ملکی بقا اور سلامتی کے لئے معاشی مساوات ناگزیر ہے
- تحریر اطہر مسعود وانی
- منگل 07 / جنوری / 2020
- 8700
پہلے اشیاکی قیمتیں سال کے بعد بڑھتی تھیں۔پھر یہ عرصہ چھ ماہ ہوا ۔اب ہر چند دنوں کے بعد اکثر اشیاکی قیمتوں میں اضافے کا ایسا سلسلہ چل نکلا ہے کہ سفیدپوش افراد کے لئے دو وقت کا کھانا بھی دشوار سے دشوار تر ہو چکا ہے۔
اس کے ساتھ ہی مختلف نوعیت کی سرکاری وصولیوں کی مقدار اور حدود میں بھی اتنا اضافہ کیا گیا ہے کہ صحیح معنوں میں عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں۔ قیام پاکستان کا بنیادی محرک یہی تھا کہ برصغیر کے مسلمان معاشی طور پر شدیدبدحالی کا شکار تھے اور ان کا یہ یقین پختہ ہو چکا تھا کہ انگریزوں کے جانے کے بعد ہندو اکثریت کے اقتدار میں انہیں مزید برے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔پاکستان بن گیا لیکن چار پانچ سال میں ہی پاکستان بنانے والے رہنماؤں کے منظر عام سے ہٹتے اور ہٹائے جانے کے بعد، ملک میں طبقاتی تقسیم اور بالادستی کو مضبوط کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔آج اس کی بدترین صورتحال ملک اور عوام کے لئے تباہ کن نتائج کے ہولناک خطرات لئے ہوئے ہے۔
ملک کے اقتصادی حالات کو خراب بتاتے ہوئے حکومت یوٹیلٹی بلوں،پیٹرول و دیگر ایسی اشیا میں آئے روز اضافہ کرتی ہے کہ جس اضافے سے شہریوں کو ناقابل برداشت مہنگائی کا شکار ہونا پڑ رہا ہے۔ ملک کی ابتر اقتصادی صورتحال کا جواز پیش کرتے ہوئے بجلی،گیس،پیٹرول وغیرہ اور مختلف نوعیت کے ٹیکسوں کے عنوانات اور مقدار میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف سرکاری تنخواہ پانے والوں کی مراعات میں ہر سال اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔کیا یہ جائز بات ہو سکتی ہے کہ ملکی نظام چلانے والوں اور عام شہریوں کے معیار زندگی میں اتنا زیادہ فرق ہو کہ سرکاری تنخواہ پانے والے اعلی لوگ شاندار سماجی زندگی انجوائے کر رہے ہوں اور عام شہری زندہ رہنے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہوں؟
حکومتی عہدیداران اور اعلی سرکاری افسران کے ٹھاٹھ باٹھ دیکھیں تو وہ شاہانہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ ان کا معیار زندگی اعلیٰ ہوتاہے۔حکومتی عہدیدارو سرکاری افسران کے بنائے قواعد و ضوابط انہی کے مفادات کو یقینی بناتے ہیں۔جج کی تنخواہ و مراعات میں ایک انوکھا فارمولہ اپنایا جاتا ہے کہ جج حضرات کی تنخواہیں اتنی زیادہ رکھی جائیں کہ وہ کرپشن کا سوچ نہ سکیں اور پوری دلجمعی سے انصا ف کی فراہم کریں۔پھرتو ہر شعبے کے افراد کی تنخواہیں اتنی زیادہ ہونی چاہئیں کہ وہ پوری دلجمعی سے اپنے فرائض سرانجام دیں اور انہیں کرپشن کی ضرورت پیش نہ آئے۔
ہر شعبے کے ہر فرد کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے فرائض پوری دیانتداری سے ادا کرے، اپنی ذمہ داری پوری کرنا کسی پہ احسان نہیں ہوتا بلکہ اپنے عہدے اورتنخواہ کے مطابق فرائض کی انجام دہی ہوتا ہے۔انسان کی شکل والوں کو انسان ہی سمجھا جاتا ہے،انسانوں کا تعلق مختلف شعبوں سے ہوتا ہے، اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر شعبے سے منسلک افراد اپنے شعبے سے متعلق فرض،ذمہ داری اور اخلاقی اصولوں پر سختی سے کاربند رہیں۔
پاکستان کا سماجی،سیاسی،حکومتی،سرکاری،ہر شعبہ غلامانہ طرز عمل کی مثال ہے۔ملک پہ گراں قرضوں اور امیر و غریب کے خوفناک فرق کے پیش نظر بھی معاشی مساوات قائم کرنا ملکی سلامتی اور بقاکے لئے ناگزیر ہو چکا ہے۔اس حوالے سے ایک اہم اقدام تو یہ ہو سکتا ہے کہ حکومتی عہدیداران اور سرکاری افسران کی تنخواہوں اور مراعات میں کم از کم پچاس فیصد کمی کی جائے۔اس کے ساتھ ہی اگر یہ پابندی بھی عائد کر دی جائے کہ تمام سرکاری تنخواہ پانے والے(چاہے وہ حکومتی عہدیدار ہوں یا کسی بھی ادارے سے منسلک) اپنا علاج صرف سرکاری ہسپتالوں سے کرا سکتے ہیں اور ان کے بچے صرف سرکاری تعلیمی اداروں سے ہی تعلیم حاصل کریں گے۔ تو یقین کیجئے کہ پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں اور سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار چند ہی دنوں میں نجی شعبے سے بھی بہتر ہو جائے گا۔
ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ بھولے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے سنسنی خیز موضوعات کو خبر بنادیاجاتا ہے۔ حالانکہ سیاسی، حکومتی اور پاکستان کے علاقائی و عالمی کردار پر بات کرنے اور رائے عامہ بنانے کی ضرورت ہے۔