امریکی اقدام نے مشرقِ وسطی میں آگ لگا دی

امریکہ کی جانب سے  ایران کے پاسداران  انقلاب میں قدس فورس کے ایرانی میجر جنرل قاسم سلیمانی کا   عراق میں قتل، ایران کے خلاف جنگ کا  مذموم اعلان ہے۔ جو پورے مشرق وسطی کو آگ لگا سکتا ہے۔

 یہ قتل امریکی صدر  ڈولنڈ ٹرمپ کے براہِ راست احکامات پر ہوا ہے، جو پہلے ہی سے جنگ زدہ خطے میں کسی بڑے مسلح تنازعے کو بھڑکانے کے لیے بلا اشتعال تیار ہے۔ امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے کہا ہے کہ نئے سال کے موقع پر بغداد میں امریکی سفارتخانے کے خلاف ہونے والے عراقی شہریوں کے مظاہروں کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔ یہ مظاہرین  عراق سے امریکی  فوجی واپس بلانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔   امریکہ نے پہلے ہی یہ کہہ دیا تھا کہ ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کے خلاف امریکہ احتیاطی تدابیر اختیار کر رہا ہے جن میں حملے کیے جانے کا بھی امکان ہے۔  اس اعلان کے چوبیس گھنٹوں سے بھی کم وقت میں  ایران کے سب سے اعلی کماندار میجر  جنرل قاسم سلیمانی کی کار کو بغداد میں نشانہ بنایا گیا۔

ایران کے ساتھ امریکہ کا تناؤ  اگرچہ کافی پرانا ہے لیکن جب سے صدر ٹرمپ اسرائیلی لابی کے اہم ترین افراد کے گروہ کے ساتھ وائٹ ہاس میں داخل ہوئے ہیں، ایران کے بارے میں امریکہ کا رویہ، ایران کے دشمن اسرائیل کی پالیسیوں کی عکاسی کرتا ہے۔  یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے تمام بین الاقوامی اصول و ضوابط پس پشت ڈالتے ہوئے، ایران کے ساتھ محاذ آرائی کو تیز کر رکھا ہے اور مشرق وسطی میں اپنے مکروہ عزائم کو اسرائیلی پالیسیوں کے مطابق پورا کرنے کے لیے پہلے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کیا اور پھر اس پر مشرق وسطی میں گڑ بڑ کی  الزام تراشیوں سے اقوام عالم کو دھوکا دینے اور ایران مخالف رائے ہموار کرنے کی کوششیں تیز کر دیں۔

 اب عراق کے  دارالحکومت بغداد میں بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب کیے جانے والے  امریکی حملے میں ایرانی میجر جنرل قاسم سلیمانی،  پانچ عراقی عہدیداروں سمیت  ہلاک ہو گئے  ہیں۔ قاسم سلیمانی کو ئی ایک معمولی فرد یا عہدیدار نہیں بلکہ وہ اپنے ملک کے مقبول ترین عسکری رہنماؤں میں سر فہرست  تھے۔  امریکی و مغربی رہنما جانتے ہیں کہ قدس فورس کے رہنما کی حیثیت  سے جنرل قاسم سلیمانی شام میں  دولتِ اسلامیہ کے جنگجوں اور  جبہت النصرہ اور دیگر اسلامی دہشت پسند عسکری گروہوں کے خلاف جنگ میں بھی پیش پیش تھے۔  انہوں نے ان دہشت پسند گروہوں کے خلاف کارروائیوں میں بڑی نمایاں کامیابیاں حاصل کی تھیں۔ اسی وجہ سے انہیں شام، عراق اور لبنان میں   ہیرو  مانا جاتا تھا اور ان کے قتل کے بعد اب بھی انہیں یہی درجہ  مل  رہا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے براہ راست احکامات پر انہیں قتل کر دیے جانے کے بعد  میگزین، دی نیشن  کے دفاعی امور کے  ایڈیٹر جیک مورے نے کہا ہے کہ  قاسم سلیمانی کا قتل ایسے ہی ہے جیسے امریکی سی ائی اے کے رہنما جینا ہاپل یا اسرائیلی خفیہ سروس  موساد  کے رہنما  کو کسی  غیر ملکی سرزمین پر قتل کر  دیا جائے۔ ایک بار پھر امریکہ نے کسی قانونی بنیاد کے بغیر ، کسی ملک کے اعلی ترین رہنما کو  کسی اور ملک کی سرزمین پر قتل کیا ہے جسے ایک جنگی جرم  قرار دینا ہی درست ہے کیونکہ امریکہ کا یہ اقدام یعنی قاسم سلیمانی کا قتل ایک مجرمانہ فعل اور تمام بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

جن افراد پر جنگی جرائم کا مرتکب ہونے  کا الزام لگایا جاتا ہے وہ بھی اپنے خلاف منصفانہ مقدمے کے مستحق ہوتے ہیں اور انہیں عدالت سے سزا دی جاتی ہے۔  یہی بین الاقوامی قانونی برادری کی خصوصیات ہونی چاہیں۔  عالمی حالات اور خاص کر مشرق وسطی میں شام، عراق اور لبنان کے ساتھ ساتھ یمن اور پھر لیبیا اور افغانستان کی  صورت حال کو سامنے رکھا جائے تو  اب تک کا سب سے بڑا جنگی مجرم خود امریکہ ہے، جس نے اپنے پالتو اسرائیل کی طرح، خود کو بین الاقوامی قانون  و اقوام متحدہ کے ضابطوں سے بالاتر کر رکھا ہے۔

عراق نے اپنی سر زمین پر امریکہ کی جانب سے قاسم سلیمانی کے قتل کو  عراقی ریاست میں دخل اندازی اور قومی و ملکی سالمیت کے خلاف اقدام  قرار دے کر اس کی شدید مذمت کی ہے۔   ایران نے  قاسم سلیمانی کے قتل کو   عالمی دہشت گردی  قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی اور کہا ہے کہ وہ اس کا بدلہ لے گا۔ ایران نے سختی سے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور ڈونلڈ ٹرمپ نے دانستہ طور پر ایسی دھماکہ خیز صورتِ حال پیدا کردی ہے جو ان کے سامراجی مفادات کو آگے بڑھانے اور قائم رکھنے اور علاقے میں اسرائیلی بالا دستی کو مضبوط بنانے کے لیے ایک نئی جنگ  کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ اس کا ثبوت  امریکی محکمہ دفاع و جنگ  پینٹاگون کے اس بیان سے بھی ملتا ہے جس میں زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے  کہ  امریکہ دنیا بھر میں جہاں بھی اس کے مفادات ہیں اور جہاں جہاں اس کے  فوجی موجود ہیں  وہ ان کے اور امریکی مفادات کے تحفظ  کے لیے تمام ضروری اقدامت کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔اور اس کے لیے اسے کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں۔

 ڈنمارک میں مسلمانوں اور  اسلام معاندانہ سخت رویہ رکھنے والی انتہائی دائیں بازو کی  قومیت پرست، ڈینش پیپلز پارٹی کے سرن ایسپرسن نے قاسم سلیمانی کو قتل کیے جانے پر امریکی اقدام کو  سراہا اور صدر ٹرمپ کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ جب کہ حکمران سوشل ڈیموکریٹ  پارٹی کے وزیر خارجہ  ییپے کوفود ا نے بیان دینے سے گریز کیا ہے۔

امریکہ کے اِس حملے نے ڈینش حکومت کو  ایک کڑی آزمائش  میں ڈال دیا ہے کیونکہ اس نے  حال میں اپنے ایک سو تیس فوجی عراق بھیجے ہیں۔ وہ اِس سال امریکہ کے ساتھ  اسٹریٹجک شراکت داری  قائم کرنے اور آبنائے ہر مز میں   فوجی اور ایک بحری جنگی بیڑا بھیجنے کے لئے بھی کوشاں ہے۔

(بشکریہ: اردو ہم عصر کوپن ہیگن)