حکومت نے آرڈیننس کے ذریعے نیب کے اختیارات میں کمی کردی

  • ہفتہ 28 / دسمبر / 2019
  • 4290

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ملک کے قومی احتساب آرڈیننس 1999 میں غیرمعمولی تبدیلیاں کی ہیں۔ اس سے نیب کے اختیارات کو محدود کیا گیا ہے۔

قومی احتساب (ترمیمی ) آرڈیننس 2019 کے تحت نیب اب صرف 50 کروڑ روپے سے زائد کی کرپشن سے متعلق کیسز کی انکوائری کرسکے گا۔ اس ترمیم سے احتساب قانون میں وسیع تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ پہلا احتساب آرڈی ننس 1999 میں سابق وزیراعظم نواز شریف کا تختہ الٹنے کے فوری بعد جنرل (ر) پرویز مشرف نے نافذ کیا تھا۔

ترمیم کے بعد بیوروکریسی اور کاروباری برادری کی متعدد شکایت کو مدنظر رکھتے ہوئے نیب کے اختیارات میں کمی کی گئی۔ بیوروکریسی اور کاروباری برادری نے شکایات کی تھی کہ نیب کی کارروائیوں کی وجہ سے بیوروکریٹس، کاروباری افراد اور صنعت کار بہت زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا یہ افسران فائلوں پر دستخط سے گریز کرنے لگے اور کاروباری افراد  سرمایہ کاری سے گریزکر رہے تھے۔

گزشتہ روز کراچی میں ایک تقریب سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ صدر عارف علوی کی جانب سے نافذ کیےگئے نئے آرڈیننس سے نیب اب  تاجر برادری معاملات نہیں دیکھ سکے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’نیب اور تاجر برادری کے لیے بہت بڑی رکاوٹ بن گیا تھا‘۔

وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ’ نیب کو صرف سرکاری افسران کی اسکروٹنی میں مصروف عمل ہونا چاہیے، تاجر برادری کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور دیگر اداروں کے ساتھ ساتھ عدالتیں بھی ہیں ‘۔ قانون میں ترامیم کے مطابق پراسیکیوٹر جنرل کی تعیناتی میں چیئرمین نیب کا کردار ختم کردیا گیا ہے۔ نیب انکوائری اور تحقیقات کے مراحل میں عوامی سطح پر کوئی بیان نہیں دے سکتا۔

ترامیم کے مطابق نیب اب 90 روز تک کسی مشتبہ شخص کو تحویل میں نہیں لے سکتا کیونکہ اس مدت کو کم کرکے 14 روز کردیا گیا ہے، ماضی میں ثبوت فراہم کرنے کی ذمہ داری  مشتبہ شخص پرتھی تاہم اب پراسیکیوشن کو الزام ثابت کرنا ہوگا۔

ترمیم کے ذریعے احتساب قانون میں انکوائری کی تکمیل کے لیے 60 ماہ کے عرصے کی مہلت شامل کی گئی ہے جبکہ ایک اور شق کے ذریعے نیب کو پابند کیا گیا ہے کہ ایک مرتبہ کارروائی مکمل ہونے کے بعد قومی احتساب بیورو کسی شکایت پر انکوائری / تحقیقات کا دوبارہ آغاز نہیں کرسکتا۔

بیوروکریٹس کی پراسیکیوشن کے لیے چیئرمین نیب، کابینہ اور اسٹیبلشمنٹ سیکریٹریز، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین اور سیکیورٹز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور ڈویژن برائے قانون و انصاف کے نمائندے پر مشتمل 6 رکنی اسکروٹنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ ان کی منظوری کے بغیر نیب کسی سرکاری ملازم کے خلاف  تحقیقات کا آغاز نہیں کرسکتا، نہ ہی انہیں گرفتار کرسکتا ہے۔

نیب کو اسکروٹنی کمیٹی کی پیشگی منظوری کے بغیر کسی پبلک آفس ہولڈر کی جائیداد ضبط کرنے سے روک بھی دیا گیا ہے۔ اب سرکاری افسروں کے خلاف انکوائریاں متعلقہ حکام یا محکموں کو منتقل کی جائیں گی۔