈ کے اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے جو کہ حکمراں جماعت بی جے پی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتیں جھارکھنڈ مکتی مورچہ اور راشٹریہ جنتا دل نے 81 میں سے 47 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ حکمران بی جے پی کو صرف 25 نشستیں ہی ملی ہیں۔ مئی میں پارلیمانی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے کے بعد یہ دوسری ریاست ہے جہاں بی جے پی کو شکست ہوئی ہے۔

یہ نتائج حکومت کے مخالفین کی حوصلہ افزائی کریں گے جو شہریت کے نئے قانون کے خلاف ملک گیر ہڑتال کا ارادہ رکھتے ہیں۔  جھارکھنڈ میں علاقائی جماعت جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) بڑی جماعت کے طور پر ابھری ہے۔ نتائج سے لگتا ہے کہ یہ جماعت کانگریس کے ساتھ مل کر نئی حکومت بنائے گی۔  بی جے پی کے سینیئر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرتے ہیں۔ گذشتہ ماہ بھی بی جے پی مہاراشٹرا میں ناکام ہوئی تھی۔

اگرچہ جھارکھنڈ کے انتخابات زیادہ تر مقامی ایشوز پر لڑے گئے ہیں تاہم بی جے پی کی ناکامی کو ایک بڑے سیٹ بیک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انتخابات کے پانچ میں سے تین مراحل کے دوران ملک میں شہریت کے قانون کے خلاف مظاہرے ہو رہے تھے۔

مقامی میڈیا کے مطابق مظاہروں میں ہلاک ہونے والے 20 سے زیادہ افراد میں سے زیادہ تر ایسے ہیں جو گولی لگنے سے ہلاک ہوئے۔  اس قانون کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے غیر قانونی تارکینِ وطن کو جو کہ غیر مسلم ہوں، شہریت دی جائے گی۔

وزیراعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ اس قانون سے ظلم کا شکار ہونے والوں کی مدد ہو گی تاہم تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ اس میں مسلمانوں سے امتیازی سلوک برتا گیا ہے۔