شیعہ ملیشیا پر بمباری کے بعد عراق اور امریکہ کے درمیان کشیدگی

  • منگل 31 / دسمبر / 2019
  • 4840

عراق کی حکومت نے ایران نواز ملیشیا کے خلاف امریکہ کی حالیہ فضائی کارروائی پر خبر دار کیا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں سے امریکہ کے ساتھ تعلقات خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

امریکی جنگی طیاروں نے اتوار کو ایران نواز جنگجو تنظیم کتائب حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا جس میں تنظیم کے اہم کمانڈروں سمیت کم از کم 25 جنگجو ہلاک اور 51 زخمی ہوگئے تھے۔  عراق کی حکومت نے پیر کو امریکہ کی اس کارروائی پر  رد عمل میں کہا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں ملکی خودمختاری کے خلاف ہیں۔ اس معاملے پر امریکی سفارت کار کو طلب کیا جائے گا۔

عراق کی قائم مقام حکومت نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ امریکی فورسز اپنے سیاسی مقاصد کے لیے کارروائیاں کر رہی ہیں، انہیں عراق کے عوام سے کوئی غرض نہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ عراق کے حکام امریکی مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔

امریکہ کی فضائی کارروائی کے بعد عراق کے شیعہ اکثریتی شہر نجف، بصرہ اور کرک میں عوام کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا اور مشتعل افراد نے امریکی پرچم بھی نذر آتش کیے۔ عراق کے منتخب ارکان نے امریکی فورسز کو ملک سے بیدخل کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ عراق کو امریکہ کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کرنا ہوگی تاکہ ملکی خود مختاری کے لیے سیاسی، سیکیورٹی اور قانونی معاملات کو نئے سرے سے ترتیب دیا جائے۔ عراق کے درجنوں ارکان اسمبلی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ اس معاہدے پر نظرثانی کی جائے جس کے تحت امریکی فوج کے 5200 اہلکار ملک میں تعینات ہیں۔

امریکہ کے معاون وزیر خارجہ ڈیوڈ شنکر کا کہنا ہے کہ امریکہ کی فضائی کارروائی حزب اللہ بریگیڈ کی جمعے کو کرکک میں کیے جانے والے راکٹ حملوں کے جواب میں کی گئی جس میں ایک امریکی سویلین کنٹریکٹر ہلاک ہوا تھا۔  انہوں نے مزید کہا کہ ہم عراق میں کشیدگی نہیں چاہتے بلکہ یہاں کشیدگی کے خاتمے کے لیے موجود ہیں۔

عراق کے سیاسی رہنما خوفزدہ ہیں کہ ان کا ملک ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کی وجہ سے میدان جنگ بن سکتا ہے۔ یاد رہے کہ عراق میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے پیش نظر ملک بھر میں ہونے والے پرتشدد احتجاج کے بعد حال ہی میں وزیر اعظم عادل عبدالمہدی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔