امریکا ایران تنازع کے بعد تیل اور سونے کی عالمی قیمتوں میں اضافہ

  • سوموار 06 / جنوری / 2020
  • 4140

ایرانی فوجی کمانڈر کی ہلاکت کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والے بحران کے بعد تیل اور سونے کی قیمتیں 6سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

مشرق وسطیٰ کی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ کشیدہ ہو رہی ہے اور فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کو دی جانے والی دھمکیوں کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل اور سونے کی قیمتوں میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ ایران نے اتوار کو جوہری معاہدے کی پاسداری نہ کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ حملے کے بعد عراقی پارلیمنٹ نے ملک سے غیرملکی افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا۔

اس بحران نے سرمایہ داروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایشیائی تجارتی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں دو فیصد اضافہ دیکھا گیا جبکہ برینٹ کی قیمت ستمبر کے بعد پہلی مرتبہ 70 ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ گزشتہ سال سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملوں کے بعد بھی تیل کی پیداوار متاثر ہونے کے نتیجے میں برینٹ کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

امریکا کو ایرانی جنرل کو نشانہ بنانے پر عالمی طاقتوں خصوصاً چین اور روس کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جارحانہ موڈ میں نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے ایران کی جانب سے کسی بھی کارروائی  کی صورت میں ایران کے درجنوں اہم مقامات کو نشانے پر لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ اور کہا ہے کہ انہیں کسی بھی قسم کی کارروائی کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری کی ضرورت نہیں۔

نیشنل آسٹریلین بینک میں اہم عہدے پر فائز رے ایٹرل نے کہا کہ آنے والے دنوں میں عالمی سیاسی تناؤ میں اضافے کا اندیشہ ہے جس سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گا۔

دوسری جانب سونے کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ٹریڈر اسٹیفن انز نے کہا کہ کوئی بھی نئے سال کا آغاز اس طرح کی خراب صورتحال کے ساتھ نہیں چاہتا تھا۔  چین اور امریکا کے درمیان تجارتی معاہدے کے اعلان کے بعد سرمایہ داروں کو سازگار حالات کی توقع تھی لیکن موجودہ صورتحال میں عالمی اسٹاک مارکیٹ ہیجانی کیفیت سے دوچار ہے۔

وال اسٹریٹ میں ایکویٹی مارکیٹس میں بھی خسارے کا رجحان دیکھا گیا جہاں تین انڈیکس ریکارڈ بلندی سے نیچے گر گئے جبکہ امریکی فوج یا تنصیبات پر ممکنہ ایرانی حملے کے پیش نظر خلیجی تعاون کونسل کی تمام 7 اسٹاک ایکسچینجز میں بھی گراوٹ کا رجحان دیکھا گیا۔

عرب ممالک جیسے کویت، بحرین اور قطر میں امریکی اڈے موجود ہیں جبکہ سعودی عرب میں بھی سیکڑوں کی تعداد میں امریکی فوجی موجود ہیں۔ ایکویٹی مارکیٹ گرنے کے اثرات ایشیا تک بھی پہنچ گئے جہاں ٹوکیو اور سنگاپور کی مارکیٹ میں تنزلی کا رجحان دیکھا گیا البتہ شنگھائی کی مارکیٹ مستحکم رہی۔