جنگِ دُنیا ، جنگِ دیں ، جنگِ وطن
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 06 / جنوری / 2020
- 8540
ہم وہ بد قسمت انسانی گروہ ہیں جن کی زندگی میں کبھی امن آیا ہی نہیں ۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہم اقبال کے خوابوں کی سرزمین اور قائدِ اعظم کے دوقومی نظریے کے مُلک میں رہتے ہیں ، جس میں ان دونوں بزرگوں کو خراج پیش کرتے ہوئے کبھی کسی نے غریب عوام کا ذکر تک نہیں کیا ۔ جس ملک میں عوام بہتر برس سے یرغمال ہیں وہاں قانون کی نہیں پ ، ف ، ق ، ن اور الف کی حُکمرانی رہی ہے جس کی کوریو گرافی ہمیشہ مارشل لاؤں کے ڈانس ماسٹروں نے کی ہے ۔ شاید یہی ہمارا نوشتہ تقدیر ہے کہ ہم بیرونی دشمن سےجنگوں اور داخلی دشمنوں سےخانہ جنگی میں مبتلا رہیں ۔
1945 میں دوسری عالمی جنگ ختم ہوئی جس میں برِ صغیر کے مسلمانوں نے بھرپور شرکت کی اور جرمنی کے ہٹلر کے خلاف ونسٹن چرچل کے سپاہی بن کر لڑے ۔ دو سال کے اندر ، ابھی جنگ کی تباہ کاریوں کے اثرات ہنوز قائم و دائم تھے ، ہمیں تقسیم ہند کے آبادی کے تبادلے کے طوفان سے گزرنا پڑا ۔جس میں کُشتوں کے پُشتے لگے اور سرحدوں کے دونوں جانب شہر ، گاؤں ، گلی کوچے ، سڑکیں اور ریلیں میدانِ جنگ کے مورچوں میں تبدیل ہو گئیں ۔ اس کے نتیجے میں لاکھوں اموات اور اغوا کا ننگا ناچ ہمارے لیے مصائب لایا جن کے زخم آج بہتر برس بعد بھی تازہ ہیں۔
پاکستان بناتو کشمیر میں فوج کی قیادت میں قبائل کشی ہوئی اور اپنے وجود میں آنے کے پہلے سال ہی ہم غیر رسمی جنگ کی نحوست کا شکار ہوئے ۔ رفتہ رفتہ حالات سنبھلے تو رن کچھ کی لڑائی شروع ہوئی جو بین الاقوامی عدالت میں جا کر ختم ہوئی ۔ پھر ستمبر 65 کی جنگ ہوئی اور مغربی پاکستان کی سرحدیں بھارتی ٹینکوں کی زد میں آئیں ، دونوں طرف سے پیش قدمی اور پسپائی کی خبریں آئیں اور بات اعلانِ تاشقند پر جا کر ختم ہوئی اور ہمارے اکلوتے فیلڈ مارشل ایک ایسی جنگ کے ہیرو بنے جس کے بارے میں عوامی نقطہ ء نظر یہ تھا کہ یہ جنگ ایسی تھی جس میں ایک ہیجڑا دوسرے ہیجڑے کے ساتھ سویا ، نہ کچھ لیا نہ کچھ دیا۔ تب جالب بھی بولا اور کچھ یوں بولا تھا :
اعلانِ تاشقند کیے جا رہا ہوں میں
جو بولتا ہے بند کیے جا رہا ہوں میں
جنگ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی نے جنم لیا ۔ یہ وہ واحد سیاسی جماعت تھی جو فوجی آمریت کے خلاف بغاوت کا ماحصل تھی ۔ اگرچہ بھٹو ایوب خان کی عسکری بنیادی جمہوریتوں کے نظام کا حصہ رہے تھے اور پہلے سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بھی بنے مگر وہ ملک کو فوجی اثر و رسوخ سے آزاد کروانا چاہتے تھے جو شاید ایک جرم تھا جس کی پاداش میں وہ تختہ ء دار پر کھینچ دیے گئے ۔ اگر چہ ایوب خان اپنے دس سالہ طویل دورِ حکومت کے بعد ملک کو مارشل کی کھائی میں دھکیل کر ، عنانِ اقتدار یحیٰ خاں و سونپ کر بادلِ نا خواستہ رُخصت ہوئے تھے جس پر استاد دامن بولے تھے:
سُن او بھائیا جاندیا راہیا
گیا ایوب تے آیا یحیٰ
مگر یہ مارشل لا اپنے ساتھ نحوست لائی اور انتخابات کے انعقاد کے باوجود ملک پھر جنگ کے گڑھے میں جا گرا ۔ اس جنگ میں جنرل امیر عبدللہ نیازی اور جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ کے درمیان ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں میچ پڑا اورہم 17 دسمبر 1971 کو پورے سے آدھے رہ گئے ۔سات کروڑ پاکستانی ساڑھے تین رہ گئے ۔ ایک لاکھ فوجی اور سویلین بھارت کی قید میں چلے گئے اور کم و بیش اتنے ہی بھارتی سپاہی پاکستان میں جنگی قیدی بنے اور پھر شملہ معاہدہ ہوگیا ،مغربی اور مشرقی پاکستان جو دو ہنسوں کا جوڑا تھا بچھڑ گیا اور ہم پاکستانی آبادی کا اڑتالیس فی صد رہ گئے ۔ مشرقی پاکستان سے بہاری مسلمانوں کا انخلا شروع ہوا اور ہجرت کے ایک نئے المیے نے جنم لیا ۔ باون فیصد پاکستانی آبادی بنگلہ دیشی بن گئی یعنی باون فی صد پاکستانی آبادی قائد اعظم کے پاکستان سے واک آؤٹ کر گئی ۔اور مشرقی اور مغربی پاکستان کے مابین دشمنی کا عہد آغاز ہوا جو تادمِ تحریر کسی نہ کسی شکل میں قائم ہے ۔
اس سانحے میں سب سے قابلِ ذکر اور قابلِ غور نقطہ یہ ہے کہ اسلام کا دینی رشتہ ہمیں وحدت کی لڑی میں پرو کر نہ رکھ سکا ۔ دوقومی نظریہ تین قومی نظریہ بن گیا ۔ ملک ٹوٹ گیا لیکن ہمارے مونہہ کو لگا جنگ کے خون کا ذائقہ نشہ بن کر ہم پر طاری رہا ۔ کشمیر کے ضمن میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل ہمارے بس کی بات کبھی نہیں رہی ۔ جب کبھی سرحدوں پر شورش ہوئی ہم نے یو این او کی قرار دادوں کو مقدس آیات کی طرح پڑھا ضرور مگر بھلا دیا ۔ ہم نے اُن پر عمل درامد کروانے کے مشن کو ہمیشہ ثانوی حیثیت دی اور اس مقدمے کی پیروی کے بجائے سرحدوں پر ٹھوں ٹھاں کا شغل جاری رکھا اور اس مہم جوئی میں گولہ بارود ضائع کرتے رہے ۔ اس قضیے میں ثالثی کے لیے ناروے کے پروفیسر یوہان گالتنگ بھی گئے اور انہوں نے یہ بیان دیا کہ پاکستان اور بھارت کی فوجیں امن چاہتی ہی نہیں کیونکہ جنگیں طرفین کے لیے منافع بخش کاروبار ہوتی ہیں ۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد پھر سے دو جرنیلوں نے باری باری ملک فتح کیا اور اپنی سول ملیشیا کے ذریعے بیس سال تک حکومت کی ۔ ان دو سول سیاسی ملیشیاؤں میں ایک نون لیگ تھی اور دوسری قاف لیگ ۔ان میں سے ایک جرنیل تو طیارے کے حادثے میں ہوا میں تحلیل ہوگیا اور دوسرا اپنی سول باقیات کو چھوڑ کر راہی ملک متحدہ عرب امارات ہوا اور آج بھی اپنی وردی کی کھال پہنے دوبئی کے ایک ہسپتال میں پڑا تلنگ گاتا رہتا ہے کہ:
میں ڈرتا ورتا کسی سے نہیں میں تو بڑا بہادر ہوں
اس جرنیل نے بھی کارگل کی وہ جنگ لڑی جو پاکستان کے عوام کو تو کچھ نہ دے سکی ، مگر فوج کو ملک کے تحفظ کا اعزاز ضرور دے گئی ۔اگر چار مارشل لاؤں اور چھوٹی بڑی جنگوں کا گوشوارہ بنایا جائے تو سات دہائیوں میں فی دہائی ایک جنگ بنتی ہے جن میں اربوں کا گولہ بارود پھونکا گیا ۔ میں پینڈو اکثر سوچتا ہوں کہ اگر گولہ بارود پر ملکی بجٹ خرچ کرنے کے بجائے ملک کی معاشی ترقی پر سرمایہ کاری کی گئی ہوتی تو آج ہم پانی ، بجلی اور گیس کی قلت کا ماتم نہ کر رہے ہوتے ، لیکن ہم مارشل ریس ہیں اور اُن حملہ آور مسلمان بادشاہوں کی تاریخ کے وارث بنے پھرتے ہیں جن میں سے کچھ تو برصغیر کی دولت لوٹنے کے لیے آتے تھے اور اپنا مشن پورا کر کے واپس چلے جاتے تھے اور کچھ نے یہیں اپنی چھاؤنیاں قائم کیں ، قلعے ، باغات اور مزارات بنائے مگر عام شہری آبادی کے لیے ٹاؤن پلاننگ کر کے کبھی محفوظ شہر آباد نہ کر سکے ۔چونکہ یہ لوگ جوع الارض کے مریض تھے ، اس لیے ایک دوسرے سے لڑتے تھے ۔ جب بابر نے حملہ کیا تو دلی کے تخت پر ابر اہیم لودھی بیٹھا تھا ۔ مجھے آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ دونوں میں سے کون اسلام کا حقیقی نمائندہ تھا ۔
علاؤالدین خلجی نے اپنے چچا جلال الدین خلجی کو قتل کیا اور آج بھی جب میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی طرزِ سیاست کو دیکھتا ہوں تو مجھے اس سے بوئے سلطانی آتی ہے ۔میں ان جمہوری حکمرانوں کے محلات اور عشرت گاہیں دیکھتا ہوں تو یقین کر لیتا ہوں کہ یہ جمہوریت کے لباس میں چھپے مطلق العنان جنگ باز ہیں جن کا مسلک جنگ ہے ۔لگتا ہے کہ جنگ کا بھوت ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہے ، افغانسان کی سرحد ہو یا بھارت کی ، ہم دشمنوں میں گھرے ہیں ۔ ہماری سرحدوں پر جنگ کے بادل چھائے رہتے ہیں اور اب ایک نئی جنگ امریکہ کی طرف سے ہمیں تحفے میں بھجوائے جانے کے آثار نظر آ رہے ہیں جس میں اربوں ڈالر کا اسلحہ جھونکے جانے کا خدشہ ہے ۔یہ امریکی مفادات کی جنگ ہوگی جس میں امریکی اسلحہ بکے گا اور اُس کی قیمت وہ ملک ادا کریں گے جن پر جنگ مسلط کی جائے گی ۔ اسے کہتے ہیں کاروبار۔ موت کا کاروبار جو امن کے نام پر ہوگا ۔