پاکستان نے مذہبی آزادی سے متعلق امریکی رپورٹ کو مسترد کر دیا
- بدھ 25 / دسمبر / 2019
- 5170
پاکستان نے امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے حالیہ دنوں جاری کردہ مذہبی آزادی سے متعلق سالانہ رپورٹ میں پاکستان کو خصوصی تشویش کے حامل ملکوں میں شامل کرنے کے اقدام کو یکطرفہ اور من گھڑت قرار دیا ہے۔
ایک بیان میں پاکستان دفتر خارجہ کی ترجمان نے منگل کے روز کہا ہے کہ ’یہ اعلان نہ صرف پاکستان کے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا، بلکہ اس عمل کے قابل اعتبار ہونے اور شفافیت پر سوالیہ نشان پیدا ہوتے ہیں‘۔
20 دسمبر کو جاری ہونے والی رپورٹ میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ برما، چین، اریٹریا، ایران، شمالی کوریا، پاکستان، سعودی عرب، تاجکستان اور ترکمانستان ان ملکوں میں شامل ہیں جنہیں بین الاقوامی مذہبی آزادی کے 1998 ایکٹ کی رو سے خصوصی تشویش کے حامل ملک قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان ملکوں میں ’مذہبی آزادی کے معاملات میں منظم، جاری اور مختلف النوع قسم کی خلاف ورزیاں نہ صرف جاری ہیں بلکہ انہیں برداشت کیا جا رہا ہے‘۔
پاکستان دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ نشاندہی کرنے کا یہ عمل ملکوں کا انتخاب کر کے انہیں ہدف بنانے کے مترادف ہے اور یوں یہ رویہ مذہبی آزادی کو فروغ دینے کے اعلانیہ مقصد کے حصول میں معاون نہیں ہو سکتا۔ ترجمان نے کہا کہ ’پاکستان کثیر مذہبی اور مختلف النوع اکائیوں کا ملک ہے جہاں تمام عقائد کے ماننے والوں کو آئین کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ سمیت تمام ملکی شاخیں مل کر یہ بات یقینی بناتی ہیں کہ پاکستان کے تمام شہریوں کو اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کی مکمل آزادی ہو، جس میں عقائد، ذات یا مسلک کی بنیاد پر کوئی تفریق نہ برتی جائے‘۔
ترجمان نے کہا کہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے سنگ میل نوعیت کے فیصلے دیے ہیں جن میں اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی حرمت اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے احکامات شامل ہیں۔
بہان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے امریکہ سمیت بین الاقوامی برادری سے بھی رابطہ جاری رکھا ہے، تاکہ مذہبی آزادی کے معاملات سے متعلق بہتر آگہی حاصل کی جا سکے۔ اس سال کے اوائل میں عالمی سطح پر مذہبی آزادی کے باہمی مقاصد کو فروغ دینے کے مکالمے کے حوالے سے بین الاقوامی مذہبی آزادی پر مامور امریکی ایمبیسڈر ایٹ لارج، سینیٹر سیموئل براؤن بیک کا پاکستان میں خیر مقدم کیا گیا تھا۔ ترجمان نے کہا کہ یہ امر افسوس ناک ہے کہ ’اس تعمیری رابطے کو نظرانداز کیا گیا ہے‘۔
بیان میں الزام لگایا کہ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے ’نشاندہی کا عمل سرسری توجہ اور طرفداری پر مبنی ہے، جس کو یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ اس میں بھارت کو جان بوجھ کر شامل نہیں کیا گیا جو کہ مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے‘۔ ترجمان نے کہا کہ امریکی کانگریس نے دو سماعتیں کی ہیں جن میں 70 سے زائد امریکی قانون سازوں نے بھارت کے ہاتھوں کشمیریوں سے برتے گئے رویے اور ایک طویل عرصے سے بھارتی جموں و کشمیر میں ان کے بنیادی حقوق کو مبینہ طور پر سلب کیے جانے پر اظہار تشویش کیا ہے۔
پاکستان ترجمان نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو سنگسار کیا جاتا ہے، ظلم و ستم روا رکھے جاتے ہیں اور قتل پر بھی پوچھ گچھ نہیں ہے۔ بیان میں بھارتی حکومت کی جانب سے شہریت کے ترمیمی بل کی منظوری کی جانب توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مذہبی آزادی کو عالمی تشویش کے حامل چیلنج درپیش ہیں، جنہیں حل کرنے کے لیے تعاون کی بنیاد پر کوششوں کی ضرورت ہے۔
ترجمان نے کہا کہ امریکہ سمیت متعدد مغربی ملکوں میں اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کے بارے میں پاکستان اپنی تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اعتماد اور سمجھ بوجھ کی فضا کو فروغ دے کر ہی مذہبی آزادی کے مقصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے اور انہیں تحفظ دیا جا سکتا ہے۔