صومالیہ میں کار بم دھماکا، 76 افراد ہلاک
- ہفتہ 28 / دسمبر / 2019
- 5320
صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو کے مصروف علاقے میں ایک کار بم دھماکے سے 76 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔
دھماکا شہر کی مصروف ترین شاہراہ پر ہوا جہاں سیکیورٹی چیک پوائنٹ اور ٹیکس آفس کی وجہ سے ٹریفک کا رش تھا۔ دھماکے کی وجہ سے کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا جبکہ زخمیوں کو جائے وقوع سے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
موغادیشو میں القاعدہ کی اتحادی تنظیم الشباب کے جنگجوؤں کی جانب سے اکثر کار بم دھماکے کیے جاتے رہے ہیں۔ نجی ایمبولینس سروس امین کے ڈائریکٹر عبدالقدیر عبدالرحمٰن حاجی نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے 76 افراد کے ہلاک ہونے اور 70 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔
پولیس افسر ابراہیم محمد نے دھماکے کو تباہ کن قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہلاک افراد میں 2 ترک شہری بھی شامل ہیں۔ موغادیشو کے میئر عمر محمد نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد ابھی تک معلوم نہیں کی ہوسکی ہے تاہم 90 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے بعد میں تصدیق کریں گے۔ ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد یونیورسٹی کے طالب علم اور دیگر شہری تھے۔
عینی شاہد محب احمد کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی خوفناک سانحہ ہے کیونکہ جب یہ دھماکا ہوا تو اس وقت اس علاقے سے گزرنے والے زیادہ تر افراد میں طالب علم شامل تھے۔ ایک اور عینی شاہد کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد ہر طرف لاشیں ہی لاشیں تھیں جن میں سے چند جھلس کر شناخت کے قابل بھی نہیں تھیں۔ تاحال کسی بھی تنظیم کی جانب سے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔
القاعدہ کی اتحادی تنظیم الشباب کو صومالیہ کے دارالحکومت سے 2011 میں نکال دیا گیا تھا تاہم یہ تنظیم اب بھی ملک کے چند علاقوں پر کنٹرول رکھتی ہے جبکہ اس تنظیم کی جانب سے پڑوسی ملک کینیا میں بھی حملے کیے گئے ہیں۔
2 ہفتے قبل الشباب کے جنگجوؤں کی جانب سے موغادیشو کے ایک ہوٹل پر حملہ کیا گیا تھا جہاں سیاست دان، آرمی افسران اور سفارت کار کا آنا جانا رہتا ہے۔ 2015 سے اب تک صومالیہ میں 13 حملے کیے جاچکے ہیں جن میں 20 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ملک کی تاریخ میں سب سے خونریز حملہ اکتوبر 2017 میں موغادیشو میں ہؤا تھا جب ایک ٹرک دھماکے کی وجہ سے 512 افراد ہلاک اور 295 زخمی ہوگئے تھے۔