قائمہ کمیٹیوں میں مسلح افواج سے متعلق ترامیمی بلز منظور کرلیے گئے

  • جمعہ 03 / جنوری / 2020
  • 4650

قومی اسمبلی اور سینیٹ کی مشترکہ قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے آرمی ایکٹ، نیوی ایکٹ اور ایئرفورس ایکٹ میں ترامیم کے بل منظور کرلئے ہیں۔

ایوانِ زیریں میں پاک آرمی ایکٹ 1952، پاک فضائیہ ایکٹ 1953 اور پاک بحریہ ایکٹ 1961 میں ترامیم کے لیے علیحدہ علیحدہ بل وزیر دفاع پرویز خٹک نے پیش کیے تھے۔ یہ تینوں بل پاکستان آرمی (ترمیمی) ایکٹ 2020، پاکستان ایئرفورس (ترمیمی) ایکٹ اور پاکستان بحریہ (ترمیمی) ایکٹ 2020 کے نام سے اسمبلی میں پیش کیے گئے۔

ترامیمی بلز کو پیش کرنے کا مقصد سپریم کورٹ کی جانب سے 28 نومبر کو دیے گئے فیصلے کی روشنی میں آرمی ایکٹ کے احکامات میں ترامیم کرنا ہے تاکہ صدر مملکت کو بااختیار بنایا جائے کہ وہ وزیراعظم کے مشورے پر تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کی مدت ملازمت اور اس حوالے سے قیود و شرائط کی صراحت کرسکے۔

آرمی، نیوی اور ایئرفورس ایکٹ کے ترمیمی بلز پیش کرنے کے قومی اسمبلی کا اہم اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں انتہائی مختصر وقت کے لئے ہوا۔ اجلاس میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے تحریک پیش کی کہ آج کے رولز معطل کردیے گئے جسے منظور کرلیا گیا، اس کے علاوہ وقفہ سوالات بھی آئندہ ہفتے تک موخر کردیا گیا۔

اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے مطالبہ کیا کہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، خواجہ سعد رفیق اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما سید خورشید شاہ کے پروڈکشن آرڈرز جاری کیے جائیں۔ بعد ازاں ان تینوں ترامیمی بلز کو غور کے لیے قائمہ کمیٹیوں میں بھجوایا گیا جہاں قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا مشترکہ اجلاس ہوا۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ کی مشترکہ قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے آرمی ایکٹ، نیوی ایکٹ اور ایئرفورس ایکٹ میں ترامیم سے متعلق تینوں ترامیمی بل منظور کرلیے۔ وفاقی وزیر اعظم سواتی نے کہا کہ سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کو خصوصی پر اجلاس میں دعوت دی گئی تھی۔ دفاعی کمیٹی نے مسلح افواج کے سربراہان کے تقرر و توسیع سے متعلق تینوں بلز کو متفقہ طور پر منظور کیا اور کسی جماعت نے بلز کی مخالفت نہیں کی جبکہ اس میں کوئی ترامیم بھی پیش نہیں دی گئیِں۔

اعظم سواتی کے مطابق کل تینوں بلز کی منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش ہوں گے۔  سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ دفاعی کمیٹی نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق ترامیم کی منظوری دے دی۔ انہوں نے بتایا کہ کوئی ترمیم نہیں آئی۔ بس کچھ اراکین نے وضاحت مانگی تھی جس پر وزیر قانون اور وزیر دفاع نے بریف کیا۔ بلز کو شام میں سینیٹ کے اجلاس میں بھی پیش کیا جائے گا جبکہ قومی اسمبلی میں اس پر کل بحث ہوگی۔

واضح رہے کہ یکم جنوری کو ایک نکاتی ایجنڈے پر کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دی گئی تھی۔ پاکستان آرمی (ترمیمی) ایکٹ 2020 کے عنوان سے کی جانے والی قانون سازی کے نتیجے میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور چیئرمین آف جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کی ریٹائرمنٹ کی زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 64 برس ہوجائے گی۔  مستقبل میں 60 برس کی عمر تک کی ملازمت کے بعد ان کے عہدے کی مدت میں توسیع کا استحقاق وزیراعظم کو حاصل ہوگا جس کی حتمی منظوری صدر مملکت دیں گے۔