بلاول بھٹو کا سیاسی بیانیہ
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 29 / دسمبر / 2019
- 4890
پاکستان پیپلز پارٹی ایک سیاسی حقیقت ہے او ر جمہوریت کے تناظر میں اس کی سیاسی جدوجہد بھی باقی جماعتوں کے مقابلے میں قابل قدر ہے۔
پاکستانی سیاست میں اگر کسی جماعت نے سب سے زیادہ سیاسی قربانیاں دی ہیں تو اس میں پیپلز پارٹی کے نام کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایک زمانے میں پیپلز پارٹی چاروں صوبوں میں سیاسی اثر نفوز رکھتی تھی اور چاروں صوبوں کی زنجیر کا نعرہ بھی پیپلز پارٹی او ربے نظیر بھٹو کے لیے لگایا جاتا تھا۔پیپلز پارٹی کا سیاسی سفر زوالفقارعلی بھٹو سے شروع ہوکر محترمہ بے نظیر بھٹو تک اور ان کے بعد یہ سفر آصف علی زرداری سے لے کر بلاول بھٹو تک آتا ہے۔ آج پیپلز پارٹی کا سیاسی مستقبل بلاول بھٹو سے جڑا ہوا ہے اور اسی کی بنیاد پر پیپلز پارٹی کی کھوئی ہوئی سیاسی ساکھ کو بحال کرنے کا ایجنڈا بھی موجود ہے۔
پیپلز پارٹی کے نظریاتی او رحقیقی جیالیوں کی عمومی رائے یہ تھی کہ آصف علی زرداری کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کی کھوئی ہوئی سیاسی ساکھ کو اگر کوئی بحال کرسکتا ہے تو وہ بلاول بھٹو ہی ہوگا۔ پیپلز پارٹی کا نظریاتی ووٹر اور کارکن بلاول بھٹو سے آصف علی زرداری کی سیاست کے مقابلے میں ایک متبادل سیاست کی توقع رکھتا تھا۔ کیونکہ آصف علی زرداری کی سیاسی حکمت عملی نے پیپلز پارٹی کو اقتدار تو دلوایا لیکن مجموعی طور پر سیاسی تنہائی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ایک بڑی جماعت کا اندرون سندھ تک محدود ہونا پیپلز پارٹی کے تناظر میں ایک تشویشناک سوال ہے کہ یہ سب کچھ کیوں ہوا، کیسے ہوا او راس کے داخلی و خارجی محرکات کیا ہیں۔بلاول بھٹو کے لئے بھی ایک بڑا چیلنج آج کی سیاست میں پیپلز پارٹی کی سیاسی ساکھ کو بحال کرنا او رخاص طو رپر پنجاب کی سیاست میں اپنی اہمیت کو بڑھانا اور مقبولیت کو پیدا کرنا ہے۔
بلاول بھٹو کی سیاسی مجبوری یہ ہے کہ وہ ابھی تک آصف علی زرداری کی سیاسی گرفت میں ہیں۔ اب بھی پیپلز پارٹی میں فیصلہ سازی کا اصل اختیار اور طاقت آصف علی زرداری کے پاس ہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے اندر بھی ایسے لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو آصف علی زرداری کو اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ساتھ سازباز او رسیاسی جوڑ توڑ کا ماہر سمجھتے ہیں۔ان کے خیال میں اقتدار کے کھیل میں نظریات سے زیادہ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر جو سیاسی جوڑ توڑ ہوتا ہے اس کا ادراک بلاول بھٹو کے پاس نہیں بلکہ آصف علی زرداری ہی اس کھیل کا ٹرمپ کارڈ ہیں۔ آصف علی زرداری او ران کے بہت سے قریبی سیاسی جوڑ توڑ کے ساتھیوں کی نظر پیپلز پارٹی کی سیاسی بحالی سے زیادہ اقتدار میں اپنے حصہ کے حصول تک مرکوز ہوتی ہے۔
بلاول بھٹو یقینی طور پر پرجوش اور کچھ کرنے کا جنون یا شوق بھی رکھتے ہیں۔ لیکن وہ اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان کی اصل سیاسی طاقت پیپلز پارٹی کے نظریاتی او رپرانے ساتھیوں کے سیاسی تشخص کی بحالی سے وابستہ ہے۔ بلاول بھٹو، آصف علی زرداری کی سیاست کے نقش قدم پر چل کر اقتدار کے کھیل میں کچھ لے تو سکتے ہیں، مگر پیپلز پارٹی کی سیاسی بحالی ممکن نہیں۔بلاول بھٹو کو پیپلز پارٹی کی بحالی کے لیے عملی طور پر آصف زرداری کی سیاست کا متبادل بیانیہ درکار ہے۔ وہ بیانیہ پیپلز پارٹی کی داخلی اور خارجی دونوں سطحوں کی سیاست کو ایک نئی سیاسی طاقت یا آکسیجن فراہم کر سکتا ہے۔وہ محض اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف الزام تراشیوں، سیاسی کردار کشی، لعن طعن اور سیاسی بڑھکیں مارنے پر اپنی سیاسی طاقت خرچ نہ کریں۔ بلاول بھٹو کا اصل کام پارٹی کی تنظیم سازی او رایسے لوگوں کو سامنے لانا ہونا چاہیے جو واقعی پیپلز پارٹی کی شاخت او رچہرہ ہیں۔
بلاول بھٹو کو تسلیم کرنا ہوگا کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی ایک مردہ گھوڑا ہے او راس کی وجہ خود پیپلز پارٹی کی سیاسی حکمت عملی ہے جس کی وجہ سے یہ صوبہ پہلے مسلم لیگ ن او راب مسلم لیگ ن او رتحریک انصاف میں تقسیم ہوگیا ہے۔ جنوبی پنجاب میں بھی ان کی سیاسی طاقت محدود ہوئی ہے اور اب پنجاب میں پیپلز پارٹی کی سیاسی طاقت کی بحالی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ بلاول بھٹو کو پنجاب میں سیاسی بحالی کے لیے نئی طرز کی غیر معمولی سیاست درکار ہے او ریہ کام روائتی سیاست کے طور طریقوں سے ممکن نہیں۔ بلاول بھٹو کو سوچنا چاہیے کہ کیا وجہ ہے کہ اب پیپلز پارٹی میں نہ تو نیا سیاسی کارکن آرہا ہے او رنہ ہی پیپلز پارٹی سمیت بلاول بھٹو کا سیاسی بیانیہ نوجوان نسل کو متاثر کرتا ہے۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ بلاول بھٹو خود نوجوان ہیں اور ان کی نوجوان طبقہ میں عدم مقبولیت خود ان کے لیے بھی بڑا سوا ل ہے۔
بلاول بھٹو کو اپنی سیاست کو مقبول کرنے کے لیے ایک بڑا موقع سندھ میں حکمرانی کے نظام میں شفافیت کو پیدا کرنا او رایک ایسا مثالی حکمرانی کا نظام وضع کرنا تھا جو پورے ملک کے لیے مثال بن سکتا۔ سندھ میں پیپلز پارٹی تیسری بار تسلسل کے ساتھ حکومت میں ہے۔ یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں میں حکمرانی کے زیادہ مواقع ہیں۔لیکن سندھ کی حکمرانی اتنی ہی خراب ہے جتنی دیگر صوبوں کی او رکوئی ایسی حکمرانی کا نظام ہم سندھ میں نہیں دیکھ سکے جو دیگر صوبوں میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو متاثر کرسکے۔مقامی حکومت کے نظام کو مفلوج کرنا بھی پیپلز پارٹی کیلئے کوئی اچھی علامت نہیں۔18ویں ترمیم پر وفاق سے ناراضگی اپنی جگہ مگر خود سندھ میں ضلعی نظام کو اختیار دینے کے لیے وہ تیار نہیں ہیں او راس سے ان کی حکمرانی کا نظام بھی چیلنج ہوتا ہے۔
بظاہر ایسے لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی او ربلاول بھٹو کو تین چیلنجز کا سامنا ہے۔ اول وہ ابھی تک آصف علی زرداری کی سیاسی قید میں ہیں اور خود سے کوئی بڑا فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ دوئم ان کے ساتھ بھی خوشامدیوں کا ایک بڑا ٹولہ ہے جو ان کو اصل کام کرنے کی طرف راغب کرنے کی بجائے محاز آرائی کی سیاست میں دکھیلتا ہے۔ ان کی ساری تقرریں او ربیانات محاز آرائی کی سیاست کے گرد گھومتی ہے۔ وہ یقینا اپنے سیاسی مخالفین پر تنقید کریں لیکن پہلے اپنے گھر کا بھی جائزہ لیں کہ وہ او ران کی جماعت خود کہاں کھڑی ہے۔سوئم ابھی تک ان کی میڈیا ٹیم یا پاکستانی میڈیا ان کو ایک متبادل کھلاڑی کے طو رپر ان کاسیاسی امیج نہیں بناسکی۔ان کا بیانیہ مستقبل کی سیاست کی طرف ہوتا اور وہ موجودہ روائتی سیاست کے مقابلے میں کچھ ایسا پیش کرتے جو سب کے لیے امید کا پہلو ہوتا۔
پیپلز پارٹی کی ایک حقیقی طاقت نوجوان طبقہ، طلبہ، مزدور، کسان، اقلیتوں اور عورتوں کی تنظیمیں تھیں او ریہ ہی وہ فریق تھے جو پیپلز پارٹی کی حقیقی طاقت بھی سمجھے جاتے تھے۔ لیکن ان فریقین کو اپنے ساتھ ملانا یا ان کے لیے نئی حکمت عملی وضع کرکے ان کو اپنے لیے قابل قبول بنانا بلاول کا ایجنڈا ہونا چاہیے۔بلاول بھٹو کو الجھے ہوئے سیاست دان نہیں بلکہ ایک ایسے سیاست دان کے طور پر خود کو پیش کرنا چاہیے جو ریاست کے بحران کو حل کرنے کا واضح ایجنڈا اور حکمت عملی بھی رکھتا ہو اور یہ سب کچھ اس کی سیاست کے طرز عمل سے واضح نظر بھی آنا چاہیے۔اسی طرح اب وقت ہے کہ بلاول بھٹو اگر واقعی اپنا سیاسی مستقبل بنانا چاہتے ہیں تو اپنی صفوں میں سے ایسی کالی بھیڑیں بھی باہر نکالیں جن کی بنیاد پیپلز پارٹی کا ایجنڈانہیں بلکہ وہ کرپشن او ربدعنوانی جیسی سیاست سے جڑے ہوئے ہیں۔ بلاول بھٹو اگر یہ سمجھیں گے ان کی پارٹی شریفوں کی جماعت ہے تو اس سے بحران کم نہیں او ربڑھے گا۔وہ پارٹی کے پرانے او رنظریاتی ساتھیوں کی آوازوں کو سنیں جو ان کو بتاتے ہیں کہ کون ہے جو پارٹی کے لیے سیاسی بوجھ بن گئے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ 2020عوامی راج او رنئے انتخابات کا سال ہے۔ اول تو اس منطق میں کوئی وزن نہیں محض جذباتی نعرہ ہے۔لیکن کچھ دیر کے لیے مان لیتے ہیں کہ 2020میں نئے انتخابات ہوں گے تو کیا اس صورت میں پیپلز پارٹی کے لیے انتخابی نتائج 2018کے انتخابی نتائج سے مختلف ہوں گے، ہرگز ایسا نہیں۔2020کے بعد بھی کہا جائے گا یہ انتخابات بھی دھاندلی زدہ تھے او راسٹیبلیشمنٹ نے ہمیں ایک بار پھر ہروادیا۔ یہ بیانیہ بار بار نہیں چلے گا او ر اب بلاول بھٹو جذباتیت کے مقابلے میں سنجیدہ او ر ٹھوس سیاست کریں جو پیپلز پارٹی کو سیاسی طو رپر بحال کرسکے۔