مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سفارتی کوششوں کی تجدید کا فیصلہ
- منگل 31 / دسمبر / 2019
- 4270
بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر دنیا کی خاموشی توڑنے کے لیے پاکستان کی حکومت نئی سفارتی کوششوں کے ساتھ میڈیا مہم شروع کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امور خارجہ کی ایڈوائزری کونسل اور بین الوزارتی کمیٹی کے اجلاسوں کی سربراہی کی، جس میں مقبوضہ کشمیر میں بگڑتے ہوئے انسانی بحران، لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی شدید خلاف ورزی اور بھارت کے متنازع شہریت قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج پر گفتگو کی گئی۔
جمعہ کو بھارت میں بگڑتی صورتحال اور بھارتی مسلح افواج کی جانب سے پاکستان کے خلاف کسی قسم کی عسکری کارروائی کے خطرے پر وزارت خارجہ کے سابق سیکریٹریز کے ساتھ ایک مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا تھا۔ اس ایڈوائزری کمیٹی اجلاس میں وزات خارجہ کے سابق سیکریٹریز کے علاوہ ریٹائرڈ سفارتکاروں اور امور خارجہ کے ماہرین نے شرکت کی تھی جنہوں نے مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست کے بعد سے جاری کرفیو کے باعث بگڑتے ہوئے انسانی بحران کو اجاگر کرنے کے لیے سفارتی تعلقات کو دوبارہ مضبوط کرنے کی تجویز دی تھی۔
دوسری جانب بین الوزارتی کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی برائے قونی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف اور سیکریٹری خارجہ سہیل محمود نے شرکت کی اور خارجہ پالیسی کے اہم معاملات بالخصوص کشمیر کے تنازع پر پاکستان کے موقف کی ترویج کے مختلف طریقوں پر غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ حکومت مقبوضہ وادی میں رہنے والے کشمیریوں کی حالت زار اجاگر کرنے کے لیے پُرعزم ہے اور اس ضمن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت تمام بڑے فورمز پر کشمیریوں کی آواز بلند کرنے کے لیے تمام تر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا کی کوریج دنیا کو کشمیریوں کو درپیش مشکلات کی جانب توجہ دینے کی دعوت دے رہی ہے۔ ایک علیحدہ بیان میں وزیر خارجہ نے سٹیزن امینڈمنٹ ایکٹ (سی اے اے) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزینز کے خلاف ہونے والے احتجاج پر کہا کہ آج بھارت مکمل طور پر تقسیم ہے۔ ایک طبقہ سیکیولر بھارت کی حمایت کررہا ہے جبکہ دوسرا طبقہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ہندوتوا ایجنڈا کا حامی ہے۔ اب یہ لڑائی کسی ایک مذہب، نسل یا خطے تک محدود نہیں بلکہ پورے بھارت میں پھیل چکی ہے۔
وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ عوام دنیا کے دوہرے معیار کے بارے میں بات کر رہے ہیں اور میرے خیال میں ان ممالک کو اپنے چھوٹے مفادات کو ترجیح دینے کی بجائے بھارت میں انسانیت کی مشکلات پر بات کرنی چاہیے۔
واضح رہے کہ رواں برس اگست میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے کشمیر کو اپنی اکائی بنا دیا تھا جس کے بعد سے نافذ کرفیو میں وہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری جانب بھارتی حکومت نے متنازع شہریت بل کو قانون کی شکل دے دی تھی جس کے تحت ہمسایہ ممالک سے آنے والے صرف غیر مسلم پناہ گزینوں کو بھارتی شہریت دی جائے گی۔