پرویز مشرف نے سنگین غداری کیس کا فیصلہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا
- جمعہ 27 / دسمبر / 2019
- 4140
سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنے خلاف سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کے فیصلہ کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔
پرویز مشرف کی جانب سے ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے لاہور ہائی کورٹ میں 86 صفحات پر مشتمل درخواست دائر جمع کرائی ہے جس میں وفاقی حکومت اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست پر جسٹس مظہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں فل بینچ 9جنوری کو سماعت کرے گا۔
عدالت عالیہ میں دائر کی گئی اس درخواست میں نشاندہی کی گئی ہے کہ فیصلے میں غیرمعمولی اور متضاد بیانات موجود ہیں۔ خصوصی عدالت نے عجلت میں ٹرائل کو مکمل کیا جو کسی نتیجے تک نہیں پہنچا تھا۔ پرویز مشرف کی درخواست میں کہا گیا کہ خصوصی عدالت نے کرمنل پروسیجر کوڈ کے سیکشن 342 کے تحت ملزم کا بیان ریکارڈ کیے بغیر سزائے موت سنائی۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ مجرمانہ ٹرائل میں ملزم کا بیان ریکارڈ کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور اس میں کوئی غفلت، ناکامی اور بھول چُوک پراسیکیوشن کے کیس کو متاثر کرتی ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ مجرمانہ ٹرائل اس لازمی قانونی شرط پر عمل کیے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔ درخواست میں سنگین غداری کیس کے تفصیلی فیصلے کے پیراگراف نمبر 66 کو بھی چیلنج کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’ ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ مفرور/مجرم کو پکڑنے کے لیے اپنی بھرپور کوشش کریں اور اسے یقینی بنائیں کہ انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے اور اگر وہ وفات پاجاتے ہیں تو ان کی لاش کو گھسیٹ کر اسلام آباد میں ڈی چوک پر لایا جائے اور 3 دن کے لیے لٹکایا جائے‘۔
درخواست میں کہا گیا کہ خصوصی عدالت کے متعلقہ معزز صدر نے پیرا 66 کے ذریعے سنگدلی، غیر قانونی طریقے، غیر حقیقی طور پر کمزور کرنے والی، ذلت آمیز، غیر معمولی اور وقار کے خلاف ایک شخص کو سزا دے کر تمام مذہبی اخلاقی، سول اور آئینی حدود پار کیں۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ لاہور ہائی کورٹ، خصوصی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا پر فوری عمل درآمد روکنے کا حکم دے اور سزا کو کالعدم قرار دے۔