بھارت کے مسلمان لیڈر کی طرف سے عمران خان کو پاکستان کی فکر کرنے کا مشورہ
- اتوار 05 / جنوری / 2020
- 6950
بھارت میں مسلمانوں کے رہنما رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے کہا ہے کہ وہ انڈین مسلمانوں کی نہیں اپنے ملک کی فکر کریں۔
اویسی نے کہا کہ 'ہمیں ہندوستانی مسلمان ہونے پر فخر ہے اور قیامت تک ہمیں ہندوستانی مسلمان ہونے پر فخر رہے گا۔ ہم نے اسی لئے پہلے ہی جناح کے غلط نظریے کو مسترد کردیا تھا۔' ال آنڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی بنگلہ دیش کی ویڈیو کو اترپردیش کی بتانے پر بھی شدید رد عمل کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں ہندوستان کے مسلمانوں کی فکر کرنے کے بجائے پاکستان میں سکھوں اور گردواروں پر حملے روکنے چاہیں۔
جنوبی ریاست تلنگانہ کے سنگاریڈی میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ 'میں پاکستان کے وزیر اعظم سے کہنا چاہوں گا کہ آپ ہندوستان کی فکر کرنا چھوڑ دیں، اللہ ہمارے لیے کافی ہے۔ جناب عمران خان آپ کو اپنے ملک کی فکر کرنی چاہیے۔ میں آپ کو یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ کبھی بھی ہمیں یاد نہ کریں۔' انہوں نے کہا کہ زمین پر کوئی طاقت ہماری ہندوستانیت اور ہماری مذہبی شناخت کو نہیں چھین سکتی کیونکہ ہندوستانی آئین نے ہمیں اس کی ضمانت دی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستانی وزیر اعظم نے نئے سال کی جو اپنی پہلی ٹویٹ کی وہ تو انہوں نے ڈلیٹ کر دی لیکن پھر اس کے بعد انہوں نے کم از کم دو ٹوئٹس کیں جن میں ہندوستان کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے انڈین میڈیا نیوز 18 کی ایک خبر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ 'سفاک مودی سرکار کے مسلم کش ایجنڈے کے تحت ہندوستان میں مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے اور بھارتی پولیس بربریت کی نئی مثالیں قائم کر رہی ہے۔'
اس سے قبل انھوں نے دی ہندو اخبار کی ایک خبر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ 'انتہا پسند سفاک مودی سرکار ریاستی دہشت گردی پر اتری ہوئی ہے اور دنیا خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اقوام عالم آخر کب تک چپ سادھے مودی سرکار کی بربریت کا نظارہ کرتی رہیں گی۔'
مبصرین کا خیال ہے کہ انڈیا میں سیاست کا درج حرارت پاکستان میں رونما ہونے والے واقعات سے بڑھتا ہے۔ ہندوستان کی سیاسی جماعتیں اس کا استعمال کرتی ہیں اور اس کے شواہد بارہا دیکھے گئے ہیں۔