پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں سورج گرہن
- جمعرات 26 / دسمبر / 2019
- 7040
پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں سورج کو گرہن لگنے کا نظارہ کیا گیا۔ رواں سال سورج گرہن کو 'رنگ آف فائر' کا نام دیا گیا ہے۔
سورج کو گرہن لگنے کا نظارہ مشرقی یورپ، شمال اور مغربی آسٹریلیا، افریقہ، بحر ہند او ایشیا کے مختلف حصوں میں کیا گیا۔ چاند، سورج کو کم ہی مواقع پر پوری طرح ڈھانپ لیتا ہے۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا کہ چاند سورج اور زمین کے درمیان میں آگیا جس سے بننے والا ہالا انگوٹھی کی شکل اختیار کر گیا۔ اسی مناسبت سے اسے 'رنگ آف فائر' کا نام دیا گیا ہے۔
سورج گرہن کا نظارہ بھارت کی مختلف ریاستوں سمیت متحدہ عرب امارات اور دیگر ملکوں میں بھی کیا گیا۔ پاکستان میں صبح سات بج کر 34 منٹ پر سورج کو گرہن لگنے کا عمل شروع ہوا جو 10 بجکر 30 منٹ پر اختتام پذیر ہوا۔ حیرت انگیز نظارہ لگ بھگ تین گھنٹے تک جاری رہا جس کے دوران مختلف مساجد میں نماز کسوف بھی ادا کی گئی۔
کراچی یونی ورسٹی میں سورج گرہن کو دیکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ جہاں طلبہ کی بڑی تعداد نے مختلف عینکوں اور آلات کی مدد سے یہ نظارہ دیکھا۔ ماہرین کی جانب سے سورج کو گرہن لگنے کے دوران شہریوں کو سورج کی سمت نہ دیکھنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ پاکستان میں تقریباً 20 برس بعد سورج گرہن کا نظارہ کیا گیا۔ اس سے قبل 1999 میں جزوی سورج گرہن دیکھا گیا تھا۔
پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں آج سال 2019 کا آخری سورج گرہن تھا۔سورج گرہن کے وقت اسلام آباد کی فیصل مسجد سمیت ملک کی بیشتر مساجد میں نمازِ کسوف ادا کی گئی۔ محکمہ موسمیات نے بتایا تھا کہ سورج گرہن پاکستان بھر میں دیکھا جاسکا جو خاص طور پر کراچی اور گوادر میں واضح ہوگا۔