بھارت میں شہریت بل کے خلاف مظاہرے جاری، ہزاروں گرفتار
- اتوار 29 / دسمبر / 2019
- 3850
بھارتی ریاست اتر پردیش کے ایک اعلیٰ پولیس افسر کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ مظاہرین کو پاکستان چلے جانے کا کہہ رہے ہیں۔
بھارت میں نئے شہریت قانون کے خلاف احتجاج جاری ہے جسے ناقدین بھارت کے سیکولر آئین کی خلاف قرار دیتے ہیں۔۔ اترپردیش (یو پی) ملک کی سب سے گنجان آباد ریاست ہے جس کی 20 فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ وہاں مظاہروں میں اب تک 25 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ مظاہروں کے دوران یوپی پولیس کے اعلیٰ افسر اکھیلیش نرائن سنگھ کی ایک ویڈیو بنائی گئی ہے جس میں وہ مظاہرین سے کہہ رہے ہیں کہ ’اگر آپ یہاں نہیں رہنا چاہتے تو پاکستان چلے جائیں۔‘ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے۔
بعد ازاں پولیس افسر سنگھ نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ انہوں نے جو کچھ کہا وہ بعض مظاہرین کو جواب تھا جو پاکستان کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ پولیس افسر کا دعویٰ تھا کہ ’میں نے ان حالات میں انہیں پاکستان جانے کے لیے کہا۔‘
ویڈیو پر تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ نے شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) کے خلاف مظاہروں کے دوران پولیس کی بدسلوکی کے الزامات کی تردید کی۔ سخت گیر ہندو سوامی نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی سخت پالیسیوں کی بدولت ریاست میں امن بحال ہو گیا ہے۔ انہوں نے اپنے سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ ’ہر بلوائی کو دھچکہ لگا ہے۔ مشکل کھڑی کرنے والا ہر شخص حیران ہے۔ یوگی حکومت کا سخت رویہ دیکھ کو ہر کوئی خاموش ہے۔ آپ جو چاہیں کریں لیکن نقصان وہی پورا کریں گے جو نقصان پہنچائیں گے۔‘
گزشتہ ہفتے یوپی حکومت نے کہا تھا کہ وہ دو سو افراد سے زیادہ افراد سے لاکھوں روپے کا مطالبہ کر رہی ہے اور مظاہروں میں ہونے والا نقصان پورے کرنے کے لیے مظاہرین کی جائیداد ضبط کر لی جائے گی۔ انسانی حقوق کے گروپوں نے ریاستی حکومت پر مظاہرین کے خلاف ’غیر قانونی اور مہلک ہتھکنڈے‘ استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے اور یوپی میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کی مذمت کی ہے۔ ریاستی پولیس افسر ایک ہزار سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کر چکے ہیں۔
حزب اختلاف کی کانگریس پارٹی کے رہنماؤں نے’آئین بچاؤ بھارت بچاؤ‘ کے نعرے کے تحت ہفتے کو متنازع قانون کے خلف مظاہرہ کیا گیا۔ طالب علم کارکن اکھیلیش تومار نے کہا ہے کہ وہ ہمیں سزا دے سکتے ہیں۔ جیل میں ڈال سکتے ہیں۔ ہماری جائیداد ضبط کر سکتے ہیں لیکن وہ ہمیں مظاہرے کرنے سے نہیں روک سکیں گے۔ یہ طالب علم کارکن کانگریس کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور یوپی کے چار مسلم اکثریتی اضلاع میں مظاہروں کو مربوط کرنے میں مصروف ہیں۔
شمال مشرقی ریاست آسام میں بھی مظاہروں کی منصوبہ بندی کی گئی تھی جہاں تارک وطن طویل عرصے سے ایک جذباتی سیاسی مسئلہ چلا آ رہا ہے۔ دریں اثنا مودی کی پارٹی سے منسلک ہندو کارکنوں نے پسماندہ علاقوں میں ورکشاپس کا اہتمام کیا ہے تاکہ عوامی غصے کو کم کیا جا سکے۔ نئی دہلی میں ہندو جاگران سمیتی یا ہندو آگاہی کمیٹی کے رکن رام نریش تنور نے کہا ہے کہ ہمیں عام لوگوں کو حقائق کے بارے میں بتانا ہوگا جنہیں اپوزیشن شہریت کے قانون کے معاملے میں گمراہ کر رہی ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق دارالحکومت نئی دہلی سے دو گھنٹے کی مسافت پر موجود علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں شہریت کے متنازع ترمیمی قانون کے خلاف مظاہروں کے دوران تشدد کرنے کے الزام میں ایک ہزار سے زیادہ نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اور ملک کے مختلف علاقوں ابھی بھی اس قانون کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔
پرینکا گاندھی نے کہا ہے کہ جب وہ شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کرنے پر گرفتار ہونے والے ایک ریٹائرڈ پولیس آفیسر کے گھر جارہی تھیں تو انہیں روکنے کی کوشش کی گئی اور اسی دوران یہ سب ہوا۔ اس سلسلے میں اتر پردیش پولیس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پریانکا گاندھی کا دعویٰ غلط ہے۔