ننکانہ صاحب واقعہ کے ذمے داروں کو کوئی تحفظ نہیں ملے گا: وزیر اعظم

  • اتوار 05 / جنوری / 2020
  • 4470

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ننکانہ صاحب میں رونما ہونے والا واقعہ ان کی سوچ کی نفی کرتا ہے اور اس کے ذمہ داروں کو حکومت سے کسی قسم کی رعایت یا تحفظ نہیں ملے گا۔

جمعہ کو ننکانہ صاحب میں چائے کی دکان سے شروع ہونے والی بحث پر شروع ہونے والا جھگڑا اس قدر بڑھ گیا تھا کہ امن و عامہ کی صورتحال کے لیے خطرہ بن گیا اور پولیس کو مداخلت کرنا پڑی۔ اطلاعات کے مطابق گردوارہ جنم استھان کے سامنے قائم زمان نامی شخص کے چائے کے اسٹال پر 4 افراد چائے پی رہے تھے جنہوں نے اس کے بھیتجے محمد احسان کے بارے میں بات شروع کی۔ محمد احسان کا نام کچھ ماہ قبل اس وقت خبروں میں آیا تھا جب اس پر ایک سکھ لڑکی سے مبینہ طور پر جبراً مذہب تبدیل کروانے کے بعد شادی کا الزام لگایا تھا جس کے بعد اسے گرفتار بھی کرلیا گیا تھا۔

چائے اسٹال پر بحث کے نتیجے میں 2 گروہوں میں تنازع کھڑا ہوگیا جس کے بعد لوگوں نے جمع ہو کر نعرے بازی شروع کردی۔ ننکانہ صاحب پولیس کو فوری طور پر مداخلت کر کے صورتحال پر قابو پانا پڑا۔

اتوار کو وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ننکانہ کے قابل مذمت واقعے اور پورے ہندوستان میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف جاری حملوں میں نمایاں فرق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی کی آر ایس ایس کا نظریہ اقلیتوں کو کچلنے کی حمایت کرتا ہے اور مسلمانوں کے خلاف ٹارگیٹڈ حملے اس کے ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ آر ایس ایس کے غنڈے سرعام مارپیٹ کرتے ہیں جبکہ مودی سرکار مسلمانوں کے خلاف حملوں کی سرپرستی  کرتی ہے۔ اور بھارتی پولیس ان حملوں میں پیش پیش رہتی ہے۔

واضح رہے کہ جمعہ کی رات وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں وضاحت کی تھی کہ ننکانہ صاحب میں رونما ہونے والا واقعہ دونوں مسلمان گروہوں کے درمیان تکرار کے نتیجے میں کھڑا ہوا اور اسے مذہبی تنازع کا رنگ دینا غلط ہے۔