امریکی حملے میں جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت، ایران کا بدلہ لینے کا اعلان

  • جمعہ 03 / جنوری / 2020
  • 4120

عراق کے دارالحکومت بغداد میں انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر امریکی میزائل حملے میں ایران کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایران نے جنرل قاسم کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

امریکہ نے جمعے کی علی الصباح بغداد ایئر پورٹ کے قریب اس وقت میزائل داغا جب جنرل سلیمانی ایران نواز عراقی ملیشیا کتائب حزب اللہ کے ڈپٹی چیف ابو مہدی المھندس کے ہمراہ کار میں سوار تھے۔  امریکی کارروائی میں دونوں کمانڈر مارے گئے۔ اس کارروائی کے چند گھنٹے بعد ایران کے سرکاری ٹی وی نے بیان جاری کیا کہ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی امریکی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

جنرل قاسم کی ہلاکت پر ایران نے شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے اس کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر امریکی فوج نے فیصلہ کن دفاعی کارروائی کی ہے جس میں ایران کے پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی مارے گئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ قاسم سلیمانی کی ہلاکت سے بیرون ملک موجود امریکی اہلکاروں کا تحفظ یقینی بنایا گیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں امریکی پرچم پوسٹ کیا جس کی انہوں نے کوئی مزید وضاحت نہیں کی۔ امریکی راکٹ حملے میں ہلاک ہونے والے جنرل سلیمانی ایران کے پاسداران انقلاب کی بریگیڈ 'القدس فورس' کے کمانڈر تھے۔ جنرل سلیمانی ایران کے بیرونِ ملک آپریشن کے نگران تھے اور وہ عراق میں بحرانی کیفیت کی صورت میں اکثر بغداد کا دورہ کرتے تھے۔ اس سے قبل عراق میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران بھی قاسم سلیمانی عراق میں ہی موجود تھے۔

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ جنرل سلیمانی عراق اور خطے کے دیگر ملکوں میں امریکی سفارت خانوں پر حملوں اور امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قاسم سلیمانی کے خلاف کارروائی اپنے دفاع میں کی ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنرل قاسم کی ہلاکت کا بدلہ لیا جائے گا۔ جنرل قاسم کی ہلاکت سے اُن کا مشن نہیں رکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنرل قاسم عالمی سطح پر مزاحمت کی علامت تھے۔ ان کی ہلاکت ہمارے لیے افسوس ناک ہے لیکن ان کے قاتلوں اور مجرموں کے خلاف ہم ضرور کامیابی حاصل کریں گے۔

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کو امریکہ کی انتہائی خطرناک اور فاش غلطی قرار دیا ہے۔  انہوں نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ امریکہ نے جنرل سلیمانی پر حملہ کر کے عالمی دہشت گردی کی ہے اور اسے اپنی مہم جوئی کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

امریکی محکمہ دفاع کی طرف سے جاری بیان کے مطابق جنرل سلیمانی اور ان کی 'القدس فورس' سیکڑوں امریکیوں اور اتحادیوں کی ہلاکت کی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے گزشتہ چند ماہ کے دوران اتحادیوں کی تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی کی جس میں 27 دسمبر کو ہونے والا حملہ بھی شامل ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بغداد میں امریکی سفارت خانے پر رواں ہفتے ہونے والے حملے کی منظوری بھی جنرل سلیمانی نے دی تھی۔

امریکی محکمہ دفاع کے مطابق جمعے کو کی جانے والی کارروائی کا مقصد ایران کے مستقبل میں ممکنہ حملوں کو روکنا ہے۔ امریکہ اپنے شہریوں اور مفادات کے تحفظ کے لیے دنیا بھر میں جہاں ضرورت پڑے گی وہاں مناسب کارروائی کرے گا۔

جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت ایسے موقع پر ہوئی ہے جب عراق میں امریکہ کے خلاف پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور حال ہی میں مشتعل ہجوم نے امریکی سفارت خانے پر حملہ کر کے وہاں جلاؤ گھیراؤ کیا تھا۔ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد عراق کی سرزمین پر خانہ جنگی کے خدشے کا امکان ہے۔