عراقی پارلیمنٹ نے امریکی فوج کے انخلا کا مطالبہ کردیا
- اتوار 05 / جنوری / 2020
- 5290
عراقی پارلیمنٹ نے بغداد میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد تمام غیر ملکی افواج کے ملک سے انخلا کے بارے میں ایک قرار داد منظور کی ہے۔
عراق کی پارلیمان میں منظور کی گئی قرار داد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ غیر ملکی افواج کو عراقی سرزمین، فضا اور سمندری حدود کو فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے سے روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ اس وقت عراق میں امریکہ کے پانچ ہزار فوجی موجود ہیں۔
عراق کے نگراں وزیر اعظم عادل عبدل المہدی نے کہا ہے کہ یہ اقدام عراق کے بہترین مفاد میں ہوگا۔ حالانکہ اس کی وجہ سے ملک کو اندرونی اور بیرونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی فوج کے حملے کے بعد مختلف شیعہ سیاسی رہنماؤں نے اپنے تمام سیاسی اختلافات کو بھلا کر امریکی فوج کے ملک سے انخلا کا مطالبہ شروع کر دیا تھا۔ قرار داد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی اُس درخواست کو واپس لے لے جس میں عراق نے بین الاقوامی اتحادی افواج سے نام نہاد دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں مدد مانگی تھی کیونکہ اب دولت اسلامیہ کو شکست ہو چکی ہے۔
قرار داد میں عراق حکومت پر مزید زور دیا گیا کہ وہ ملک میں بیرونی افواج کی موجودگی کو ختم کرنے کے لیے ہر مکمن اقدام کرے اور غیر ملکی فوجیوں کو عراقی سرزمین، فضا اور سمندر کو کسی بھی صورت میں استعمال کرنے سے باز رکھے۔ اس کے علاوہ عراقی حکومت سے کہا گیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے عراق کی خود مختاری اور سیکیورٹی کو پامال کرنے پر اقوام متحدہ میں باقاعدہ شکایت کی جائے۔
بی بی سی مانٹرنگ کے مطابق عراق کے شیعہ رہنما مقتدی الصدر نے امریکہ کے خلاف بین الاقومی مزاحمتی یونٹس تشکیل دینے کی تجویز دی ہے۔ مقتدی الصدر نے ٹوئٹر پر جاری کردہ ایک بیان میں کئی نکات پیش کیے جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کے ملک سے انخلا کو یقنی بنانے کے لیے پارلیمان کو اپنے سامنے رکھنے چاہیں۔