پرائمری تعلیم اور پنجا ب میں حکومتی اقدامات
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 05 / جنوری / 2020
- 15880
تعلیم کے میدان میں بنیادی یا پرائمری تعلیم ایک اہم اور توجہ طلب مسئلہ ہے۔ بدقسمتی سے حکومتی ترجیحات میں تعلیم او روہ بھی بالخصوص پرائمری تعلیم پر وہ توجہ نہیں دی جاسکی جو دینی چاہیے تھی۔
یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری پرائمری تعلیم سے جڑے اعدادوشمار چاہے وہ انتظامی نوعیت کے ہوں یا معیار کے تناظر میں سب جگہ بڑے سوالیہ نشان موجود ہیں۔ سابقہ دور میں شہباز شریف کی حکومت نے پنجاب میں تعلیمی میدان میں ایمرجنسی کا اعلان بھی کیا،لیکن وہ بھی ایسے کام نہیں کرسکے جو ایمرجنسی کی ضرورت کو پورا کرتے او راس کا عکاسی پنجاب کے پرائمری سطح کی تعلیم میں واضح بہتری کے پہلو دیکھے جاسکتے۔ایک طرف مسئلہ سیاسی کمٹمنٹ کے فقدان کا ہے تو دوسری طرف تعلیم میں جی ڈی پی کے عمل میں وسائل کی کمی بھی ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت نے بنیادی ایجنڈے کے تین نکات پر توجہ دینے کی بات کی تھی۔ اول انسانی ترقی کو بنیاد بنا کر وسائل کی تقسیم اور دوئم تعلیم کے میدان میں اور سوئم مضبوط مقامی حکومتوں کے نظام پر بھرپور توجہ دی جائے گی۔
پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت ہے اور یہاں تعلیم کے شعبہ میں کام کرنے کے حوالے سے بہت سے چیلنجز ہیں۔ ان میں پرائمری تعلیم کی شرح خواندگی، اسکولوں کی کمی کا مسئلہ، اساتذ ہ کی تربیت کا عمل، پرائمری اسکولوں میں عدم سہولیات، نصاب میں تبدیلی، امتحانات کا طریقہ کار، پرائمری تعلیم چھوڑنے والے بچوں کی شر ح میں اضافہ، لڑکیوں کی تعلیم، جدید تقاضوں سے اہم اہنگ تعلیمی نظام، نگرانی اور جوابدہی کا نظام، میرٹ کی پالیسی سمیت کئی اہم مسائل شامل ہیں۔ ہائرایجوکیشن کمیشن تو وفاق اور صوبوں کی سطح پر موجود ہے لیکن پرائمری ایجوکیشن کمیشن کا نہ ہونا ظاہر کرتا ہے کہ حکومتی ترجیحات میں پرائمری تعلیم کہاں کھڑی ہے۔
پنجاب کے صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس ہیں۔ وہ ایک محنتی، دیانت دار اور پرائمری تعلیم کے میدان میں کچھ کرنے کا شوق، لگن اور دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ دوسری بار صوبائی اسمبلی کے ممبر بنے ہیں او راس بار پی ٹی آئی کی حکومت میں تعلیم کی وزرات کو ایک چیلنج کے طور پر قبول کرنا ان کی خواہش بھی تھی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پنجاب میں ان کو پرائمری تعلیم کا صوبائی وزیر بھی بنایا گیا۔ وزیر تعلیم بننے سے پہلے بھی جب وہ حزب اختلاف میں تھے تو ان کی توجہ کا مرکز تعلیم کا میدان تھا۔ ان سے جب بھی ملاقات ہوتی تو تعلیم کے میدان میں نئے نئے خیالات کی مدد سے وہ مستبقل کا خاکہ پیش کرتے تھے۔اس وقت تحریک انصاف کی حکومت پر میڈیا میں شدید تنقید ہوتی ہے او رکہا جاتا ہے کہ پنجاب کی صوبائی حکومت کسی بھی شعبہ میں کچھ نہیں کرسکی۔
لیکن صوبائی وزیر تعلیم مراد راس اس تصور کو شدت کے ساتھ چیلنج کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان 16ماہ میں ہم نے پرائمری تعلیم میں 16کے قریب ایسے نئے منصوبے شروع کیے ہیں جو ماضی کی حکومت دس برسوں میں بھی نہیں کرسکی تھی۔ ان کو گلہ ہے کہ میڈیا کی محاذ آرائی میں ان کی صوبائی حکومت اور وزارت نے پرائمری تعلیم کی بہتری کے لیے جو اہم اقدامات کیے ہیں ان کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ ایک مجلس میں یہ گلہ انہو ں نے مجھ سے بھی کیا او رکہا کہ میں محض ذبانی باتیں نہیں کررہا بلکہ چیلنج کرتا ہوں کہ ان اقدامات کی روشنی میں اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہماری حکومت یا وزارت نے کچھ نہیں کیا تو وہ ہر سزا قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔جو اقدامات پرائمری تعلیم کی بہتری کے تناظر میں موجودہ صوبائی حکومت یا صوبائی پرائمری وزارت تعلیم نے اٹھائے ہیں ان کا جائزہ لینا ہوگا او ران اقدامات کی بنیاد پر یقینی طور پر حکومت کے اچھے کاموں کی تعریف بھی ہونی چاہیے۔
صوبائی وزیر تعلیم پرائمری ایجوکیشن ڈاکٹر مراد راس کے بقول ان کی حکومت نے جو سولہ کے قریب اہم منصوبے پیش کیے ہیں وہ درج زیل ہیں۔ ان میں اساتذہ کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلی بار ای ٹرانسفر کا نظام متعارف کروایا گیا ہے جس کے تحت اساتذہ کو بغیر کسی محنت یا سفارش کے ای سروس کے تحت ان کے ٹرانسفر ان کے گھر تک پہنچ جاتے ہیں۔انصاف ایوننگز اسکولز سسٹم کا قیام جس کے تحت اسکول چھوڑکر جانے والے بچوں کو دوبارہ تعلیم کی طرف لانا اور اب تک 21,000بچو ں او ر بچیوں کو دوبارہ اسکولز کے نظام میں واپس لایا گیا ہے۔اسی طرح انصاف پرائمری اسکولز کا قیام جس کے تحت اگلے تین ماہ میں 21کڑور کی لاگت سوا یسے اسکولز قائم کیے جائیں گے جس میں بچوں اور بچیوں کو تعلیم کی طرف واپس لانا ہے۔انصاف موبائل اسکولز کا قیام جس کی مدد سے ایسے بچے او ربچیاں جو اسکول چھوڑ گئی ہیں ان کو اس مہم کے تحت تعلیم دی جائے گی۔اسکولز کے نظام کو موثر اور شفاف او را س میں بہتری لانے کے لیے ہیومین ریوسورس مینجمنٹ سسٹم کو متعارف کروایا گیا ہے تاکہ سارے نظام کو آن لائن کیا جاسکے۔
ڈاکٹر مراد راس کے بقول پہلی بار پنجاب اسکولز ایجوکیشن پالیسی کا اعلان کیا جارہا ہے جس کے تحت پورے پرائمری تعلیمی نظام کو شفافیت کی بنیاد پر چلاجائے گا۔اسی طرح ان پرائمری اسکولز میں پہلی سپورٹس پالیسی کا اعلان مارچ 2020میں کیا جارہا ہے جس کے تحت ان اسکولز میں کھیلوں کی بنیاد پر نوجوان نسل کو زیادہ سے زیادہ مواقع دینا ہے۔سابقہ حکومت کی دانش اسکولز کی پالیسی کو آگے بڑھاتے ہوئے ایسے اسکولز نئے اضلاع میں بھی شروع کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا گیا ہے۔ٹیچرز لاسنسنگ ایکٹ، پنجاب ایسیسمنٹ پالیسی فریم ورک جس کے تحت بورڈ ز کے امتحانات کو موثر بنانا، اردو کو زریعہ تعلیم بنانے کے موثر اقدامات، نصابی کتابوں میں ہنگامی بنیادوں پر تبدیلی کا عمل جو کہ 2021تک عمل ہوگا،پنجاب میں 110ماڈل اسکولز گیارہ اضلاع میں مارچ اپریل2020تک مکمل ہونگے،اسکولز میں عدم سہولتوں کے فقدان کے حوالے سے دو ہزار نئے کلاس روم، سو سائنس لیب، چار سو لائبریری او رایک ہزار آئی ٹی لیب کا قیام عمل میں لانا،پرائمری تعلیم میں کلین اور گرین پاکستان کے منصوبے کو شامل کرنا جس کے تحت 2.3میلن درخت لگانا جو پچیس اضلاع میں ہوں گے۔
یقینی طور پر اس مشکل صورتحال میں جہاں ہمارے ہاں حکمرانی کے بیشتربحران نظر آتے ہیں وہاں پرائمری تعلیم کے میدان میں پنجاب کی پرائمری تعلیم او ران کے نوجوان وزیر ڈاکٹر مراد راس کے اقدامات کی تعریف کرنا ہوگی۔کیونکہ اس مختصر عرصہ میں جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں وہ قابل تعریف ہیں۔ لیکن ڈاکٹر مراد راس کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ پالیسی یا قانون سازی کرنا ایک کام جبکہ مشکل کام ان پالیسیوں اورقوانین پر سختی سے عملدرآمد کرنا ہے۔ اس کے لیے جب تک صوبائی سطح پر ایک مضبوط نگرانی اور جوابدہی کا نظام نہیں ہوگا یہ عمل ممکن نہیں ہوگا۔ اسی طرح حکومت کو سول سوسائٹی کی مدد سے صوبہ میں شرح خواندگی میں اضافہ اور بالخصوص لڑکیوں کی شرح خواندگی کے حوالے سے ایک بھرپور مہم چلانی چاہیے اور ان اداروں کے ساتھ حکومت کا رویہ تعاون پر مبنی ہونا چاہیے کیونکہ یہ کام تن تنہا حکومت نہیں کرسکے گی۔ پرائمری تعلیم کے تناظر میں ”پائیدار ترقی کے اہداف 2030“کو بنیاد بنا کر اپنی پالیسیوں کو جوڑنا ہوگا۔کیونکہ جس انداز سے عالمی دنیا سے جڑے ہوئے ترقیاتی ادارے ہماری پرائمری تعلیم اور لڑکیوں کی تعلیم کو بنیاد بنا کر جو اعدادوشمار یا ہماری درجہ بندی پیش کرتے ہیں وہ کافی تنقیدی پہلو ہے۔
اصل مسئلہ ہماری پرائمری تعلیم کو دنیا بھر میں ہونے والے اچھے تجربات کی روشنی میں جدید تعلیم اور جدید تقاضوں کے مطابق اہم اہنگ کرنا ہے۔ ملک میں نجی اسکولز ضرور کھلیں، لیکن اصل ہدف حکومتی سطح پر سرکاری پرائمری تعلیم کے لیے ایک ایسا سازگار ماحول قائم کرنا ہونا چاہیے جو لوگوں کو سرکاری اسکولز کی تعلیم کی طرف راغب کرسکے۔اس کے لیے صوبائی وزیر تعلیم کو پنجاب کی سطح پر پہل کرکے پرائمری ایجوکیشن کمیشن کی بنیاد رکھنی چاہیے جو صوبہ میں نگرانی کے نظام کو موثر بنا کر بہتر نتائج حاصل کرسکے۔وزیر تعلیم مراد راس کو چھ باتوں پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اول صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان اور تعلیمی وسائل میں اضافہ، دوئم صوبے میں شرح خواندگی کو بڑھانے کی بڑ ی مہم اور اس میں سول سوسائٹی کی شمولیت، سوئم نصاب میں جدید بنیادوں پر تبدیلی کا عمل، چہارم امتحانات کے نظام میں جدید طریقوں کا نفاذ،پنجم صوبے میں پرائمری ایجوکیشن کمیشن کا قیام، ششم بنیادی سہولیات کی فراہمی اور سرکاری اسکولوں میں سازگار ماحول اور لوگوں کو ان اداروں کی ترغیب دینا، ہفتم نگرانی او رجوابدہی کا موثر نظام کو بنیاد بنا کر ایک بہتر تعلیمی نظام کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔