نیب ترمیمی آرڈیننس لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا
- ہفتہ 28 / دسمبر / 2019
- 4060
حکومت کی جانب سے نیب آرڈیننس میں ترامیم کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔ ایڈووکیٹ اشتیاق چوہدری نے نیب آرڈیننس میں ترمیم کے خلاف درخواست دائر کی ہے جس میں وفاقی حکومت اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ نیب آرڈیننس میں ترمیم آئین کے آرٹیکل 5، 19 اے اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست کے مطابق نیب سے مشتبہ شخص کو گرفتار کرنے کا خصوصی اختیار واپس لے لیا گیا ہے، تحقیقات سے متعلق اختیارات میں مداخلت کی گئی ہے اور تحقیقات سے قبل ایک نئی پلی بارگین متعارف کروائی گئی ہے جو کہ امتیازی سلوک ہے۔
لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ قومی احتساب بیورو کے اختیارات محدود کرنے سے کرپشن میں اضافہ ہوگا۔ نیب آرڈیننس میں انکوائری سے متعلق عوامی سطح پر بیان دینے پر پابندی آئین کے آرٹیکل 19-اے میں دیے گئے بنیادی حق کے بھی خلاف ہے۔ درخواست گزار نے کہا کہ حالیہ ترامیم متعارف کروا کے بیوروکریسی کو کرپشن کرنے کی چھوٹ دے دی گئی ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ نیب 50 کروڑ روپے سے کم کرپشن کے خلاف کارروائی نہیں کرسکے جس سے 49 کروڑ روپے کی کرپشن والا بچ جائے گا اور وہ یہی عمل دہرا سکتا ہے اس طرح کرپشن میں اضافہ ہوگا۔ احتساب آرڈیننس کے سیکشن 14 کو ختم کردیا گیا ہے جس کے تحت ملزم کو اثاثہ جات کے ذرائع ثابت کرنے ہوتے تھے۔
درخواست کے مطابق نیب قوانین سے متعلق آرڈیننس امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔ لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت نیب آرڈیننس میں ترمیم پر عملدرآمد روکنے کا حکم دے۔