لاہور ہائی کورٹ نے رانا ثنااللہ کی ضمانت منظور کرلی

  • منگل 24 / دسمبر / 2019
  • 4660

لاہور ہائی کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔

صوبائی دارالحکومت کی عدالت عالیہ میں جسٹس چوہدری مشتاق احمد نے رانا ثنااللہ کی منشایت برآمدگی کیس میں ضمانت کی درخواست پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے منشیات برآمدگی کیس میں 10، 10 لاکھ روپے کے 2 مچلکے کے عوض رانا ثنااللہ کی کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز رانا ثنا اللہ کے وکلا اور انسداد منشیات فورس (اے این ایف) کے پراسیکیوٹر نے مذکورہ درخواست پر دلائل دیے تھے، جس کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔ خیال ریے کہ 20 نومبر کو منشیات برآمدگی کیس میں رانا ثنا اللہ نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اور اپنی درخواست میں موقف اپنایا تھا کہ حکومت کے خلاف تنقید کرنے پر منشیات اسمگلنگ کا جھوٹا مقدمہ بنایا گیا۔

درخواست میں کہا گیا کہ معاملے کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ  تاخیر سے درج کی گئی جو مقدمے کو مشکوک ثابت کرتی ہے۔ جبکہ ایف آئی آر میں 21 کلو گرام ہیروئن اسمگلنگ کا لکھا گیا جبکہ بعد میں اس کا وزن 15 کلو گرام ظاہر کیا گیا۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ منشیات اسمگلنگ کیس میں ان کی ضمانت منظور کرکے رہائی کا حکم دیا جائے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر اور رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ کو انسداد منشیات فورس نے یکم جولائی 2019 کو گرفتار کیا تھا۔ ترجمان اے این ایف ریاض سومرو نے گرفتاری کے وقت بتایا تھا کہ رانا ثنااللہ کی گاڑی سے منشیات برآمد ہوئیں، جس پر انہیں گرفتار کیا گیا۔

اس سے پہلے رانا ثنااللہ نے ضمانت پر رہائی کے لیے لاہور کی انسداد منشیات عدالت میں درخواست دائر کی تھی، جس پر 20 ستمبر کو عدالت نے دیگر 5 ملزمان کی ضمانت منظور کرلی لیکن رانا ثنااللہ کی درخواست مسترد کردی گئی۔ جس کے بعد انہوں نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔