پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی سے ہر سال ایک لاکھ 28 ہزار افراد ہلاک ہوتے ہیں
- منگل 31 / دسمبر / 2019
- 4300
ایڈیشنل سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی نے بتایا ہے کہ پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے ہر سال ایک لاکھ 28 ہزار افراد کی موت واقع ہوجاتی ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے ارکان کو بتایا گیا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے اوسط عمر میں 2 سے 5 برس تک کمی آسکتی ہے۔ سینیٹرز کو آگاہ کیا گیا کہ ملک میں 43 فیصد آلودگی کم معیاری تیل کی درآمد، ٹرانسپورٹ اور پاور سیکٹر کی وجہ سے ہے۔ پاکستان 2021 تک ماحول دوست ایندھن کا استعمال نہیں کرسکتا۔
آئل سیکٹر میں پاکستان کی آخری پالیسی 1997 میں بنائی گئی تھی اور اس کے بعد سے کسی نے ایسی پالیسی نہیں بنائی جو ٹیکنالوجی، ترقی اور دیگر ضروریات کے مطابق ہو۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکر کی سربراہی میں انسانی حقوق کی کمیٹی نے لاہور میں اسموگ کے بعد موسمیاتی تبدیلی کا معاملہ اٹھایا تھا۔
قائمہ کمیٹی نے گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں وزیر موسمیاتی تبدیلی، حکومت پنجاب کے نمائندوں، وزارت پیٹرولیم، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور آئل ریفائنریز کے نمائندوں کو شرکت کی دعوت دی تھی۔ اجلاس میں ایڈیشنل سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی جودت نے کمیٹی کو بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی کہ وجہ سے براہ راست یا بالواسطہ سالانہ ایک لاکھ 28 ہزار اموات ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچے اعضا کی بیماریوں سے لڑنے میں کمزور ہورہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 43 فیصد آلودگی درآمد کیے گئے غیرمعیاری تیل کی وجہ سے جو ٹرانسپورٹ انڈسٹری اور انرجی سیکٹر کی جانب سے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایڈیشنل سیکریٹری نے مزید کہا کہ پاکستان میں یورو-2 معیار لاگو ہوتا ہے جبکہ دنیا یورو-6 ٹیکنالوجی پر پہنچ چکی ہے۔
سینیٹرز کو بتایا گیا کہ کم پیداوار اور صحت کے اخراجات سے موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے 9 فیصد شرح نمو متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مضبوط تعاون کی ضرورت ہے اور ملک بھر میں معیار یکساں ہونے چاہیئیں۔ ملک کی 5 آئل ریفائنریز تاحال قدیم ہیں اور ہمارے تیل میں میگینیشیم اور سلفر کے اجزا شامل ہیں جو صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ریفائننگ پالیسی 1997 میں آئی تھی اور اس کے بعد سے لے کر اب تک کوئی تجدید شدہ فریم ورک سامنے نہیں آیا۔ تاہم وزارت نے ریفائنریز کو ٹیکنالوجی اور استعمال کی اپ گریڈنگ سے متعلق ہدایات اور قوانین جاری کیے ہیں۔
انہوں نے کہا اگر معمول کے معائنے کے ساتھ گاڑیوں کو اپ گریڈ نہیں کیا جاتا تو یورو-4 اور یورو-5 کے متضاد اثرات ہوں گے۔ ایندھن کے معیار اور اخراج پر بیک وقت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
قائمہ کمیٹی نے تمام متعلقہ محکموں کو اس مسئلے پر تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی تاکہ قانون سازی اور پالیسی سے متعلق اقدامات کیے جاسکیں۔ سینیٹر مصطفیٰ کھوکھر نے کہا کہ انہوں نے لاہور میں اسموگ کی وجہ سے معاملے کا نوٹس لیا لیکن وہ اس لیے بھی تبادلہ خیال کرنا چاہتے تھے کیونکہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا پانچواں ملک ہے۔