قومی اسمبلی نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کرلیا
- منگل 07 / جنوری / 2020
- 3650
قومی اسمبلی میں پاکستان آرمی، نیوی اور ایئرفورس ایکٹس ترامیمی بلز 2020 کثرت رائے سے منظور کرلیے گئے ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیرِ صدارت ایوان کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیراعظم عمران خان نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں سروسز ایکٹس میں ترامیم سے متعلق تینوں بلز پر شق وار منظوری لی گئی۔ ایوانِ زیریں میں پاک آرمی ایکٹ 1952، پاک فضائیہ ایکٹ 1953 اور پاک بحریہ ایکٹ 1961 میں ترامیم کے لیے علیحدہ علیحدہ بلز پیش کیے گئے۔
ترامیمی بلز کو پاکستان آرمی( ترمیمی) بل 2020، پاکستان نیوی (ترمیمی) بل 2020 اور پاکستان ایئرفورس (ترمیمی) بل 2020 کے نام دیے گئے۔
اجلاس کے آغاز پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین امجد علی خان نے پاکستان آرمی (ترمیمی) بل، ایئرفورس (ترمیمی) بل اور نیوی (ترمیمی) بل سے متعلق قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کی۔ وزیر دفاع پرویز خٹک نے پاکستان پیپلزپارٹی سے بلز میں ترامیم سے متعلق تجاویز واپس لینے کی درخواست کی جسے پارٹی نے قبول کرلیا۔ اس سے ایوان میں اتفاق رائے کی صورتحال پیدا ہوگئی۔
جمعیت علمائے اسلام (ف)، جماعت اسلامی اور قبائلی اضلاع کے ارکان نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ بل منظور ہونے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس 8 جنوری شام 4 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
مبک ٹوئٹ میں شمالی وزیرستان کے رکنِ قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا جپ کہ قومی اسمبلی سے واک آؤٹ سے قبل انہوں نے پاکستان آرمی (ترمیمی) بل 2020 کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر نے چند اختلافی آوازوں کو بھی معاملہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی۔ یہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کے تاریک ترین دنوں میں سے ایک ہے۔
قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد مذکورہ ترامیمی بلز سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کردیے گئے ہیں۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کی جانب سے سروسز چیفس اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی مدت ملازمت سے متعلق تینوں ترامیمی بلز کو دوبارہ منظور کیا تھا۔
پاکستان پیپلزپارٹی نے حال ہی میں قومی اسمبلی میں کثرت رائے سے منظور کیے گئے پاکستان آرمی، نیوی اور ایئرفورس ایکٹس ترامیمی بلز 2020 سے متعلق تجاویز پیش کی تھیں جنہیں حکومت کی درخواست پر واپس لے لیا گیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی جماعت نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اور قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں 3 ترمیمی تجاویز پیش کی تھیں۔
حکومت اور اپوزیشن کے دوران اتفاق کی گئی نئی ٹائم لائن کے مطابق ترامیمی بلز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع میں ارسال کیے جانے سے قبل سینیٹ میں بھی پیش کیے جائیں گے جس پر اسی روز توثیق کا امکان بھی ہے۔ سینیٹ میں 8 جنوری کو ترامیمی بلز پر رائے شماری کا امکان ہے جس کے بعد ان پر صدر مملکت دستخط کریں گے۔