ایران امریکا تنازع کا حصہ نہیں بنیں گے: وزیر خارجہ

  • سوموار 06 / جنوری / 2020
  • 4200

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور نہ ہی پاکستان خطے کے کسی تنازع میں حصے دار بنے گا۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرِ صدارت ایوان بالا کے اجلاس میں امریکا ایران کشیدگی پر بیان دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 27 دسمبر کو عراق میں ایک راکٹ حملے میں ایک امریکی کنٹریکٹر مارا گیا۔  29 دسمبر کو اس حملے کے ردعمل کے میں امریکا نے کارروائی کی اور اس ملیشیا کے 25 افراد ہلاک کردیے۔

امریکی حملے کے جواب میں 31 دسمبر کو بغداد میں امریکی سفارت خانے کے سامنے احتجاج کیا گیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود تھے جنہوں نے جلاؤ گھیراؤ بھی کیا۔  خوش قسمتی سے امریکی سفارت خانے کو بروقت خالی کروالیا گیا تھا اس لیے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔  امریکا نے اس کے جواب میں ایرانی میجر جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنایا۔

موجودہ حالات نے نئے تناؤ کو جنم دیا جو اسامہ بن لادن اور ابوبکر البغدادی کے واقعات سے زیادہ سنگین ہوسکتا ہے۔  ماہرین اس واقعے کو نہ صرف تشویش ناک قرار دیتے ہیں بلکہ کہتے ہیں کہ اہمیت کی لحاظ سے ان کی نظر میں اس واقعے کے اثرات 2011 کے آپریشن میں اسامہ بن لادن کو نشانہ بنانے اور 2019 میں داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی سے بھی زیادہ گہرے، سنگین اور تشویش ناک ہوسکتے ہیں۔  قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد ایران اور عراق میں احتجاجی کیفیت نے جنم لیا لوگ سڑکوں پر آگئے اور غم و غصے کا اظہار کیا جو آج بھی جاری ہے۔

عراق کی پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس گزشتہ روز طلب ہوا اور اس اجلاس میں قرارداد منظور کی گئی کہ تمام غیر ملکی فوجیوں کو ملک چھوڑ دینا چاہیے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ خطے میں ابھی جو صورت حال ابھر رہی ہے اس کو بھانپتے ہوئے 3 جنوری کو حکومتِ پاکستان نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ میں نے خطے کے اہم وزرائے خارجہ سے بات چیت کی، میں نے ایران کے وزیر خارجہ سے تفصیلی بات چیت کی اور اس واقعے پر پاکستان کا موقف پیش کیا۔ میں نے متحدہ عرب امارات، ترکی اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ سے بھی بات چیت کی۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال بہت نازک اور تشویشناک ہے اور یہ کوئی کروٹ لے سکتی ہے ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے‘۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای برملا اپنی قوم سے انتقام کا وعدہ کرچکے ہیں اور ایران کے صدر حسن روحانی امریکی حملے کو ’عالمی دہشت گردی سے تشبیہ دے چکے ہیں۔  ایران کے وزیر خارجہ سے جب بات چیت ہوئی تو انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی خطرناک فعل تھا اور احمقانہ تھا اس سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی۔

وزشیر خارجہ نے کہا کہ تمام معاملے کو دیکھتے ہوئے حکومت پاکستان سمجھتی ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کا قتل بہت سنجیدہ معاملہ ہے اور اس کے اثرات کو ہم نے بحیثیت قوم سمجھنا ہے کیونکہ اس معاملے کا جو اثر ہوگا، وہ  علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ جس پر حکومت پاکستان کو شدید تشویش ہے۔

پاکستان کسی یک طرفہ عمل کی تائید نہیں کرتا اور طاقت کا استعمال ٹھیک نہیں اس سے مسائل بڑھ سکتے ہیں ختم نہیں ہوسکتے۔  ہمارا موقف ہے کہ یہ خطہ کسی بھیانک جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا اس کے بھیانک اثرات ہوں گے۔ ہم اس خطے کا حصہ ہیں جو آگ لگے گی ہم اس کی گرمی سے نہیں بچ پائیں گے۔

شاہ محمود قریشی نے خطے کی صورت حال سے ایوان کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی بھی یک طرفہ کارروائی کی حمایت نہیں کرتے اور فورس کے استعمال کے مخالف ہیں کیونکہ اس سے معاملات کبھی حل نہیں ہوتے۔ تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق خومختاری اور سرحدوں کے احترام کے اصول کی حمایت کرتا ہے۔

پاکستان کی سرزمین کسی دوسری ریاست کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور ہم خطے کے اس تنازع میں فریق نہیں بنیں گے۔ مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی صورت حال پر انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل پر بھی زور دیا کہ وہ خطے کے تحفظ اور اس آگ سے بچنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

دفتر خارجہ میں ایک ٹاسک فورس قائم کرلی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر بدلنے والی صورت حال پر نظر رکھے گی۔