الوداع 2019
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 30 / دسمبر / 2019
- 9810
ایک غیر ضروری نوٹ
وہ 365 دنوں کا روزنامچہ جن کے صٖفحات میں میری زندگی کے ایک سال کا حساب درج ہے ، اب اپنے دو آخری صفحات میں سال بھر کا تتمہ لکھ رہا ہے جو میرے اعمال کی بیلنس شیٹ ہے ۔
میں اپنے روز و شب کو جس طرح ضائع کرتا رہا ہوں اور جس طرح اپنے ناکردہ اعمال کو کارنامے قرار دیتا رہا ہوں اُس پر میں کبھی شرمندہ نہیں ہوا کیونکہ چیونٹی کو ہاتھی بنانے کا فن مجھے خُوب آتا ہے ، میں سیاہ کو سفید کہنے کا ہُنر خوب جانتا ہوں ۔ باطل کی ہتھیلی میں حق کا سرسوں اُگا سکتا ہوں اور میں اپنے تمام سیاہ کرتوتوں کو چھپا کر خود کو عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ثابت کر سکتا ہوں اور وہ بھی کچھ اس طرح کہ لوگ میری باتیں سُن سُن کر سبحان اللہ اور ماشا اللہ کہتے نہیں تھکتے ۔
میں پچھلے ایک برس سے ایک بگڑی ہوئی نسل کے افلاس زدہ اور مقروض پاکستان کو مدینے کی ریاست بنانے میں مگن ہوں ۔ یہ میرا خواب ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر علامہ اقبال پاکستان کا خواب دیکھ سکتے ہیں تو میں مدینے کی ریاست کا خواب کیوں نہیں دیکھ سکتا ۔ علامہ اقبال بھی پنجابی تھے اور میں بھی ۔ میں بھی تقسیم سے قبل برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوا تھا اور وہ بھی ۔ وہ سیالکوٹ کے تھے اور میں چنیوٹ کا ۔ ہم دونوں کے جنم استھانوں کے ناموں کے آخری حروف واؤ اور ٹ ہیں ۔ دونوں حروف کو ملا کر لکھیں تو وٹ بنتا ہے ۔ وٹ اک پراسرار اسم ہے ۔ وٹ پنجابی میں غُصّے کو بھی کہتے ہیں اور راستے کو بھی ۔ یعنی ہم دونوں غُصّے کے راستے کے شاعرہیں ۔
اقبال کو برطانوی سامراج پر غصّہ تھا اور مجھے میجر مُلّا مستری سامراج پر وٹ چڑھا رہتا ہے ۔ مگر آپ میں سے کسی کو یہ حق نہیں کہ کوئی مجھے چیونٹی کہے اور اقبال کو ہاتھی اور ہمارے تقابل کو شرعی طور پر ناجائز قرار دیا جائے اور وہ اس لیے ممکن نہیں کہ اگر سیاسی نجومی مشرقی پاکستان سے بچھڑے ہوئے مغربی ہنس کو مدینے کی ریاست بنانے پر تُلے ہوئے تو مجھے اقبال بننے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ یعنی اقبال کا منی ایچر ۔ یا بانگِ درا میں رکھا ہوا کوئی مُڑا تُڑا کاغذ لیکن صاحب اس مُڑے تُڑے کاغذ میں میرا سال بھر کا کچا چٹھہ درج ہے کہ میں نے اپنے ہم وطنوں کے ساتھ اپنی محبت یا نفرت کس طرح بانٹی ہے اور کس کس طرح سے نظریات کا مردہ گلیوں میں گھسیٹا ہے جبکہ اصل میں مجھے آصف علی زرداری کو اسلام آباد ، لاڑکانہ ،لاہور ، کراچی ، پشاور اور کوئٹہ کی سڑکوں پر گھسیٹنا تھا مگر میری مصروفیات کچھ ایسی رہی ہیں کہ میں نے اپنا گھسیٹا گھسیٹم کا وعدہ بھول گیا تاہم مجھے کسی نے اپنا نام تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کیا۔ حالانکہ میں نے وعدہ کیا تھا کہ اگر میں اپنا وعدہ پورا نہ کرسکا تو میرا نام بدل دینا ۔
کچھ سیاسی بد روحوں نے میرے لیے کئی بدلے ہوئے نام تجویز بھی کیے مگر میں نے انکار کردیا ۔ اس کی پہلی وجہ یہ تھی کہ نام بدلنے سے فوراً حکومت یہ دعویٰ کرتی کہ دیکھا تبدیلی آگئی ہے اور دوسرے مجھے مجوزہ نام پسند نہیں آئے کیونکہ وہ میرے شایانِ شان نہیں تھے ۔میرے عہد میں ماڈل ٹاؤن میں ایک مولوی کی غیر قانونی فوج اور ہماری پولیس کے درمیان تصادم میں جو چودہ قتل ہوئے تھے ، اُن کے لہو میں مجھے گھسٹنے کی سازش کی گئی مگر اللہ نے مجھے محفوظ رکھا کیونکہ قتل کی وارداتوں میں اصل مجرم میاں نہیں مولوی ہے ۔ میرے عہد میں قصور کی زینب کا جو قتل ہوا اُس میں بھی مجھے مطعون کرنے کی کوشش کی گئی مگر جسے اللہ رکھے اُسے کون چکھے ۔ لیکن یہاں میں واضح کردوں کہ جس طرح عرب تلوروں کا شکار کرتے ہیں اسی طرح ہمارے ملک میں ایسے شکاری ہیں جو کم سن بچوں اور بچیوں کا شکار ہر موسم میں کرتے ہیں اور انہیں زندہ کھانے کے بعد قتل کرتے ہیں ۔
اس سلسلے کا آخری شکار تین روز قبل جمعیت العلمائے اسلام کے قاری شمس الدین نے مانسہرہ میں کیا اور پھر چھپ گئے مگر بھلا ہو مفتی کفایت اللہ کہ اںہوں نے قاری شمس کو پولیس کے حوالے کردیا ہے ۔اب کوئی اس سے یہ محاورہ گھڑنے کی کوشش نہ کرے کہ مفتی قاری کا بَیری ۔ نہیں ایسا نہیں ہے ۔ اور اس عظیم کارنامے پر مولانا فضل الرحمان خصوصی مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ایک کالی بھیڑ کی قربانی دی ہے ۔ اور مجھے یقین ہے کہ اس صدقے سے بہت سی بلائیں ٹل جائیں گی ۔
یہ سال ہر اعتبار سے مہنگائی ، بے روزگاری اور معاشی انحطاط کا سال رہا لیکن یہ بھی تو ایک تبدیلی ہی نا جس کا سہرا تبدیلی سرکار کے سر ہے ۔ اس سال کا سب سے بڑا واقعہ جنرل مشرف کو سنگین غداری کی سزا سنائے جانے کا ہے جس کے فیصلے میں پھانسی سے پہلے مر جانے پر لاش کو تین دن تک ڈی چوک میں لٹکانے کا پیراگراف بھی شامل ہے ۔ اسے کہتے ہیں انصاف جو تحریک انصاف کے عہد میں وقوع پذیر ہوا ۔ اب اس فیصلے پر عمل درآمد ہو یا نہ ہو مگر ہم نے فیصلہ تو دے دیا ہے ۔ اس عہد کا دوسرا بڑا واقعہ جو رونما ہوا نیب کو خصی کرنے کا ہے اور اب وہ ہر کرپشن کے پھٹے میں ٹانگ نہیں اڑا سکے گی ۔ اس فیصلے کا اعلان تبدیلی سرکار کے وزیر اعظم نے یہ کہہ کر کیا کہ اس سے کچھ دوستوں کو خوشی ہوگی۔ اس اعلان سے جو میں سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہ کرپشن کرنے والوں میں وزیر اعظم کے دوست بھی ہیں ۔ دوستی بڑی اچھی چیز ہے ۔ آپ کی دوستی کسی بھی پالتو جانور سے ہو سکتی ہے اور جانور کی تعریف جو مولانا الطاف حسین حالی نے کی ہے وہ یوں ہے :
آدمی ، جانور ، فرشتہ ، خُدا
آدمی کی ہیں سینکروں قسمیں
یعنی کرپشن اور منی لانڈرنگ کے جانور بھی دوست ہو سکتے ہیں ۔ ویسے بھی کرپشن کے باب میں ہمارا رویہ یہی رہا ہے اگر میں کرپٹ ہوں تو تُو بھی کم نہیں ہے ۔ اگر فریال تالپور کے خلاف الزامات ہیں تو باجی حلیمہ کا نام بھی لیا جا سکتا ہے ۔ اگر جاتی امرا محل ، زرداری ہاؤس اور بلاول ہاؤس کی جاگیریں ہیں تو بنی گالہ بنگلہ بھی ہے ۔
یہاں رشوت ، بھتہ خوری ، ڈاکہ زنی اور کُک بیکس کا کوئی مذکور نہیں بلکہ ہم تو پاکستان کے عام آدمی کی مجبوریوں کے نوحہ خوان ہیں کہ ہم پاکستان بنا کر بھی پاکستان نہیں بنا سکے ۔ یہ ہم کون ہیں ۔ جی میں ایک ہی آدمی ہوں اور میرا نام آصف نواز فضل شہباز عمران باجوہ ہے ۔ کمال ہے آپ مجھے نہیں جانتے ۔ بس بس زیادہ بننے کی ضرورت نہیں ۔ میں پاکستان کی تین سو پینسٹھ دنوں کی دستاویزی فلم کا مصنف اور ہدایت کار ہوں اور میرا ہونا برِ صغیر میں اسلام کی عظمت اور غلبے کی گواہی ہے ۔ اب میرے لیے زندہ باد کا نعرہ لگایے کہ یہ میرا استحقاق ہے ۔
پاکستانی جمہوریت زندہ باد !
پاکستانی عوام کا دکھ اور اذیّت پائندہ باد