پاکستان نے سرجیکل اسٹرائک کے بارے میں بھارتی آرمی چیف کا بیان مسترد کردیا
- جمعرات 02 / جنوری / 2020
- 4250
پاکستان نے بھارت کے نئے آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل منوج مکند ناراوین کے آزاد جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے پار سرجیکل اسٹرائیک کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کے عزم اور تیاری کے بارے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ کسی بھی جارحانہ اقدام پر سخت جواب دیا جائے گا۔ بالاکوٹ میں بھارتی مس ایڈوینچر کے نتیجے میں پاکستان کے موثر ردعمل کو یاد رکھنا چاہیے۔
بیان میں کہا گیا کہ بھارت کی اشتعال انگیزیوں کے باوجود پاکستان خطے میں امن اور سلامتی کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ خیال رہے کہ 2 روز قبل بھارت کے 28ویں آرمی چیف تعینات ہونے والے جنرل منوج مکند ناراوین کا کہنا تھا کہ نئی دہلی لائن آف کنٹرول کے پار حملوں کا اختیار رکھتا ہے۔
پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے بھارتی آرمی چیف نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے چند گھنٹوں بعد ہی کہا تھا کہ اگر پاکستان دہشت گردی کی معاونت ختم نہیں کرتا تو دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر بھارت کو پاکستان پر حملے کا اختیار حاصل ہے اور ہماری اس نیت کا مظاہرہ بالاکوٹ آپریشن اور سرجیکل اسٹرائکس کی صورت میں سامنے آچکا ہے۔
علاوہ ازیں ہندوستان ٹائمز کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ سرحد پار دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنرل منوج مکند ناراوین تعیناتی سے قبل بھارت کے نائب آرمی چیف کے عہدے پر بھی تعینات رہے ہیں۔ وہ سابق آرمی چیف بپن روات کی ریٹائرمنٹ کے بعد آرمی چیف بنے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بپن روات نے کہا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر صورتحال کبھی بھی کشیدہ ہوسکتی ہے جس کے رد عمل میں انٹر سروسز پبلک ریلیشن کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے ان کے بیان کو دنیا کی بھارت کے متنازع شہریت ترمیمی قانون پر بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا تھا۔
بھارتی آرمی چیف کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے دفتر خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ کشمیر میں غیر انسانی لاک ڈاؤن کو 150 دن ہوچکے ہیں۔ پاکستان بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کے حق میں اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔