اسلام آباد ہائی کورٹ نے صدارتی اختیار کے دائرہ کار پر سوالات اٹھادیے
- ہفتہ 04 / جنوری / 2020
- 3980
اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئین کی دفعہ 89 کے تحت صدر کے اختیارات اور وفاقی حکومتی امور کے لئے صدر عارف علوی کی جانب سے آرڈیننس جاری کرنے کے مستقبل پر سوالات اٹھائے ہیں۔
عدالت نے سینئر وکیل بابر اعوان، عابد حسن منٹو، رضا ربانی اور مخدوم علی خان کو عدالتی معاون تعینات کرنے کے علاوہ اٹارنی جنرل کو بھی اس معاملے میں تعاون کرنے کی ہدایت کی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے آرڈیننسز کی قانونی حیثیت کا تعین کرنے کے لیے متعدد سوالات اٹھائے۔
عدالت آئین کی دفعہ 89 کے تحت صدارتی اختیارات کا دائرہ کار اور یہ جاننا چاہتی تھی کہ کیا دفعہ 70 اور 80 میں بتائے گئے قانون سازی کے عمل کو ایک طرف رکھ کر ان اختیارات کا معمول کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ ’کیا صدر کا منظور کردہ آرڈیننس اس نوعیت کا ہے کہ اس ضمن میں مقرر کردہ تقاضوں کو پورا کرے‘۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئین کی دفعہ 89 کی شرائط کی خلاف ورزی میں جاری کیے گئے آرڈیننس کے مستقبل کے حوالے سے بھی قانونی رائے طلب کی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سیکریٹری قانون و انصاف کو 15 روز کے اندر تحریری جواب جمع کروانے کی ہدایت کی ہے۔
خیال رہے کہ یہ درخواست پاکستان مسلم لیگ (ن) کے وکیل بیرسٹر محسن شاہنواز رانجھا نے دائر کی تھی اور عدالت سے استدعا کی تھی کہ موجودہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ آرڈیننسز کو ’غیر قانونی، پاکستان کے آئین کی دفعہ 89 کے تحت تفویض کیے گئے اختیار کی خلاف ورزی پر غیر آئینی اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا جائے‘۔
درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ عمر گیلانی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ صدارتی آرڈیننس ’ہنگامی صورتحال‘ میں جاری کیے جاتے ہیں جبکہ انہیں وفاقی حکومت کے معمول کے امور چلانے کے لیے نافذ کیا جارہا ہے۔
صدر پر اپنے اختیارات کا منصفانہ استعمال نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے درخواست گزار کا کہنا تھا کہ عدالت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کی خلاف ورزی کی اور ان کے مواخذے کا مطالبہ کیا۔
درخواست کے مطابق آرڈیننس عارضی قانون سازی کی ایک صورت ہے اور آئین ان 2 صورتوں میں آرڈیننس جاری کرنے کی اجازت دیتا ہے: (1) جب قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس نہ ہو رہے ہوں (2) اگر صورتحال ایسی ہو کہ جس میں فوری کارروائی کی ضرورت ہو۔
درخواست کے مطابق چونکہ صدر وفاقی حکومت کی تجویز پر کام کرتا ہے لہٰذا آرڈیننس کے اجرا کی تمام تر ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ پارلیمان کے ایوانِ زیریں کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق صدر عارف علوی 24 ستمبر 2018 سے کم از کم 20 آرڈیننسز جاری کرچکے ہیں۔
درخواست پر مزید سماعت 21 جنوری تک ملتوی کردی گئی۔