نیب آرڈیننس سے ایماندار، دیانت دار لوگوں کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے: فردوس عاشق

  • سوموار 30 / دسمبر / 2019
  • 4940

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے قومی احتساب بیورو کے ترمیمی آرڈیننس پر کہا ہے کہ مخالفین نے نیب ترمیمی آرڈیننس پڑھا تک نہیں ہے۔ اس آرڈیننس سے ایماندار اور دیانت دار لوگوں کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں موجودہ حکومت ہر شعبے کے اندر گلے سڑے نظام کے خاتمے کے لیے ریفارمز ایجنڈا متعارف کروارہی ہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ 'ڈان لیکس کے بانی ریاستی اداروں کے خلاف سازشوں میں مصروف عمل رہے۔ ریاست کے ڈھانچے کو کمزور کرنے کے لیے اداروں میں ٹکراؤ کا سبب بنے۔  آج وہ لیکچر دے رہے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان پہلی مرتبہ پاکستان کی تاریخ میں اداروں کے درمیان پُل کا کردار ادا کر رہے ہیں اور ریاست کو مضبوط بنانے کے محاذ پر کھڑے ہیں۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ جنہوں نے نیب سے فائدہ اٹھایا اور جو حقیقی گٹھ جوڑ کی تصویر تھے وہ نیب آرڈیننس کو مدر آف این آر او  کہہ رہے ہیں۔ تاہم میں شرطیہ کہتی ہوں کہ انہوں نے نیب ترمیمی آرڈیننس پڑھا تک نہیں ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت اس ملک میں قانون کی بالادستی کی یقینی بنائے گی اور کسی فرد کی خوشنودی کے لیے کام نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ بدعنوان اور کرپٹ عناصر کو اس آرڈیننس میں کوئی ڈھیل نہیں دی گئی ہے کیونکہ یہ حکومت بدعنوانوں کو کسی بھی قسم کا ریلیف دینے کا تصور نہیں کرسکتی تاہم ایماندار اور دیانت دار لوگوں کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پاکستان کو کرپشن سے پاک ملک بنانے کے لیے کوشاں ہے اور اس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کا تعاون درکار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا وتیرہ ہے کہ ان کے جو لوگ پکڑے جاتے ہیں ان کے بارے میں انتقامی کارروائی کی باتیں کرتے ہیں۔ آج کل وفاقی تحقیقاتی ادارے  پر انتقام کی روشنی ڈالی جارہی ہے تاہم ایف آئی اے کو آزاد کیا گیا ہے اور نیب کو بھی آپ کے چنگل سے آزاد کردیا گیا ہے۔

وزیر اعظم کی معاون خصوصی نے کیا کہ قانون کو جوابدہ کرنے والے آج قانون کے سامنے جوابدہ ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ لیکن عمران خان جواب مانگتا رہے گا۔ اب قانون طاقتور ہوگیا ہے اور طاقتور لوگ قانون کے ماتحت ہوں گے۔ قائداعظم نے یہ ملک 5 فیصد طاقتور لوگوں کے لیے نہیں بنایا تھا۔

عمران خان، قائد اعظم کے حقیقی سپاہی بن کر ان کی اس خواہش پوری کرنے میں مصروف عمل ہیں۔