پاکستان اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا: ڈی جی آئی ایس پی آر
- اتوار 05 / جنوری / 2020
- 4170
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
نجی ٹی وی چینل اے آر وائی سے خصوصی بات چیت کے دوران وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 'اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہونے نہیں دی جائے گی‘۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ ’پاکستان فریق نہیں بنے گا اور صرف امن کا شراکت دارہو گا‘۔
ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت سے متعلق سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس واقعے کے بعد خطے کے حالات میں تبدیلی آئی ہے۔ آپ جانتے ہیں مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی کے کیا حالات ہیں۔ امریکا اور ایران میں کیا کشیدگی چل رہی ہے۔ ایران اور سعودی عرب میں کیسی کشیدگی ہے اور اس واقعے سے قبل پاکستان کا کشیدگی کو کم کرنے میں کیا کردار ادا کررہا ہے۔
میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ حکومت پاکستان نے اس سلسلے میں مثبت کوششیں کی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان مختلف ممالک کے دورے پر گئے اس کشیدگی پر بھی بات چیت کی۔ ہمارا خطہ پچھلی 4 دہائیوں سے سیکیورٹی کے لحاظ سے بہت سے مسائل کا سامنا کرتا رہا ہے۔ پہلے افغان جنگ ہوئی پھر 11/9 کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت میں بہت سی کشیدگیاں ہوئیں حتیٰ کہ 27 فروری کو دونوں ملک جنگ کے دہانے تک پہنچے اور بھارت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ ہم نے بھارت کے 2 جہاز گرائے پائلٹ کو بھی گرفتار کیا اور خطے میں امن کے لیے ان کا پائلٹ واپس بھی کیا۔
میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ پاکستان نے ہر وہ کام کیا جو خطے میں امن لاسکتا تھا۔ ہم نے اپنے ملک میں دہشت گردی کو ناکام کیا۔ پاک افغان سرحد کو محفوظ کیا پھر افغان مصالحتی عمل میں ایک بھرپور مثبت کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے خلاف اشتعال انگیزیوں کے باوجود ایک ذمہ دار ریاست اور قابل افواج ہونے کا ثبوت دیا۔ ان حالات میں خطے کے کسی بھی ملک کے حوالے سے کسی بھی کشیدگی کو ہم خطے میں امن کی کوششوں کے خلاف سمجھتے ہیں۔
اسی تناظر میں جب امریکی اسٹیٹ سیکریٹری مائیک پومپیو کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بات ہوئی تو آرمی چیف نے بنیادی طور پر ان سے 2 باتیں کیں۔ خطہ بہت خراب حالات سے بہتری کی طرف جارہا ہے۔ اس بہتری کے لیے افغان مصالحتی عمل کا کامیاب ہونا بہت ضروری ہے۔ اس میں پاکستان اپنا بھرپور مثبت کردار ادا کررہا ہے۔ پاکستان کی خواہش ہے کہ اس پر توجہ مرکوز رہے یہ امن کی طرف لے کر جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ آرمی چیف نے کہا کہ کوئی بھی ایسا عمل جو افغان مصالحتی عمل کو خراب کرے ہمیں اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ مائیک پومپیو سے بات میں آرمی چیف نے کہا تھا کہ خطے کے مختلف ممالک میں کشیدگی کم ہونی چاہیے اور اس سلسلے میں تمام ممالک کو تعمیری طرزِ عمل اور مذاکرات سے آگے بڑھنا چاہیے۔ پاکستان اس سلسلے میں تمام پُرامن کوششوں کی تائید کرے گا اور خواہش کرتا ہے کہ یہ خطہ کسی اور جنگ کی طرف نہ جائے۔