نئے سال میں امکانات و خدشات
- تحریر سلمان عابد
- جمعرات 02 / جنوری / 2020
- 4400
دنیا بھر میں بہت سے لوگ نئے برس سے بہت سی نئی توقعات وابستہ کرکے گے بڑھتے ہیں۔ لوگ مثبت او رمنفی اشاریوں کی بنیاد پر نئے برس کا نقشہ کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں او ربہت سے تجزیہ نگار نئے مستقبل کا منظرنامہ سامنے لاتے ہیں۔
پاکستان کے لئے2020کیسا ہوگا او رکیا 2019کے مقابلے میں زیادہ بہتر امکانات دیکھے جاسکتے ہیں۔ یہ وہ بنیادی نوعیت کا سوال ہے جو سب کے ذہنوں میں موجود ہے او رلوگ اس کا کسی نہ کسی شکل میں جواب بھی چاہتے ہیں۔2019کا برس زیادہ تر سیاسی او رمعاشی محاذ پر ہنگامہ آرائی یا محاذ آرائی سمیت مختلف فریقین میں موجود بداعتمادی کے سائے میں گزرا ہے۔حکومت او رحزب اختلاف کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلوں او راس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل نے امید کے مقابلے میں خدشات زیادہ پیدا کیے ہیں۔
2020کو مدنظر رکھ کر ہمیں سات بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اول معاشی حالات میں مثبت تبدیلیاں او را س کا عام آدمی کی زندگی میں بہتر اثرات، دوئم معاشی، سیاسی، قانونی، انتظامی او رادارہ جاتی اصلاحات کا عمل، سوئم حکمرانی سے جڑے مسائل اور عام وکمزور آدمی کی مشکلات، چہارم احتساب کا شفافیت پر مبنی عمل، پنجم حکومت او رحزب اختلاف کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے یا محاز آرائی، ششم حکمرانی کے نظام میں کامیابی اور لوگوں میں حکومت کی کارکردگی کے بارے میں اعتماد سازی کی بحالی، ہفتم پاک بھارت اور پاک افغان تعلقات سمیت خطہ کی مجموعی صورتحال شامل ہیں۔2019میں ان تمام معاملات یا نکات پر ہماری کارکردگی وہ مثالی نہیں ہو عملی طو رپرہونی چاہیے تھی او رلوگوں میں یہ احساس ہوتا ہے کہ ریاست، حکومت اور اداروں کی سمت درست انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 2020کے تناظر میں حکومت مخالف جماعتیں جن میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، جے یو آئی، عوامی نیشنل پارٹی اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اس برس کو نئے انتخابات کا سال قرار دیتی ہے۔ ان کے بقول حکومت کا چل چلاؤ ہے اور اسی برس نئے انتخابات ہوں گے۔یہ تمام جماعتیں وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو سلیکیٹڈ یعنی اسٹیبلیشمنٹ کی تیار کردہ حکومت کہتے ہیں او راس حکومت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ حزب اختلاف اس برس ان ہاؤس تبدیلی، مائنس ون فارمولہ، نئے انتخابات کو بنیاد بنا کر حکومت مخالف مہم کو آگے بڑھارہی ہے۔ ایسے میں 2020میں حکومت او رحزب اختلاف کے درمیان پہلے سے موجود محاز آرائی کیسے ختم ہوگی، خود ایک بڑا چیلنج ہے۔جب حکومت او رحزب اختلاف ایک دوسرے کے وجود کو قبول کرنے سے انکار کردیں تو اتفاق رائے کی سیاست مشکل ہوجاتی ہے۔
اگرچہ وزیر اعظم عمران خان کے بقول 2020معاشی ترقی او رخوشحالی کا برس ہوگا۔ اگرچہ ہمارے معاشی اعدادوشمار او رعالمی معاشی ماہرین کے اشاریوں میں بہتری کے آثار ضرور پیدا ہوئے ہیں۔لیکن بڑا چیلنج عام آدمی کی معاشی صورتحال میں بہتری کا پہلو ہے او ر اس برس 2020میں بھی یقینا معاشی عمل آگے بڑھے گا لیکن اس کے نتیجے میں بہت بڑے پیمانے پر لوگوں میں موجود معاشی مایوسی کم نہیں ہوگی او رنہ ہی ان کو کوئی بڑا معاشی ریلیف مل سکے گا۔ اصل چیلنج مہنگائی، پٹرول، ڈیزل، تیل، بجلی، گیس، ادویات سمیت مختلف روزمرہ کی چیزوں میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ایک بڑ ا چیلنج رہے گا اور تحریک انصاف نے اگر اس نئے برس میں لوگوں کو کوئی بڑ ا ریلیف نہ دیا تو اس سے اس حکومت کی ساکھ بھی سمیت حکومت کی ناکامی کا تاثر بھی پیدا ہوگا۔
ایک مسئلہ حکمرانی کے نظام کی شفافیت کا ہے او راس پر حکومت کو سب سے زیادہ توجہ دینی ہوگی اور امید ہے کہ اس برس چاروں صوبوں میں مقامی حکومتوں کے انتخابات بھی منعقد ہوں۔ لیکن سوال وہی ہے کہ اگر ہم نے کمزور بنیادوں پر مقامی حکومت کے نظام کو چلا کر تمام اختیارات کو صوبائی سطح تک محدود کرنے ہیں تو اس سے 18ویں ترمیم کی روح بھی متاثر ہوگی اور ملک میں حکمرانی کا بحران بھی حل نہیں ہوسکے گا۔اسی طرح ادارہ جاتی اصلاحات جو تحریک انصاف کا اہم ایجنڈا ہے اس پر ان واقعی بڑا کام کرنا ہوگا۔ پولیس، بیوروکریسی، تعلیم او رصحت، قانون کی سطح پر عملی اصلاحات درکار ہیں او ران پر حکومت کو غیر معمولی اقدامات کرنے ہونگے۔
2019میں ہم نے احتساب کے تناظر میں بہت شور سنا لیکن اس کے عملی نتائج وہ نہیں مل سکے جو ملنے چاہیے تھے۔ 2020میں ایک طرف احتساب کی شفافیت سے جڑے سوال ہیں کہ کیا یہ دائرہ کار حکومت او ران کے اتحادی کو بھی گرفت میں لے گا۔ اسی طرح احتساب کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے نیب سمیت دیگر اداروں میں جو بڑی تبدیلیاں لانی ہیں وہ ممکن ہوسکیں گی۔ حکومت کے اندر ایسے بہت سے لوگ ہیں جو وزیر اعظم کو یہ ہی مشور دیں گے کہ وہ احتساب کے عمل میں سخت گیر رویہ نہ اختیار کریں۔ البتہ 2020میں بھی حکومت مخالف لوگ احتساب کے شکنجے میں ہی رہیں گے او ران کا اندر آنا جانا لگا رہے گا۔سیاسی سطح پر حکومت کو 2020میں حزب اختلاف سے زیادہ خود اپنی حکمرانی کے نظام سے خطرہ رہے گا۔ نواز شریف او رمریم کا کردار اس برس محدود نظر آتا ہے۔شہباز شریف فعال ہوں گے مگر وہ حکومت کے لیے کوئی بڑی مشکل پیدا نہیں کرسکیں گے۔ آصف علی زرداری پیچھے رہیں گے او ربلاو ل بھٹو زیادہ فعال نظر آئیں گے۔حزب اختلاف کی کوشش ہوگی کہ وہ اس نئے برس میں حکومت کو زیادہ کھڑ ا نہ ہونے دے او راپنی مختلف سیاسی سرگرمیوں کی مدد سے میڈیا اور سیاسی محاذ پر اس تاثر کو اور زیادہ مضبوط کرے گی کہ حکومت ناکامی سے دوچار ہے۔
حکومت کا ایک بڑا چیلنج اس برس بھی ان کی ٹیم کی صورت میں رہے گا۔کیونکہ حکومت کو اس 2019میں اپنے بعض حکومتی ساتھیوں سے میڈیا کے محاذ پر کافی سبکی کا سامنا کرنا پڑاہے۔ البتہ اس بات کا امکان ہے کہ اس نئے برس میں وفاقی اور صوبائی سطح پر حکومت، کابینہ سمیت مختلف عہدوں پر بڑی تبدیلیاں ہوسکتی ہیں۔اسی طرح زیادہ نتائج نہ ملنے کی صورت میں بھی نزلہ بیوروکریسی پر گرے گا۔وزیر اعظم کو اپنی حکومتی سطح پر کارکردگی میں بہتری کے لیے خود بھی اپنی ٹیم کا احتساب کرکے درست جگہ پر درست فر د کو سامنے لانا ہوگا۔کیونکہ با ربار بیوروکریسی میں کی جانے والی تبدیلیوں سے خود حکومت بھی مطلوبہ نتائج نہیں حاصل کرسکے گی۔
خارجی یا علاقائی سطح پر ایک بڑا چیلنج امریکہ،طالبان او رافغان حکومت کے درمیان مفاہمت کا ہے۔ اس برس امید ہے کہ ہمیں افغانستان کے تناظر میں کچھ اچھی خبریں سننے کو ملیں اور ماضی کے مقابلے میں مستقبل میں امن کا عمل آگے بڑھے او راس صورت میں امریکہ سمیت دنیا میں پاکستان کی اہمیت بڑھے گی۔البتہ پاک بھارت تعلقات او رکشمیر کی صورتحال میں کوئی بڑی تبدیلی ممکن نہیں بلکہ تناؤ کی کیفیت آگے بڑھے گی۔پاک امریکہ تعلقات او رچین کا بڑا سی پیک کا ماہدہ بھی آگے بڑھے گا۔پاکستان کو خارجی سے زیادہ داخلی مسائل ہیں او ر ان پر توجہ دے کر ہم عالمی سطح پر بہتر حکمت عملی اختیار کرسکتے ہیں۔انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے ہمیں نیشنل ایکشن پلان پر زیاد ہ توجہ دینی ہوگی اوراس کو بنیا د بنا کر ہم ایک بڑا ایجنڈا ترتیب دے سکتے ہیں۔
بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ اگر حکومت 2020میں اپنے پاؤں پر کھڑی رہی اور فوج او رحکومت کے درمیان بھی کوئی بڑے مسائل پیدا نہ ہوں تو اس کے بعد حکومت اپنی مدت بھی پوری کرسکے گی۔ جو لوگ مڈٹرم انتخابات کی بات کررہے ہیں یہ فیصلہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب سیاسی محاذ پر حزب اختلاف کوئی بڑی عوامی تحریک چلاسکے، لیکن اس کے امکانات بہت محدود ہیں۔اس نئے بر س میں ہمیں مسلم لیگ ن کا کردار بھی کافی محدود نظر آتا ہے اور یہ جماعت کسی بڑی جدوجہد کے لیے تیار نہیں اور نواز شریف یا مریم نواز کا بیانیہ بھی بہت پیچھے چلاگیا ہے اور پیپلز پارٹی بھی پس پردہ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر اپنے معاملات طے کررہی ہے۔
طاقت کے مراکز میں ہمیں 2019میں کچھ ٹکراؤ نظر آیا ہے مگر 2020میں بھی اس کی جھکیاں ملیں گی مگر اس سے کوئی بڑی سیاسی تبدیلی ممکن نہیں ہوگی۔بہرحال 2019کے مقابلے میں 2020 قدرے بہتر ہونے کے امکانات موجود ہیں او راس کا انحصار سیاسی قیادت اور طاقت کے مراکز پر ہے کہ وہ اپنے کارڈ کیسے کھیلتے ہیں۔