ننکانہ صاحب واقعے کو مذہبی رنگ دینا غلط ہے: دفتر خارجہ

  • ہفتہ 04 / جنوری / 2020
  • 4580

پنجاب کے شہر ننکانہ صاحب میں 3 جنوری کو پیش آنے والے واقعے کے بارے میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ واقعے کو مذہبی مسئلہ قرار دینے کی کوششیں غلط ہیں۔

دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ننکانہ صاحب میں ایک چائے کے اسٹال پر 2 مسلمان گروہوں کے درمیان ہاتھا پائی کا واقعہ پیش آیا تھا، ضلعی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرلیا تھا جو اب زیر حراست ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ گردوارہ کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔ انتشار اور مقدس مقام کی بے حرمتی کرنے کے دعوے جھوٹ اور بدنیتی پر مبنی ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان امن و امان  برقرار رکھنے اور اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس سلسلے میں کرتارپور صاحب راہداری کا افتتاح قائد اعظم محمد علی جناح کے اقلیتوں سے متعلق ویژن کا ایک مظہر ہے۔

اس واقعہ کے بارے میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے کہا ہے کہ ننکانہ صاحب میں حالات معمول کے مطابق ہیں اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ چند مقامی افراد نے گرفتار افراد کی رہائی کے لیے پولیس کے خلاف احتجاج کیا تھا جنہیں انتظامیہ نے خوش اسلوبی سے منتشر کر دیا تھا۔ وفاقی وزیر کے مطابق واقعہ میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

نورالحق قادری نے کہا کہ بھارت کی جانب سے معمولی تنازعہ کو مذہبی تصادم کا رنگ دینا غلط ہے اور اسے بڑھا چڑھا کر پیش کرنا افسوسناک ہے۔ ہندوستان اپنے ملک میں سراپا احتجاج اقلیتوں سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ننکانہ صاحب میں گرو گوبند سنگھ کے جنم دن کی تقریبات معمول کے مطابق جاری ہیں۔

اطلاعات  کے مطابق ننکانہ صاحاب میں ایک چائے کے اسٹال پر ہونے والی بحث سے شروع ہونے والا جھگڑا اس قدر بڑھ گیا کہ امن و عامہ کی صورتحال کے لیے خطرہ بن گیا جس کے باعث پولیس کو مداخلت کرنی پڑی۔ گردوارہ جنم استھان کے سامنے قائم زمان نامی شخص کے چائے کے اسٹال پر 4 افراد چائے پی رہے تھے جنہوں نے اس کے بھیتجے محمد احسان کے بارے میں بات کرنی شروع کردی۔

واضح رہے کہ محمد احسان کا نام کچھ ماہ قبل اس وقت خبروں میں آیا تھا جب اس پر ایک سکھ لڑکی سے مبینہ طور پر جبراً مذہب تبدیل کروانے کے بعد شادی کا الزام لگا تھا جس کے بعد اسے گرفتار بھی کرلیا گیا تھا۔ دوسری جانب یہ بات سامنے آئی تھی کہ لڑکی قانونی طور پر بالغ ہے جس نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کیا تھا۔ بعد ازاں حکومت نے اس معاملے میں مداخلت کی اور معاملہ سلجھا دیا تھا۔

چائے اسٹال پر موجود افراد کے جھگڑے کے بعد ایک مجمع جمع ہوگیا جو نعرے بازی کرنے لگا۔ اس موقع پر ننکانہ صاحب پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کو قابو کیا۔ آر پی او شیخوپورہ فاروق مظہر نے ڈان کو بتایا کہ پولیس کے مظاہرین سے مذاکرات کے بعد مجمع پرامن طور پر منتشر ہوگیا تھا۔