قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر ایران اور عراق میں احتجاجی مظاہرے

  • ہفتہ 04 / جنوری / 2020
  • 4680

ایرانی پاسدران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ قاسیم سلیمانی اور دیگر کی ہلاکت پر عراق اور ایران میں احتجاج کیا جارہا ہے۔ عراق  کے دارالحکومت بغداد میں ہزاروں افراد نے احتجاج کیاہے۔

ایران نواز تنظیم الحشد الشعبي (پاپولر موبا ئلازیشن فورس) نے عراق کے مختلف شہروں میں ہلاک شدگان کی میتوں کے ہمراہ جلوس نکالنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ یہ جلوس دارالحکومت بغداد کے گرین زون سے شروع ہو کر کربلا سے ہوتا ہوا نجف میں اختتام پذیر ہو گا۔ جہاں ہلاک شدگان کی تدفین کی جائے گی۔

شمالی بغداد کے علاقے حاجی اسٹیڈیم کے قریب جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب ایک گاڑی پر فضائی حملہ کیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات میں یہ بتایا گیا کہ حملے میں دولت اسلامیہ (داعش) کے خلاف سرگرم ایران نواز تنظیم الحشد الشعبي (پاپولر موبا ئلازیشن فورس) کے ایک اور کمانڈر کو نشانہ بنایا گیا۔ البتہ امریکہ اور عراقی فوج نے اس حملے کی تردید کی۔ الحشد الشعبي نے بھی تنظیم کے کمانڈروں کو نشانہ بنائے جانے کی تردید کی ہے۔

جمعہ کو ایرانی پاسدران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کی امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ایران نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا اعلان کر رکھا ہے۔ امریکہ نے مزید 3 ہزار فوجی مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ عراق میں امریکہ کے سفارت خانے پر حملے کے بعد امریکہ نے 750 فوجی عراق میں تعینات کیے تھے۔ امریکہ کے 14 ہزار سے زائد فوجی پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہیں۔ جن میں سے 5200 فوجی عراق میں ہیں۔

قاسم سلیمانی کی امریکی میزائل حملے میں ہلاکت کے بعد عراقی پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس اتوار کو طلب کر لیا گیا ہے۔ عراق میں ایران نواز حلقے حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ امریکہ کو عراقی سرزمین پر رہنے کا جواز دینے والے معاہدے کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران اور عراق میں بڑے پیمانے پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ تہران، اصفہان اور مشہد سمیت ایران کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد مظاہرے کر رہے ہیں۔ مظاہرین نے امریکہ مخالف نعرے لگائے  اور قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔