خود پر بھروسہ کرنا سیکھیں

جب ایک بچہ دنیا میں آتا ہے تو دوسروں کے بھروسے ہی زندہ رہتا ہے۔  بڑے ہوکر طرح طرح کے خوف اسے ستانے لگتے ہیں۔  جب بچہ گر تا ہے تو دوبارہ کھڑا بھی ہوتا ہے۔  یہ اس مرحلے کا فطرتی حصّہ ہے۔ مسلسل کوشش سے بچہ آخرش چلنے میں کامیاب ہو ہی جاتا ہے۔  بچہ اپنی ٹانگوں پر شک نہیں کرتا۔  وہ چلنے کی کوشش بند نہیں کرتا۔  وہ بعد میں دوڑتا بھی ہے اور اچھلتا کودتا بھی ہے۔  اسے اپنی ٹانگوں کی صلاحیت پر پورا اعتماد ہے۔ 

کسی پر بھروسہ کرنے سے پہلے اس انسان یا اس چیز کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔  خود پر، خدا پر یا کسی بے جان چیز پر اپنی معلومات کے مطابق اعتبار کرنا، توقعات رکھنا اور اس رشتے سے کچھ حاصل کرنا، انسان کی بنیادی ضرورتوں میں شامل ہے۔ اس لئے ہمیں اپنے اندر کی آواز کو نہیں بھولنا چاہئے۔  خدا نے ہمیں اپنے نور سے بنایا ہے۔ یہ نور خدا سے قربت حاصل کرنے کے لئے اور حکمت و دانائی کے لئے ضروری ہے۔  ہمارا ضمیر وہ عظیم استاد ہے جو زندگی کے ہر تجربے کے لئے ہمیں دور اندیشی، معلومات اور رہنمائی فراہم کرتا ہے۔  اعتماد کے جذبے کی آبیاری کے لئے اپنی اندرونی آواز سے واقفیت ضروری ہے۔  جب ہم اپنے ضمیر کی نہیں سنتے، ہم رہنمائی سے دور ہوجاتے ہیں۔  اصل چیز یہی ہے کہ یقین رکھا جائے کہ ہمیں جو بھی جاننے کی ضرورت ہے وہ ہمیں معلوم ہوجائے گا اور صحیح وقت پر وہ معلومات ہم کو حاصل بھی ہوجائیں گی۔  جیسے جیسے ہم عرفان و معرفت کی منازل طے کرتے ہیں، ہماری روحانی بینائی کو جلا نصیب ہوتی ہے۔

جب تک آپ خود کو غلطیاں کرنے کی اجازت نہ دیں اور خود اعتمادی سے مسائل کا سامنا نہ کریں، آہستہ آہستہ قدم نہ بڑھائیں اور اپنی اندرونی رہنمائی کو ساتھ لے کے نہ چلیں، حسن ظن سے کام لینامشکل ہوگا۔  اپنی کم مائگی کا اعتراف کرنا کمزوری نہیں ہے بلکہ اعتماد کی  بنیادی ضرورت ہے۔  تولیت کی پہلی شرط ہے کہ ہم اپنی لاعلمی کو قبول کریں اور جوچیز ہم کو معلوم ہے اس کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔ انسان غلطیاں کرتا ہے اور اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے۔  نئی چیزیں سیکھنے سے اس کی شخصیت کی آبیاری ہوتی ہے۔  دوبارہ  بھروسہ سیکھنے کے لئے چاہ ضروری ہے۔

بھروسہ کرنے کی صلاحیت بڑھتی رہتی ہے۔  لوگوں اور چیزوں کے بارے میں اپنی فہم و ادراک کے دائروں کو وسیع تر کرنے کا کوئی آسان راستہ نہیں ہے۔زندگی ایک مرحلہ ہے اور اس مرحلے کے اندر کئی سارے مراحل ہیں جو ہمیں زیادہ مضبوط بناتے ہیں۔  بالغ ہونے کے بعد، بچپن کی توقعات کو تھامتے رہنا نادانی ہے۔ یہ سوچنا کہ ہم جس چیز کوپسند کرتے ہیں، جس طریقے یا وقت پراس کا مطالبہ کرتے ہیں بغیر کسی مشکل یا پریشانی کا سامنا کرکے ہم حاصل کرسکتے ہیں۔  اسی طرح یہ سوچنا کہ ہم جیسا تصور کرتے ہیں لوگ ویسے ہی نکلیں گے یا ہم جو چاہتے ہیں وہ ویسا ہی کام انجام دیں گے اور جب چاہیں ہمارے لئے حاضر رہیں گے، صحتمند رویہ نہیں۔  زندگی  ایسے نہیں چلتی۔  جہاں تک کارزارِ حیات کے متعلق حسن ظن کی بات ہے ہمیں اپنی توقعات کو لگام دینا ہوگا۔

 مشکلات ہی رشتوں کو مضبوط بناتی ہیں۔   مشکلات  حوصلے کی نشونما کرنے میں مدد کرتی ہیں۔  جب تک ہم ان مشکلات کو قبول نہ کریں ہمیں اور زیادہ مشکلات سے گزرنا ہوگا، اورتب تک زندگی میں خوشیاں یا چین نہیں آئے گا۔  وقت کے ساتھ صلح کرنا بھی ضروری ہے۔  یہ بات یاد رکھیں کہ وقت کے ساتھ ہی تمام کام پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے۔  خود کو اور دوسروں کو سمجھنے میں وقت لگتا ہے۔  طویل مدت پر رابطہ کا تجربہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم رشتوں کو کیسے نبھائیں یا اگر رشتے ٹوٹ جائیں تو ہم کیا کرسکتے ہیں۔  ان تمام چیزوں کے لئے وقت، صبر، حوصلہ اور بھروسے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہمارا ماضی ہمیں بہت کچھ سکھاتا ہے۔ گزشتہ تجربوں سے ہم  سیکھ سکتے ہیں جس سے ہم آگے قدم بڑھاسکتے ہیں۔  ہمارا ماضی ہمارے پاؤں کی زنجیر نہیں جو ہمیں آگے بڑھنے سے روکے۔دنیا کا ہر انسان غلطیاں کرتا ہے۔  زندگی میں کم سے کم ایک بار ہم غلط لوگوں کی صحبت میں رہتے ہیں۔  بعض اوقات اچھے مواقع ہاتھ سے نکل جاتے ہیں اور کبھی ہم جلد بازی سے کام لیتے ہیں یا کبھی ہم بہت سست رفتار سے رد عمل دکھاتے ہیں۔  ہم غیر متوقع پریشانیوں میں پڑجاتے ہیں۔  کبھی کوئی چیز یا کوئی انسان ہم میں خوف یا تذبذب پیدا کرتا ہے یا ہم ان پر غلط رائے قائم کرتے ہیں۔  اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم بے وقوف ہیں یا ہماری ایک یا زیادہ غلطیوں سے ہماری زندگی فناہوجائے گی۔  ان منفی خیالات کے حصار میں مقید ہونے سے یہی بہتر ہے کہ ہم اپنی غلطیوں، کمزوریوں اور اٹھائے گئے غلط قدم کا استعمال کر کے خود کو مضبوط بنائیں۔

غلطیاں کرنے سے، اپنی اصلاح کرنے سے اور آگے بڑھنے سے ہی خود اعتمادی پنپتی ہے۔  ہماری قوتِ ارادی سے ہی خود پر یقین پیدا ہوتا ہے اور ہم زندگی کے لامحدود مواقعے کی طرف نگاہ اٹھاتے ہیں اور زندگی کو بہتر سمجھ پاتے ہیں۔  جس چیز کا یقین ہو اسی سے نئے خیالات اور خود میں اعتماد کی نئی لہر جنبش کرتی ہے۔  منزل تک پہنچنے کے لئے زندگی ہمیں تیار کرتی ہے۔  حالات ہمیشہ سازگار نہیں ہوتے۔  جو چیزیں یا جو لوگ ہمارے لئے صحیح نہیں ہیں وہ لوگ یا وہ حالات ہم سے دور ہوتے جائیں گے۔  پہلی بار میں ہمت ہار جانے سے، یا دھوکے کا احساس ہونے سے آپ کو اپنی اصلی جگہ نہیں ملے گی۔  مسترد ہونے کا ہر تجربہ آپ کے لئے خود پر اور زندگی پر اعتماد کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔  اکثر ہم سمجھتے ہیں کہ کسی نئے تجربے کی شروعات میں آپ کو بھروسہ سے کام لینا ہے۔  درحقیقت کسی مشکل تجربہ کا سامنا کرنے سے اعتماد کرنے کی صلاحیت بڑھتی ہے۔  بھروسہ رکھنا بھی ایک عضلہ ہے جو محنت و مشقت سے زیادہ مضبوط بنتا ہے۔  مشکل سے بھاگنے سے وہ عضلہ کمزور ہوجاتا ہے۔

زندگی کے اہم فیصلوں کے میں خوف یقینا موجود رہتا ہے۔ کیا میں اس انسان کے ساتھ پوری زندگی گزار سکتا ہوں، کیا یہ مناسب قدم ہے؟ کیا یہ لوگ سچ کہہ رہے ہیں؟ کیا میں جو محسوس کر رہی ہوں وہ ٹھیک ہے؟ کیا یہ صحیح وقت ہے؟  ایسے اہم سوالات بھروسے کی بنیادیں ہیں۔  کبھی کبھی مناسب جواب مل جاتا ہے اور کبھی نہیں ملتا۔  بھروسہ کرنے کے لئے آنکھیں بند کرکے دل کی آوازکو سننا ضروری ہے۔  ہمارا دل کیا چاہتا ہے، اس کو سمجھنا ضروری ہے۔  اس طرح اس وقت ہمیں جو صحیح لگتا ہے اسی کے مطابق قدم بڑھانا ہے۔

خود کو جاننا ضروری ہے۔  اپنی حقیقت سے واقفیت اعتمادکے لئے راہ ہموار کرتی ہے۔  جس چیز کو سمجھ نہیں پاتے اس پر یقین کرنا ناممکن ہے۔  خود پر اور زندگی پر بھروسہ کرنے سے پہلے خود کوپہچان کر، اپنی صلاحیتوں سے روشناس ہونا لازمی ہے۔  ہم کن چیزوں کے لائق ہیں، ایسی تمام چیزوں کو بخوبی پہچاننا ضروری ہے۔

آپ کے وقت اور توانائی پر آپ کو پورا حق ہے۔  آپ اپنے بھروسے کے لائق ہیں۔  خود پر بھروسہ رکھئے کہ آپ دنیا میں بہتر بننے کے لئے آئے ہیں اور آپ کے ذریعے زندگی آگے بڑھتی ہے۔  بھروسہ کرنے سے ہی ہم زندگی کو گلے لگاکر اس کا پورا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ بھروسہ کرنا خود سے محبت کرنے کی عمدہ مثال ہے۔  اپنے بارے میں نیک رائے قائم کریں۔  اس طرح ہم دوسروں سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہم سے کس طرح کا رویہ اختیار کرسکتے ہیں۔دنیا والے ساتھ چھوڑ دیں، ہم اپنا ساتھ کبھی نہ چھوڑیں۔ خود پر بھروسہ نہ کرنے سے زندگی میں دکھ کا تجربہ ہوتا ہے اور زندگی کے قیمتی لمحات رائگاں جاتے ہیں۔ 

خود پر بھروسہ کرنے سے ہمارا دل اورہمارا ذہن صحتمند رہتا ہے۔  زندگی کا پورا فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے کیونکہ کوئی ہمیں مایوس نہیں کرسکتا۔  ہم اپنی انسانیت کا احترام نہایت عاجزی سے کرپائیں ہیں۔  خود پر بھروسہ کرنے سے ہم اپنی کمزوری کا اعتراف کرتے ہیں اور بلا تردد ان کوتاہیوں کا سامنا کرپاتے ہیں۔  ایسے میں ہم اپنی زندگی میں تیزی سے آگے قدم بڑھاتے ہیں اور بڑھتے جاتے ہیں۔

خود پر بھروسہ نہ کرنے سے ہم وقت اور حالات کے شکار بنتے ہیں۔  ذہنی، جذباتی اور روحانی نشونما کے لئے اعتماد مرکزی کردار ادا کرتاہے۔  اس طرح ہم اپنے خیالات کو زیادہ سازگار بنا پائیں گے۔  ورنہ صرف پریشانیاں ہی گلے پڑیں گی جن میں الجھ کر زندگی یاسیت کا ایک طویل سلسلہ معلوم ہوتا ہے۔  خود پر بھروسہ نہ کرنے سے ہم اپنی اندرونی آواز کو نہیں پہچان پاتے۔  اس طرح دوسرے بھی ہماری باتوں کا یقین نہیں کرتے۔  ہم اپنے ہی دشمن بن کر خود سے الجھنے لگتے ہیں اور دوسروں پر اپنی کمزوری اور انتخابات کا الزام ڈالتے ہیں اور اپنی حقیقت تعمیر کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔

جس خالق نے ہمیں دنیا پر بھیجا ہے اس پر بھروسہ کرنا ہماری زندگی کا مقصد ہے۔  بھروسہ وہ رابطہ ہے جو ہمیں اپنے خالقِ حقیقی سے ملاتا ہے۔  اس کے بغیر ہم تنہا خلاؤں میں براستے تلاش کرتے رہتے ہیں۔  ہماری ہر خواہش اور ہر ضرورت خدا کی مرضی سے ہی پوری ہوتی ہے۔  دنیا کے مکر و فریب میں ہم اپنے خدا سے رابطہ کھو دیتے ہیں۔  اس طرح اکیلے رہ کر ہم زندگی سے مایوس ہوجاتے ہیں۔ 

خدا پر بھروسہ کرنے سے بشر اپنی روح کی سچائی کو پہچانتا ہے اور مقصدیت، شوخی اور محبت کے سائے میں عمر بسرہے۔  خدا پر توکل رکھنا کہ جو کام ہم انجام نہیں دے سکتے ہمارا خدا ہمارے لئے وہ کام ممکن بنا سکتا ہے۔

خدا پر بھرسہ کرنے سے دل کی کدورتیں کمزور ہوجاتی ہیں۔  ہمارے ذہنی، جذباتی اور روحانی صلاحیتیوں کی تشکیل ہوتی ہے۔  شک و شبہ اور خارجی امنگیں ہم کو ٹگنی کا ناچ نہیں نچا سکتے۔  خدا پر بھروسہ کرنے سے حریت کا تجربہ ہوتا ہے۔  کسی کو کچھ ثابت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی اور دھیان اپنے کام پر رہتا ہے۔  خدا پر بھروسہ شخصی آزادی کی کنجی ہے۔  دنیا کا کوئی ڈر نہیں رہتا اور یہ یقین دل میں گھر کرجاتا ہے کہ ہماری ہر ضرورت ہمیں مہیا کی جارہی ہے۔  خدا پر یقین کرنے والا انسان اپنی غیرت و خودداری کو داؤ پر نہیں لگاتا۔  وہ دوسروں کو خوش کرنے کے لئے اپنا ضمیر نہیں بیچتا۔  آگے بڑھنے کے لئے وہ دنیا والوں پر منحصر نہیں رہتا۔  وہ دوسروں کے احسانات پر زندگی نہیں گزارتا۔  خدا پر یقین کرنے سے ہم اپنا خود پر ہنس سکتے ہیں۔  اپنا تحفظ خود کرسکتے ہیں اور اپنے وقت کی قدر کرسکتے ہیں۔  خدا پر بھروسہ نہ کرنے سے انسان اپنی انسانیت کو اپنا دشمن ماننے لگتا ہے۔  زندگی خدا کی عطا کردہ ایک عمدہ تحفہ ہے۔  وہ انسان کو انوکھے تجربات و احساسات سے نوازتی رہتی ہے۔  بھروسہ کرنے سے ہی زندگی کا  لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔  زندگی ہمارے حق میں کام کرتی ہے۔  زندگی آگے جانے کے لئے ہمارا حوصلہ بڑھاتی رہتی ہے۔  ہر لحظہ زندگی ہماری ضروریات پوری کرتی رہتی ہے۔ 

فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہی ہوتا ہے کہ ہم اپنی پسند کو حاصل کریں یا نہیں۔  ضروری نہیں کہ ہماری تمام خواہشات پوری ہوں لیکن بھروسہ ہمیں کوشش کی طرف لے جاتا ہے۔  غلط خیالات کی جگہ ہمارا ذہن اچھے خیالات کا پروردہ بن جاتا ہے۔  ہر فیصلہ دراصل ایک بھروسہ ہے۔  یا تو آپ بھروسہ رکھتے ہیں کہ اس تجربے سے آپ کچھ سیکھیں گے یا آپ خوف کی دلدل میں پھنستے جاتے ہیں۔  بھروسہ کرنے کا کوئی ایک نسخہ نہیں۔  بھروسہ نہ کرنے سے صلاحیتیں خوابیدہ ہوجاتی ہیں۔  بھروسہ سے آپ جہاں بھی جائیں کوئی نہ کوئی راستہ نکل کر سامنے آتا ہے۔  یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر بھروسہ کرے یا نہیں۔