حکومت الیکشن کمیشن ارکان کی تقرری میں ناکام، مزید 15 دن کی مہلت
- منگل 31 / دسمبر / 2019
- 3940
اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے 2 نئے ارکان کی تعیناتی کے لیے حکومت کو مزید 15 دن کی مہلت دی ہے۔
وفاقی حکومت نے الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری سے متعلق مہلت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے الیکشن کمیشن کے 2 نئے ارکان کی تعیناتی کے لیے مزید مہلت کی استدعا منظور کرلی۔
دوران سماعت قومی اسمبلی کے لیگل ایڈوائزر عبداللطیف یوسفزئی نے کہا کہ گزشتہ روز پارلیمانی کمیٹی کا آخری اجلاس ہوا تھا لیکن دھند کی وجہ سے کچھ اراکین شریک نہیں ہوسکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کمیٹی نے جو قوانین بنائے تھےموجودہ حالات میں وہ قابلِ عمل نہیں۔
دوران سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پارلیمانی کمیٹی اپنے رولز خود بناسکتی ہے وہ پہلے سے بنائے گئے رولز کے تحت کام نہیں کررہی۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جو بھی کمیٹی بنے گی اس کے قوانین بھی مستقل نہیں ہوں گے۔ ابھی جو کمیٹی کام کررہی ہے وہ اپنے قوانین خود بناسکتی ہے۔
عبداللطیف یوسفزئی نے کہا کہ پارلیمنٹ غلطی کرے تو اس کو سدھار بھی لیتی ہے جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ کبھی غلطی نہیں کرسکتی وہ 22 کروڑ عوام کی نمائندہ ہے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ اگر قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کسی ایک شخص پر اتفاق نہیں کرسکتے تو ہم کیا کہہ سکتے ہیں؟ عدالت تو توقع ہی کرسکتی ہے کہ کسی ایک نام پر اتفاق ہوجائے گا۔
دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس میں مزید کہا کہ پارلیمانی کمیٹی رولز میں تبدیلی کرنا چاہتی ہے تو وہ کمیٹی کا اختیار ہے۔ اس پر عبداللطیف یوسفزئی نے کہا کہ 10 دن کا وقت دے دیں انشااللہ آئندہ سماعت میں آپ کو خوشخبری دیں گے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کے 2 نئے ارکان کی تعیناتی کے لیے حکومت کو 15 روز کی مہلت دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 15 جنوری تک ملتوی کردی۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں سندھ اور بلوچستان کے اراکین جنوری میں ریٹائر ہوئے تھے اور آئین کے مطابق ان عہدوں پر 45 دن میں اراکین کا تقرر ہونا تھا لیکن اپوزیشن اور حکومت کے اختلافات کے باعث یہ نہ ہوسکا۔ اسی طرح چیف الیکشن کمشنر کی مدت 5 دسمبر کو ختم ہوگئی تھی۔
اس معاملے ہر حکومت اور اپوزیشن نے سندھ اور بلوچستان کے اراکین کے لیے 3، 3 نام تجویز کیے تھے اور اتفاق رائے کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔ بعدازاں 5 دسمبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے پارلیمنٹ کو الیکشن کمیشن اراکین کے تقرر کا معاملہ 10 روز میں حل کرنے کی ہدایت کی تھی۔
چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے معاملے پر بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوپایا۔ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے لیے نامزد امیدوار بابر یعقوب فتح محمد آج سیکریٹری الیکشن کمیشن کے عہدے سے سبکدوش ہوجائیں گے۔