آرمی چیف کی توسیع کے معاملہ پر سپریم کورٹ سے حکم امتناعی کی درخواست
- جمعرات 02 / جنوری / 2020
- 5000
وفاقی حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق 28 نومبر 2019 کے فیصلے پر حکم امتناع کے لئے درخواست دائر کی ہے۔
28 نومبر 2019 کو عدالت عظمیٰ نے 3 رکنی بینچ نے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع کے معاملہ پر چھے ماہ میں قانون سازی کی ہدایت کی تھی۔ وفاقی حکومت نے فیصلے کے خلاف 26 دسمبر 2019 کو سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست بھی دائر کرچکی ہے۔
جمعرات کو جمع کروائی گئی درخواست میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے فیصلے پر تب تک عمل درآمد روکے جب تک حکومت کی دائر کردہ نظرثانی درخواست پر فیصلہ نہیں ہوجاتا۔ عدالت سے متفرق درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی کہ عدالت نظرثانی درخواست پر سماعت کے لیے 5 ججز پر مشتمل لارجر بینچ تشکیل دے۔
یکم جنوری کو وفاقی حکومت نے کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں آرمی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دی تھی۔ آئین کی دفعہ 172 اور آرمی ایکٹ 1952 میں ترمیم کرنے کا فیصلہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا تھا جس کا واحد ایجنڈا آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع تھا۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے قواعد میں ابہام دور کرنے کے سپریم کورٹ کے دیے گئے حکم کی روشنی میں حکومت نے اس معاملے پر اپوزیشن کے ساتھ اتفاق رائے ہونے کے بعد ترمیمی بل پارلیمنٹ میں بھی پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کابینہ کے ایک رکن نے بتایا تھا ترمیم کے مطابق، آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی صورت میں ان کی ریٹائرمنٹ کی زیادہ سے زیدہ عمر 64 برس ہوجائے گی جبکہ عمومی عمر 60 سال ہی رہے گی۔ اور وزیراعظم کا استحقاق ہوگا کہ مستقبل میں آرمی چیف کو توسیع دے دیں۔
کابینہ کے ایک رکن نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ اجلاس میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع کی تجویز دی گئی جس کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ 2023 تک آرمی چیف رہیں گے۔
آئین اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کے لیے بل پارلیمان میں پیش کرنے سے قبل حکومت نے اس معاملے پر اتفاق رائے کے لیے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔